بند کریں
صحت صحت کی خبریں پنجاب کے مختلف علاقوں میں بی ٹی اقسام کی کاشت سے کپاس کے بیماریاں کا انکشاف،
کپاس کی چھڑیاں31جنوری ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 29/12/2014 - 19:08:13 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 16:42:22 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 16:18:35 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 15:50:55 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 15:37:47 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 15:13:18 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 14:14:31 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 13:47:53 وقت اشاعت: 29/12/2014 - 13:16:15 وقت اشاعت: 28/12/2014 - 18:11:51 وقت اشاعت: 28/12/2014 - 17:48:36

پنجاب کے مختلف علاقوں میں بی ٹی اقسام کی کاشت سے کپاس کے بیماریاں کا انکشاف،

کپاس کی چھڑیاں31جنوری تک تلف کردیں ۔ محکمہ زراعت پنجاب

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتاز ترین ۔ 29دسمبر 2014ء) زرعی ماہرین نے کسانوں اور کاشتکاروں کو آگاہ کیا ہے کہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں بی ٹی اقسام کی کاشت سے کپاس کے بیماریاں کا انکشاف ہوا جن میں ڈسکی کاٹن بگ،تھرپس، سفید مکھی اور گلابی سنڈی کی تعداد میں اضافہ نوٹ کیا گیاہے ، کاشت کاروں کوپابند کیا جائے کہ وہ کپاس کی چھڑیاں31جنوری تک تلف کردیں ۔

محکمہ زراعت پنجاب کی طرف سے کپاس کی 24بی اقسام عام کاشت کے لیے سفارش کی گئی ہیں۔بی ٹی اقسام کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی سے آگاہی کے لیے کاشتکاروں کے لیے تربیتی پروگراموں کے علاوہ الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا کو بھی استعمال کیا جارہا ہے ۔ان خیالات کا اظہار مسعود قادر وقار ڈائریکٹر اڈیپٹو ریسرچ پنجاب نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں پیداواری منصوبہ کپاس برائے سال 2014-15کی منظوری بارے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے اور ملکی مجموعی پیداوار کا80فیصد حصہ پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔بی ٹی کپاس کے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ کی وجہ سے پیداوار میں اضافہ ہوا ہے ، اس اجلاس میں خالد محمود ڈائریکٹر کپاس ، ڈاکٹر محمد دل باغ اگرانومسٹ سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان، ڈاکٹر فرخ سلیم اسسٹنٹ پروفیسر اگرانومی ، ڈاکٹر آصف علی اسسٹنٹ پروفیسرپلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ، ڈاکٹر منظور حسین ماہر کپاس نیاب،مختار احمد شیخ اگرانومسٹ ، ڈاکٹر عابد نیاز سائل فرٹیلیٹی آفیسرایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد اور محمد اسحاق لاشاری اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایگری کلچر انفارمیشن، ریسرچ انفارمیشن یونٹ فیصل آباد سمیت زرعی سائنسدانوں نے شرکت کی۔

۔انہوں نے زرعی سائنسدانوں اورزرعی توسیعی آفیسران پر زور دیا کہ وہ ان نقصان رساں کیڑوں کے مربوط طریقہ انسداد بارے کاشتکاروں کو جدیدسفارشات سے آگاہی دیں۔مختار احمد شیخ اگرانومسٹ نے بتایا کہ گزشتہ دوتین سالوں سے کپاس کی اگیتی کاشت منافع بخش نہیں رہی اس لیے کاشتکارموسمی کپاس کو فروغ دیں۔ریاض احمد بھابھہ نائب ماہر حشرات نے بتایا کہ کاشت کاروں کوپابند کیا جائے کہ وہ کپاس کی چھڑیاں31جنوری تک تلف کردیں اورچھڑیوں کی کٹا ئی کے بعد کھیتوں میں بھیڑ بکریاں چرانے کے لیے چھوڑ دیں تاکہ ان بچے کچھے مڈھوں، ٹینڈوں، کھوکھڑیوں،پتوں اور چھڑیوں میں موجود ڈسکی کاٹن بگ ، امریکن اور گلابی سنڈیاں اوران کے پیوپے تلف ہو جائیں۔

کپاس کے بعد گندم کاشتہ کھیتوں میں پہلی آبپاشی کے ساتھ1.5تا 2لیٹرکلور پا ئری فاس فی ایکڑفلڈ کرنے سے امریکن ، گلابی سنڈیاں،ڈسکی کاٹن بگ ،ریڈکاٹن بگ اوردیمک کا خاتمہ ہو جائے گا۔

29/12/2014 - 15:13:18 :وقت اشاعت