بند کریں
صحت صحت کی خبریںوڈھ،واحد سرکاری ہسپتال رورل سینٹر کے تمام میڈیکل آفیسرز کی پوسٹیں خالی

صحت خبریں

وقت اشاعت: 19/12/2014 - 21:09:32 وقت اشاعت: 19/12/2014 - 20:35:45 وقت اشاعت: 19/12/2014 - 20:31:15 وقت اشاعت: 19/12/2014 - 20:28:32 وقت اشاعت: 19/12/2014 - 20:16:15 وقت اشاعت: 19/12/2014 - 18:55:00 وقت اشاعت: 19/12/2014 - 18:47:03 وقت اشاعت: 19/12/2014 - 18:26:16 وقت اشاعت: 19/12/2014 - 17:50:18 وقت اشاعت: 19/12/2014 - 17:42:41 وقت اشاعت: 19/12/2014 - 16:59:39

وڈھ،واحد سرکاری ہسپتال رورل سینٹر کے تمام میڈیکل آفیسرز کی پوسٹیں خالی

وڈھ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 19 دسمبر 2014ء) بیلہ اور خضدار کی سنگم پر واقع صوبائی حکومت کی نظروں سے اوجھل واحد سرکاری ہسپتال رورل سینٹر وڈھ کے تمام میڈیکل آفیسرز کی پوسٹیں خالی،کسی بھی معمولی حادثہ کی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹMLC کیلئے لوگوں کو خضدار کے ڈاکٹروں کی ہفتوں تک منتیں کرتے کرتے سرٹیفکیٹ لیتے ہیں تاہم وہ مذکورہ ڈاکٹر کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ انہیں سمپل سرٹیفکیٹ فراہم کریں یا گریوئس ،چار مقامی میڈیکل آفیسرز آر ایچ سی وڈھ میں ڈیوٹی دینے سے نامعلوم وجوہات کی بناء پر گریزاں تاہم اب تک ان کی مجبوری معلوم نہیں ہو پارہی کہ قریبی ہسپتال میں ڈیوٹی نہ دینا ان کی کونسی مجبوری ہے لوئر اسٹاف کی وجہ سے آرایچ سی وڈھ میں ڈیوٹی دینے سے قاصر ہیں یا دور کی ہسپتالوں میں جاکر ڈیوٹی دینا ان کا مشغلہ ہے ۔

۔؟ یہ تو وہ (ڈاکٹر ز ) خود ہی بتاسکیں گے اس کے علاوہ دیگر علاقوں سے آنے والے ڈاکٹر صاحبان ایک ہفتے تک نہیں ٹکتے ہسپتال میں صرف ایک میڈیکل آفیسر ہفتے میں چار دن مشکل سے کام کررہا تھا لیکن ضلعی منتظم صحت کو وہ بھی راس نہ آئی کہ ان کا تبادلہ کرکے ہسپتال کر مزید ویران کردیا بے بس عوام اپنی فریاد کہاں لے کے جائے زمین سخت آسمان دورہسپتال زندگی کے تمام بنیادی سہولتوں خاص طور پر میڈیکل آفیسر ز کی عدم دستیابی سے ضلعی انتظامیہ صحت با الخصوص صوبائی حکومت کے بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے گزشتہ کئی سالوں سے حاکموں نے وڈھ کے واحد ہسپتال کو دانستا بھو ل چکے ہیں کوئی مناسب کوٹہ دوائی کا دے رہا ہے اور نہ ڈاکٹروں کی سیٹوں پورا کرتی ہے پورا ہسپتال بغیر میڈیکل آفیسر کے کھنڈرات کی شکل میں تبدیل ہوچکی ہے ڈاکٹر زنہ ہونے کی وجہ سے پورا ہسپتال لوئر اسٹاف کے رحم کرم پر ہے نیشنل ہائی وے پر کوئی حادثہ کی صورت میں مریضوں کو اگر لوئر اسٹاف فرسٹ ایڈ دیکر ڈیل کرسکتا ہے لیکن دوسری سہولت نہ ہونے کی وجہ سے سارا محنت بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ہسپتال کے اندر مریضوں کو اسپرو کی گولی اور نہ ہی حادثہ میں زخمی ہونے والے کی زخموں کو ٹانکہ لگانے کیلئے سوئی دستیاب ہے، کسی بھی ٹریفک حادثے یا لڑائی جھگڑا میں زخمی ہونے والے کی میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ MLCکے لئے خضدار کے ڈاکٹروں کی منتیں کرنا پڑتی ہے اگر انہیں مذکورہ ڈاکٹر سرٹیفکیٹ جاری کرتے تو وہ بڑی مشکل سے اور اپنی مرضی کے مطابق وہ عدالتوں میں کسی کام کے نہ ہوتے ۔

عوامی حلقوں کی جانب سے متعد د بار احتجاج کے باوجود حکمرانوں کے کانوں تک جوں تک نہیں رینگتی ،مریض بے چارے سرکاری ہسپتا ل کو بھول کر پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں جبکہ جیب کی طرف سے اجازت نہ ملنے پر غربت کے مارے بے چارے اپنے اپنے مریضوں کو آنسو پونچھتے ہوئے مایوس لوٹ کر واپس لے جاتے ہیں گزشتہ دور حکومت نے جاتے جاتے وڈھ ہسپتا ل کوسول کا درجہ دینے کی منظوری دیکر اخبارات میں اپنے نام چھپواتو دئیے لیکن ہسپتال بہتری کی بجائے مزید کھنڈرات میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔

اور تین سال کا گزر گئے نہ کوئی ڈاکٹر آیا اور نہ ہی ہسپتال کی ترقی ہوسکی ۔ عوامی حلقوں کی جانب سے صوبائی سیکرٹری صحت اور ڈپٹی کمشنر خضدار سے اپیل کی گئی ہے وہ وڈھ کے مقامی ہسپتال کی حالات پر رحم کھاکر عوام کو انصاف فراہم کریں۔

19/12/2014 - 18:55:00 :وقت اشاعت