بند کریں
صحت صحت کی خبریںلاہور میں مضر صحت پانی کی سپلائی کے باعث لاکھوں مکین جان لیوا بیماریوں کا شکار ہوگئے

صحت خبریں

وقت اشاعت: 05/07/2007 - 18:17:42 وقت اشاعت: 03/07/2007 - 22:43:02 وقت اشاعت: 03/07/2007 - 14:58:31 وقت اشاعت: 03/07/2007 - 12:08:17 وقت اشاعت: 02/07/2007 - 13:52:24 وقت اشاعت: 01/07/2007 - 22:18:42 وقت اشاعت: 01/07/2007 - 12:47:41 وقت اشاعت: 28/06/2007 - 19:00:53 وقت اشاعت: 26/06/2007 - 15:51:57 وقت اشاعت: 24/06/2007 - 11:44:05 وقت اشاعت: 23/06/2007 - 20:53:48

لاہور میں مضر صحت پانی کی سپلائی کے باعث لاکھوں مکین جان لیوا بیماریوں کا شکار ہوگئے

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔1جولائی۔2007ء )لاہور کے لاکھوں مکین پانی کے ناقص استعمال کی وجہ سے ہمہ وقت جگر کے سرطان، گردوں، جلد، پھیپھڑوں، وزن کی کمی، جلد کی رنگت کی تبدیلی، معدے کی خرابی، قے، پیچش، بے ہوشی، وزن کی کمی، ہیپاٹائٹس اے اور سانس کی بیماریوں کی زد میں ہیں رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب کا دارالحکومت لاہور جو آبادی کے لحاظ سے ملک کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے کے لاکھوں مکین ناقص پانی کے استعمال کی وجہ سے اس وقت بیک وقت مختلف قسم کی جان لیوا بیماریوں کا شکار ہیں ان میں گرد دوں جلدپھپھٹروں اور جگر کے سرطان ،وزن کی کمی،جلد کی رنگ کی تبدیلی ،معدے کی خرابی، قے، پیچش، بے ہوشی، وزن کی کمی ہیپاٹائٹس اے اور سانس کی بیماریوں کے علاوہ کئی اور بیماریاں شامل ہیں تفصیلات کے مطابق "پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈ واٹر ریسورس" کی ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں 73فیصد شہریوں کو مہیا کیا جانا والا پانی جسے پینے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے نہ صرف صحت بخش پانی کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معیار پر پورا نہیں اترتا بلکہ کئی خوفناک اور مہلک امرا ض پھیلانے کا سبب بھی بن رہا ہے مذکورہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہر میں دستیاب پانی قدرتی طور پر بعض ضروری بنیادی اجزاء سے محروم ہونے کے باعث صحت کیلئے انتہائی مضر ہے اور اس میں آلودگی کا تناسب اس قدر زیادہ ہے کہ ٹریٹمنٹ پلانٹ سے گزرے بغیر اسے کسی طور پر انسانی استعمال کے قابل نہیں بنایا جا سکتا ہے رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شوکت عزیز کی جانب سے" پاکستان کونسل آف ریسرچ اینڈ واٹر ریسورس "کو تمام بڑے شہروں کے پینے کے پانی کی کوالٹی چیک کرنے کا پراجیکٹ سونپا گیا ہے جس کے تحت مذکورہ ادارے نے لاہور شہر سے گوہر آباد ٹیوب ویل شالیمار ٹاؤن، سلطان پور ہ ٹیوب ویل نزد چاہ میران شاہ، علی پارک ٹیوب ویل 1فورٹ روڈ، اولڈ شاہدرہ ٹاؤن سینٹر ٹیوب ویل، گول باغ ٹیوب ویل وحدت کالونی، گورومنگٹ ٹیوب ویل گلبرگ تھری، ٹیوب ویل کنٹونمنٹ بورڈ اصغری فلیٹس، ٹیوب ویل طفیل روڈ صدر بازار، ٹیوب ویل بارہ راوی بلاک علامہ اقبال ٹاؤن، ٹیوب ویل فیڈر ل لاج چمبہ ہاؤ س، پی سی ایس آر ہاؤسنگ سوسائٹی کینال بنک روڈ، ایل ڈے اے فلیٹس بالمقابل فیصل ٹاؤن غوثیہ مسجد، ٹیوب ویل ریورز گارڈن، فاروق کالونی والٹن روڈ پولیس لائن، پنجاب گورنمنٹ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی اورگورنمنٹ ہاؤسنگ سکیم ٹاؤن شپ ون اے سے زیادہ سے زیادہ گہرائی سے پانی کے نمونے حاصل کرنے کی غرض سے تمام ٹیوب ویلز کو دس دس منٹ تک چلایا گیا یوں لاہور کے 16 مقامات سے پانی کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری رپورٹ کیلئے بھیجا گیا مگررپورٹ کے مطابق بدقسمتی سے ان تمام مقامات کا پانی ناقابل استعمال اور مضر صحت پایا گیا ہے لیبارٹری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ پانی کے نمونوں میں 63فیصد کولی فارمز، 50فیصد ای کولی 100فیصد آر سینک ارو 56فیصد فولاد کی زیادتی پائی گئی ہے فولاد کی پانی میں موجودگی کی حد 0.3ایم جی فی لیٹر ہے اس سے زائد فولاد جسم میں مختلف بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے عالمی ادارہ صحت کے مطابق فی لیٹر 1ایم جی فولاد کی موجودگی پانی کے ذائقے کی خرابی کا باعث بنتی ہے اور اس کی زیادتی کی صورت میں وزن کی کمی، سر درد، قے، جلد کی رنگت کی تبدیلی اور سانس کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کولی فارمز دراصل بیکٹریا کی ایک قسم ہے جو پانی کی آلودگی کا باعث بنتی ہے اس پانی میں موجودگی مہدے کی شدید خرابی کا باعث بنتی ہے بین الاقوامی ادارہ صحت نے کولی فارمز سے مکمل طور پر پاک پانی کو صحت کیلئے مناسب قرار دیا ہے جبکہ لاہور کے پانی میں کولی فارمز کی مقدار 63فیصد پائی گئی ای کولی یک خلوی جاندار ہیں جن کی پانی میں موجودگی کی وجہ سے پیٹ میں مروڑ، پیچش اور دیگر پیٹ کی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں اس ای کولی کی تھوڑی سی مقدار کی پانی میں موجودگی بھی خطرے سے خالی نہیں ہے بلکہ مذکورہ نمونوں میں ای کولی کی مقدار 50فیصد پائی گئی ہے اس کی پانی میں موجودگی کی وجوہات غیر معیاری پائپ لائنز، نکاسی آب کے نامناسب طریقے اور گندگی وغیرہ ہیں آر سینک ایک غیر نامیاتی بے ذائقہ، بے رنگ اور بے بو عنصر ہے جو کے مٹی اور سطحی پانی میں موجود ہوتا ہے اس کی پانی میں موجودگی کے باعث معدے کی خرابی، قے، پیچش، بے ہوشی، پیپھڑوں، گردوں، دل اور جگر کا سرطان ہو سکتا ہے اس کی 10PPBسے زائد مقدار کے استعمال کو ڈبلیو ایچ او نے خطرناک قرار دیاہے جبکہ لاہور کے پانی میں آر سینک کی مقدار 100فیصد پائی گئی ہے یہاں یہ امر واضح رہے کہ مذکورہ16 ٹیوب ویلوں سے شہر کے بیشتر حصوں کو پانی سپلائی کیا جاتا ہے۔


01/07/2007 - 22:18:42 :وقت اشاعت