بند کریں
صحت صحت کی خبریںغیرمعیاری بلڈبنکوں کے خلاف کارروائی کا آغاز لاہور سے کیا جائیگا‘ سیکرٹری صحت پنجاب

صحت خبریں

وقت اشاعت: 27/12/2014 - 20:10:25 وقت اشاعت: 27/12/2014 - 17:40:33 وقت اشاعت: 27/12/2014 - 16:33:16 وقت اشاعت: 27/12/2014 - 15:59:52 وقت اشاعت: 27/12/2014 - 15:00:01 وقت اشاعت: 27/12/2014 - 14:17:30 وقت اشاعت: 27/12/2014 - 14:03:41 وقت اشاعت: 27/12/2014 - 14:03:25 وقت اشاعت: 27/12/2014 - 13:33:17 وقت اشاعت: 27/12/2014 - 13:27:15 وقت اشاعت: 27/12/2014 - 11:08:10

غیرمعیاری بلڈبنکوں کے خلاف کارروائی کا آغاز لاہور سے کیا جائیگا‘ سیکرٹری صحت پنجاب

لاہور ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 27 دسمبر 2014ء )سیکرٹری صحت پنجاب جواد رفیق ملک نے ہدایت کی ہے کہ مریضوں کو شفاف اور صحت مند خون کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے تمام بلڈ بنکس کی رجسٹریشن کیلئے اقدامات کو تیزکیا جائے، انہوں نے ہدایت کی کہ یکم جنوری سے غیرمعیاری اور رجسٹریشن کیلئے بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی میں درخواستیں جمع نہ کرانے والے بلڈ بنکس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا آغاز کیا جائے اور پہلے مرحلہ میں اس کام کا آغاز لاہور سے کیا جائے۔

انہوں نے یہ بات برڈوڈ روڈ پربلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے آفس میں یکم جنوری سے غیر معیاری بلڈ بنکس کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرنے کے سلسلہ میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر) محمد عثمان، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ (ٹیکنیکل) ڈاکٹر سلمان شاہد، جرمن کنسلٹنٹ برائے بلڈ ٹرانسفیوژن پال کوہرٹ ، سیکرٹری بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی ڈاکٹر جعفر سلیم، ڈاکٹر جویریا، محکمہ صحت کے لیگل آفیسر اور پولیس افسران نے شرکت کی۔

اس موقع پر جرمن کنسلٹنٹ پال کوہرٹ نے کہا کہ خون کا عطیہ دینے کے بارے عوام میں موجود غلط فہمیوں اور غلط نظریات کو دور کرنے کیلئے شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے جس کیلئے آگاہی مہم چلائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بہتر خون کا عطیہ رضاکارانہ طور پر خون دینے والوں کا ہی ہوتا ہے اور ہر صحت مند شخص عام طور پر سال میں 4مرتبہ بآسانی خون کا عطیہ دے سکتا ہے۔

جرمن کنسلٹنٹ نے مزید کہا کہ بلڈ بنکس کی نگرانی کیلئے موٴثر مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے ساتھ سٹاف کی تربیت ضروری ہے۔سیکرٹری صحت نے ہدایت کی کہ لاہور کے تمام ٹاؤنز میں بلڈ بنکس کی چیکنگ کیلئے میڈیکل کالجوں سے ہیماٹولوجسٹس کی خدمات فوری طور پر حاصل کی جائیں اور ضرورت کے مطابق ہر ٹاؤن میں ایک یا دو ہیماٹولوجسٹ بطور بلڈ انسپکٹرز تعینات کیا جائے جن کی معاونت ڈرگ انسپکٹرز کریں گے اور ان کے ساتھ پولیس کے اہلکار بھی ہوں گے۔

انہوں نے ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر) محمد عثمان سے کہا کہ وہ ضلع لاہور میں غیرمعیاری بلڈ بنکس کے خلاف تادیبی کارروائی میں ضلعی افسران کو محکمہ صحت اور بی ٹی اے کے افسران کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایت کریں۔اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ 30دسمبر کو بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی تمام ٹاؤن کیلئے نامزد بلڈ انسپکٹرز (ہیماٹولوجسٹ) اور ڈرگ انسپکٹرز کیلئے ایک روزہ تربیت کا اہتمام کرے گی جس کیلئے ٹریننگ ماڈیولز جرمن کنسلٹنٹ فراہم کریں گے۔ بلڈ بنکس کی چیکنگ کیلئے جانے والے انسپکٹرز کو ایک چیک لسٹ فراہم کی جائے گی جس کے مطابق بلڈ بنکوں کے معیار اور سہولیات کا معائنہ کیا جائے گا۔

27/12/2014 - 14:17:30 :وقت اشاعت