سندھ حکومت اور شوگر ملز مالکان کے درمیان گنے کی قیمت کا تنازعہ زور پکڑ گیا،سندھ میں32 شوگر ملوں نے کام روک دیا، آئندہ پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ،

سندھ حکومت نے گنے کی فی40 کلو گرام قیمت182 روپے مقرر کی ہے، جبکہ ملز مالکان نے اسے مسترد کر کے قیمت150روپے مقرر کر نے کا مطالبہ کیا، وزارت خوراک

کراچی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 جنوری 2015ء)سندھ حکومت اور شوگر ملز مالکان کے درمیان گنے کی قیمت کا تنازعہ زور پکڑ گیا، جس کے باعث گنے کی آئندہ پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ ہے ، سندھ میں32 شوگر ملوں نے کام روک دیا، جس کے باعث19 لاکھ ٹن پیدواری نقصان کا خدشہ ہے،تفصیلات کے مطابق سندھ میں گنے کی قیمت کا معاملہ مزید گھمبیر اور بحران کی شکل اختیارکرگیا ہے۔

سندھ کے شوگر ملز مالکان اپنی مرضی کی قیمت پر گنا خریدانے کیلئے اڑگئے ہیں جبکہ اس رویے کے باعث گنے کے کاشت کار رل گئے ہیں۔سندھ کی32 شوگر ملوں نے عدالتی احکامات کو بھی ہوا میں اڑا کرگنے کی خریداری بندکررکھی ہے۔عدالت عالیہ سندھ نے گنے کا ریٹ 182روپے فی من برقرار رکھا ہے،جبکہ شوگر ملیں 155روپے فی من گنا خریدنا چاہتی ہیں۔

(جاری ہے)

حکومت سندھ شوگرملز مالکان کے سامنے بس نظر آتی ہے۔

تاخیرکے باعث سندھ میں 40کروڑ من گنا پڑے پڑے سوکھ رہا ہے جس سے وزن میں کمی کے باعث کاشت کاروں کوکروڑوں روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے۔تنازعہ ابھی جاری ہے جبکہ سیاست دان بھی اس تنازعے میں کود پڑے ہیں۔ وزارت خوراک کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے گنے کی فی40 کلو گرام قیمت182 روپے مقرر کی ہے، جبکہ ملز مالکان نے اسے مسترد کر کے قیمت150روپے مقرر کر نے کا مطالبہ کیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ گنے کی قیمتوں کے تنازعے کا اثر آئندہ سیزن کے لئے کاشت میں تاخیر اور کاشت پر پڑے گا، کاشتکار چاول، دالیں اور سورج مکھی سمیت خریف کی دوسری فصلوں کی جانب راغب ہوجائیں گے۔

Your Thoughts and Comments