چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری وفد کے ہمراہ سرکاری دورے پر اومان پہنچ گئے، پرتپاک خیر مقدم

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 24 دسمبر 2014ء) اومان سینیٹ کونسل کے چیئر مین ڈاکٹر یحییٰ بن محفوظ المنتظری کی خصوصی دعوت پرچیئر مین سینیٹ سید نئیر حسین بخاری وفد کے ہمراہ سرکاری دورے پر اومان پہنچے جہاں انکا پر تپاک خیر مقدم کیا گیا۔ چیئر مین سینیٹ سید نئیر حسین بخاری اومانی قیادت کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور کے علاوہ تجارتی تعلقات کو مزید بہتر بنانے اور دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے ممبران کے رابطوں کو مضبوط بنانے کیلئے مذاکرات کرینگے ۔

چیئر مین سینیٹ سید نئیر حسین بخاری نے اومان پہنچنے کے بعد ٹائم آف اومان کو انٹرویو دیتے ہوئے ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے لاہور میں منعقدہ اجلاس میں اومان کے پارلیمانی وفد کی مبصر کے طور پر شرکت کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اگلے اجلاس میں اومان باقاعدہ رکن کے طور پر کانفرنس میں شرکت کریگا۔

(جاری ہے)

چیئر مین سینیٹ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پاکستان کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔

50ہزار فوجی و سول شہری شہید ہو چکے ہیں ۔عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹوکو بھی دہشت گردوں نے شہید کیا اور سینکڑوں سیاسی کارکن و ممبران پارلیمنٹ بھی دہشت گردوں کا نشانہ بنے دنیا کو پاکستان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کی حمایت میں آگے بڑھنا ہو گا اور خطے کے تمام ممالک کو قیام امن کیلئے اپنا کردار بھی ادا کرنا ہوگا۔

چیئر مین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری نے مذید کہا کہ افواج پاکستان دہشت گردوں کے خلاف بھر پور اور فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہے اور سیاسی قیادت بھی دہشت گردی کے خاتمے کے عزم میں متحد ہے اور پوری قوم مسلح افوا ج کی پشت پر ہے ۔ افواج پاکستان ،سیاسی قیادت اور قوم کے اتحادسے دہشت گردوں کیلئے سرزمین پاکستان تنگ کر دی جائیگی۔چیئر مین سینیٹ سید نئیر حسین بخاری نے کہا کہ سزائے موت پر عمل درآمد سے دہشت گردی کے مجرموں کو نشان عبرت بنایا جا رہا ہے اور کہا کہ عدالتی نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔

چیئر مین سینیٹ سید نئیر بخاری نے افغانستان کے صدر اشرف غنی کے اس بیان کا خیر مقدم کای جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سر زمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں میں استعمال نہیں ہونے دیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھی افغانستان کو اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے یقین دہانی کرائی ہے ۔ہم ایک دوسرے کی مشکلات کو سمجھنے اور ایک دوسرے کے خلاف رکاوٹیں دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

Your Thoughts and Comments