بند کریں
صحت صحت کی خبریںنواب شاہ، پیپلز میڈیکل کالج ہسپتال سے نومولود بچہ اغواء ،والدین کا شدید احتجاج

صحت خبریں

وقت اشاعت: 08/01/2015 - 14:45:54 وقت اشاعت: 08/01/2015 - 13:33:32 وقت اشاعت: 07/01/2015 - 23:29:29 وقت اشاعت: 07/01/2015 - 22:10:02 وقت اشاعت: 07/01/2015 - 21:20:36 وقت اشاعت: 07/01/2015 - 20:22:17 وقت اشاعت: 07/01/2015 - 20:03:59 وقت اشاعت: 07/01/2015 - 19:12:27 وقت اشاعت: 07/01/2015 - 18:59:58 وقت اشاعت: 07/01/2015 - 18:55:31 وقت اشاعت: 07/01/2015 - 18:41:04

نواب شاہ، پیپلز میڈیکل کالج ہسپتال سے نومولود بچہ اغواء ،والدین کا شدید احتجاج

نواب شاہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 جنوری 2015ء)پیپلزمیڈیکل کالج اسپتال کے گائنی وارڈ سے نومولود بچہ اغواء کرلیا گیا ۔والدین کا شدید احتجاج ۔تفصیلات کے مطابق بچے کے والد رحمت اللہ چانڈیو نے بتایا کہ وہ مورو شہر کے رہائشی ہیں اس کی بیوی سرداراں کو نواب شاہ پی ایم سی اسپتال کے گائنی وارڈ میں لایا گیا جہاں رات بارہ بجے آپریشن کے بعد بیٹا پیدا ہوا صبح گیارہ بجے ایک عورت آئی جس نے کہا کہ وہ وارڈ کی ماسی ہے بچے کا وزن کرنا ہے اور اس کو ٹیکے لگانے ہے اور بچے کو لے گئی جب وہ واپس نہیں آئی تو معلوم ہوا کہ بچہ اغواء کرلیا گیا ہے ۔

اس موقع پر بچے کے والدین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ عورت آکر بچے کو لے کر گئی اوردروازے پر کھڑے سیکورٹی گارڈ سے بات چیت بھی کی ہمیں شک ہے کہ اسپتال کے سیکورٹی گارڈ اس مسئلے میں شریک ہیں۔اس موقع پر متاثرہ خاتون سرداراں نے روتے ہوئے بتایا کہ عورت جس نے اپنے آپ کو ماسی کہا آئی اور بچے کا اٹھایا کہ وزن کرنا ہے ایک دم بھاگی اسی دوران میری بہن بھی اس کے پیچھے بھاگی مگر وہ رش میں غائب ہوگئی انہوں نے بتایا کہ وارڈ اور اسپتال کو کوئی بھی اہلکار ہماری مدد نہیں کررہا ۔

اس سلسلے میں دوسری جانب گائنی وارڈ کی ڈیوٹی ڈاکٹر طاہرہ نے بتایا کہ متاثرہ عورت آپریشن کے باعث بیڈ پر لیٹی ہوئی ہے اور اس کی بہن اس کے ساتھ ہے عورت آکر بچہ لے جاتی ہے ہم کیا کرسکتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیکورٹی والے کیا کرسکتے ہیں یہاں بہت رش ہوتا ہے بچے آتے جاتے رہتے ہیں سیکورٹی کچھ نہیں کرسکتی۔اس افسوسناک واقعہ کے خلاف شہری اتحاد و سماجی تنظیموں نے بھی پیپلز میڈیکل کالج اسپتال انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے مزید اقدامات کئے جائیں اور سیکورٹی اہلکاروں کی مکمل چھان بین کی جائے تاکہ مستقبل میں مزید کسی ماں کی گود نہ اجڑ سکے اور مذکورہ متاثرہ خاتوں کے غائب ہونے والے بچے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں۔

07/01/2015 - 20:22:17 :وقت اشاعت