بند کریں
صحت صحت کی خبریںپھیپھڑوں کی تنگی کا دائمی مرض(سی او پی ڈی) ملک میں اموات کی بڑی وجہ بن جائے گا، ڈاکٹر انجم نوید

صحت خبریں

وقت اشاعت: 23/12/2014 - 21:15:08 وقت اشاعت: 23/12/2014 - 20:55:51 وقت اشاعت: 23/12/2014 - 20:37:38 وقت اشاعت: 23/12/2014 - 20:19:26 وقت اشاعت: 23/12/2014 - 20:16:32 وقت اشاعت: 23/12/2014 - 20:14:42 وقت اشاعت: 23/12/2014 - 18:24:42 وقت اشاعت: 23/12/2014 - 18:18:36 وقت اشاعت: 23/12/2014 - 18:18:36 وقت اشاعت: 23/12/2014 - 15:50:47 وقت اشاعت: 23/12/2014 - 15:44:07

پھیپھڑوں کی تنگی کا دائمی مرض(سی او پی ڈی) ملک میں اموات کی بڑی وجہ بن جائے گا، ڈاکٹر انجم نوید

کراچی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 دسمبر 2014ء ) ملک میں دیگر امراض سے ہونے والی اموات کے مقابلے میں پھیپھڑوں کی تنگی کا دائمی مرض(سی او پی ڈی) اموات کی بڑی وجہ بن جائے گا کیونکہ اس کا تعلق بلا واسطہ تمباکو نوشی اور آلودگی سے ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر انجم نوید جمال ، اسسٹنٹ پروفیسر ، ہیڈ آف پلمونالوجی ڈیپارٹمنٹ، ملتان انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے ایک بیان میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ سی او پی ڈی کے حوالے سے اموات کے بارے میں اعداد و شمار کی عدم دستیابی بھی اس کے تیزی سے بڑھنے کی ایک وجہ ہے۔ اس مرض کی علاج سے روک تھام ممکن ہونے کے باوجود اسے اہمیت نہیں دی جاتی اور علامات کو دیگر سانس کی بیماریوں کی علامات سمجھ لیا جاتا ہے، لہذا پاکستانی طبی ماہرین اعداد و شمار کی غیرموجودگی کی وجہ سے مرض کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آلودگی کے ذرات جیسے دھواں، مٹی، ریت، پولن اور ان کے سانس کی نالیوں میں باآسانی تنفس کے ذریعے داخل ہونے کی صلاحیت صحت کو درپیش خطرات کے بڑے عوامل ہیں۔ اس کے علاوہ سماجی، معاشی رہن سہن، معیار زندگی، ناخواندگی، اپنا علاج خود کرنے کی عادت، معلومات کی عدم دستیابی اور آلودگی اس مرض کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ سگریٹ پینے والے افراد کو بیماری کا دوگنا خطرہ لاحق ہوتا ہے تاہم وہ ہجوم میں بیٹھ کر دیگر تمباکو نوشی نہ کرنے والے لوگوں کو بھی برابر نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ اسی طرح فضائی آلودگی بھی تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کے لیے اُتنی ہی نقصان دہ ہے جتنی تمباکو نوشی خطرناک ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال گھریلو آلودگی جو مختلف عوامل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے تقریباً 20 لاکھ سے زائد لوگوں کی وقت سے پہلے ان کی جان لے لیتی ہے۔

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی کہ ایسا فرد جو طویل عرصے سے آلودگی کا شکار رہا ہو وہ بیماری کا شکار ہوچکا ہو۔ اس لیے ایسے افراد جو کافی عرصے سے آلودگی میں گزارہ کررہے ہیں انہیں مرض کی تشخیص کے لیے معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ گھریلو آلودگی غریب ملکوں میں بڑی تباہی کا سامان پیدا کررہی ہے۔ ان ممالک میں عوام غربت، دیہاتوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی، پلاسٹک کی تھیلیوں کا استعمال جو جلنے کے دوران زیادہ آلودگی پیدا کرتی ہیں،چولہے سے خارج ہونے والا کالا دھواں، آلودگی کے ذرات جیسے عوامل کی وجہ سے آلودگی سے زیادہ دوچار ہیں۔

گھریلو آلودگی کے باعث سی او پی ڈی کی وجہ سے ایک تہائی سے زیادہ وقت سے پہلے ہونے والی اموات واقع ہوتی ہیں۔ اسی طرح ترقی پزیر ممالک میں تمباکو نوشی کی عادت کے باعث خواتین کے مقابلے میں مردوں کو پھیپھڑوں کی تنگی کا دائمی مرض(سی او پی ڈی) کا دو گنا خطرہ درپیش ہے۔ اسی طرح ایسے مرد جو تمباکو نوشی بھی کرتے ہیں اور آلودہ طرز زندگی میں گزر بسر کرتے ہیں ان کو سی او پی ڈی سے وقت سے پہلے اموات کا دو گنا خطرات درپیش ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح بیرونی فضائی آلودگی بھی ہر سال ترقی پزیر غریب ملکوں اور ترقی یافتہ ملکوں میں تقریباً 13 لاکھ سے زائد لوگوں کی وقت سے پہلے اموات کی وجہ بن جاتی ہے۔پاکستان میں غیر ملکی فنڈ سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق جس میں دمہ اور سی او پی ڈی کی بنیادی صحت کے مراکز کے ذریعے علاج فراہم کرنا اور اثرات کو معلوم کرنا تھا ، اس تحقیق سے پتہ چلا کہ نان کمیونی کیبل ڈیزیسز(این سی ڈی) اموات اور معذوری کی دس بڑی وجوہ میں سرفہرست ہیں۔

مریضوں کو چاہیے کہ وہ اپنے روزمرہ اور عادات کو اہمیت دیں، انہیں چاہیے کہ وہ تمباکو نوشی، آلودگی، کیمیائی دھواں اور دھول، مٹی وغیرہ سے دور رہیں۔ جب ایک بار سی او پی ڈی کی تشخیص ہوجائے تو روزانہ کی ادویات ضرور استعمال کریں ان میں انہیلرز بھی شامل ہیں۔ سی او پی ڈی ایک دائمی مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ اس کا توڑ صحت مند طرز زندگی اور علاج ہے۔

دیگر عام امراض میں سانس کے امراض سب سے زیادہ پائے جاتے ہیں جو 26.5 فیصد ہیں۔ ایک لاکھ میں سی او پی ڈی سے ہونے والی اموات کی شرح 71 اموات ہیں جو دنیا کے 25 گنجان ترین ممالک میں اموات کی چوتھی بڑی وجہ ہے۔ دمہ کی شرح 15 فیصد ہے جس میں ہر سال پانچ فیصد کا اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں صاف آلودگی سے پاک فضا کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوگا اس سے پانچ سال سے چھوٹے بچے اور ضعیف عمررسیدہ افراد کو تحفظ ملے گا اور خطرات کے حامل عوامل بھی کم ہوجائیں گے۔

ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ چھوٹے بچے اور خواتین جو زیادہ تر گھروں پر وقت گزارتی ہیں انہیں گھریلو آلودگی کا زیادہ خطرہ درپیش ہوتا ہے اس لیے انہیں چولہے سے خارج ہونے والے دھویں اور لکڑی سے جلنے والے چولہے کے دھوئیں سے دور رکھنا ضروری ہے۔

23/12/2014 - 20:14:42 :وقت اشاعت