بند کریں
صحت صحت کی خبریںنصیرآباد، جعفرآباد اور جھل مگسی میں خوراک کی کمی و صاف پانی نہ ہونے سے سیلاب سے متاثرہ افراد ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 11/07/2007 - 16:55:32 وقت اشاعت: 10/07/2007 - 23:13:21 وقت اشاعت: 10/07/2007 - 18:40:45 وقت اشاعت: 09/07/2007 - 19:34:15 وقت اشاعت: 08/07/2007 - 14:34:12 وقت اشاعت: 07/07/2007 - 22:25:24 وقت اشاعت: 06/07/2007 - 23:24:01 وقت اشاعت: 06/07/2007 - 14:45:38 وقت اشاعت: 05/07/2007 - 20:21:42 وقت اشاعت: 05/07/2007 - 18:17:42 وقت اشاعت: 03/07/2007 - 22:43:02

نصیرآباد، جعفرآباد اور جھل مگسی میں خوراک کی کمی و صاف پانی نہ ہونے سے سیلاب سے متاثرہ افراد میں پیٹ اورجلد کی بیماریاں پھیل گئیں

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔7جولائی۔ 2007ء)بلوچستان کے دوسرے علاقوں کی طرح نصیرآباد، جعفرآباد اور جھل مگسی میں خوراک کی کمی اور پینے کا صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے سیلاب سے متاثرہ افراد میں پیٹ اورجلد کی بیماریاں پھیل گئی ہیں جس سے متاثرہونے والی درجنوں خواتین اوربچوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق سیلاب کے دس دن گزرنے کے باوجود ان علاقوں میں اکثر لوگ ابھی تک بنیادی امداد سے محروم ہیں اور ان کی مشکلات کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ لوگ پہلے سے ہی غریب تھے۔

جبکہ دوسری جانب حکومت صوبے کے دور دراز متاثرہ علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کا بھی استعمال کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ پانی میں پھنسے ہوئے لوگوں کونکالنے کے لئے کشتیوں سے بھی کام لیا جارہا ہے۔علاقے کی پیس نامی ایک سماجی تنظیم کی خاتون سربراہ یاسمین لہڑی نے کہا کہ یہ کشتیاں چپو سے چلتی ہیں۔کشتیوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے ہزاروں افراد کو فوری طور پر باہر نہیں نکالا جاسکاکیونکہ ہاتھ سے چلنے والی یہ کشتیاں جھل مگسی میں صرف ایک چکر لگانے میں پانچ گھنٹے سے زیادہ وقت لیتی ہیں۔

اس سے لوگوں کومحفوظ مقامات پر لانے میں اب بھی کئی دن لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب ضلعی حکام کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ لوگوں میں اب تک تین ہزار تلے خوراک تقسیم کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ ایکشن ایڈ، ایس پی اواور پیس جیسی تنظیمیں علاقے میں متاثرین کیلئے کام کر رہی ہیں مگران کا کام بھی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔کیونکہ یہ کہا جارہا ہے کہ حکومت کے پاس امداد کے لئے ایک بڑا انتظام موجود ہے جس کوحرکت میں لانے کی ضرورت ہے۔

سماجی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگرحکومت نے ہنگامی بنیادوں پرفوری اقدامات نہ اٹھائے توجانی نقصان کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ بی بی سی رپورٹ کے مطابق جعفرآباد کے تحصیل اوستہ محمد کے ہیڈ باغ کے مقام پر سیلاب سے متاثرہ افراد کی ایک بڑی تعداد نے کیمپ بنا رکھا ہے۔ ان میں زیادہ ترلوگوں نے کمبلوں اور پرانے کپڑوں کو چارپائیوں پرڈالکر ایک عارضی خیمہ بستی قائم کی گئی ہے جہاں ان کے پاس نہ توکھانے کیلئے کچھ ہے اور نہ ہی سرچھپانے کیلئے ان کے پاس وہ خیمے ہیں جس میں وہ شدید گرمی کی تپش سے محفوظ رہ سکیں۔

علاوہ ازیں متعدد متاثرہ علاقوں میں سیلاب کے بعد بجلی بھی تاحال بحال نہیں کی جاسکی ہے جس سے متاثرین کے ساتھ ساتھ سیلاب سے محفوظ لوگوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔علاقے کے لوگوں نے شکایت کی کہ ایک توحکومت کی جانب سے انہیں ایک وقت کا کھانا ملتا ہے اوردوسرا یہ کہ جب کھانا تقسیم ہورہا ہوتا ہے تواس وقت ان پر فوج کی جانب سے لاٹھی چارج ہوتا ہے۔

ایک متاثرہ شخص نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا گاوٴں مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور وہ خود چندہ کر کے گزارہ کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کے ساتھ کوئی امداد نہیں کی جارہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ابھی تک انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے ان کی داد رسی کیلئے کوئی نہیں آیا ہے، صرف ایک دن سابق وزیراعظم پاکستان میرظفراللہ جمالی آئے تھے۔

انہوں نے امداد کے طور پر متاثرہ لوگوں کو کچھ نقدی بھی دی۔ دوسری جانب سیلاب زدہ علاقوں بولان، نصیرآباد، جعفرآباد، جھل مگسی اورگنداوہ میں ہزاروں افراد امداد کے منتظر ہیں ۔انہوں نے شکایت کی کہ ان کے لئے دوسرے مخیر حضرات جب امداد لاتے ہیں تو وہ امدادی کارروائیوں کے لئے آنے والے اہلکار اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔علاقے کے ایک اور متاثر ہ شخص نے بتایا کہ لوگوں کیلئے یہاں امداد تو آتی ہے مگراس کی صحیح تقسیم نہیں ہو رہی ہے جس کی وجہ یہاں لوگ خود کشی کرنے پرمجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین کو ٹینٹ نہیں مل رہے ہیں جسکی وجہ سے بچوں اورخواتین کی حالت خراب ہوتی جا رہی ہے۔ ادھر جھل مگسی میں دس دن گزرنے کے باوجود لوگ پانی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ان کو نکا لنے کیلئے حکومت ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا دعویٰ توکر رہی ہے مگر باغ ہیڈ کے مقام پر موجود متاثرہ لوگوں نے کہا کہ ابھی تک جھل مگسی کی جانب کوئی نہیں گیا ہے جس کی وجہ سے وہا ں پھنسے ہوئے ہزاروں افراد کی زندگیوں کیلئے خطرہ بڑھتا جارہا ہے۔

گنداوہ اورجھل مگسی میں ابھی تک ہزاروں کی تعداد میں لوگ سیلابی پانی میں پھنسے ہوئے ہیں جن کونکالنے کیلئے حکومت سے مسلسل ہیلی کاپٹروں کی اپیل کی جارہی ہے۔ ان علاقوں کے بعض متاثرین کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے امدادی کاموں میں تاخیر کی توجھل مگسی اورگنداوہ میں بڑی جانی نقصان کا امکان ہے کیونکہ وہاں مختلف بیماریاں پھیل چکی ہیں۔ہیڈباغ کے امدادی کیمپ میں موجود ڈاکٹر یار محمد سومرو نے بی بی سی کو بتایا کہ جب جھل مگسی کا راستہ کھل جائے گا تومریضوں کی تعداد میں کئی گناہ اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ اب بھی ان کے کیمپ میں تین سو سے ساڑھے تین سو لوگ علاج کیلئے روزانہ آتے ہیں۔

اب بھی زیادہ ترلوگوں میں پیٹ اورجلدکی بیماریاں بڑھ چکی ہیں جسکی وجہ سیلابی پانی کا استعمال ہے کیونکہ ان لوگوں کے پاس پینے کیلئے صاف پانی نہیں ہے۔ضلعی ناظم جعفرآباد خان محمد جمالی نے اس سلسلے میں بتایا کہ ضلعی حکومت ان لوگوں کی بحالی کیلئے دن رات کوشاں ہے اوراب تک ان لوگوں کودو وقت کا کھانا دیا جارہا ہے تاہم اگر فوری طور پر حکومت نے بڑے پیمانے پر امداد میں تیزی نہ لائی توحالات ان کے کنٹرول سے باہر ہوجائیں گے۔
07/07/2007 - 22:25:24 :وقت اشاعت