بند کریں
صحت صحت کی خبریںحکومت صحت کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ‘صوبائی وزیر

صحت خبریں

وقت اشاعت: 12/01/2015 - 20:29:37 وقت اشاعت: 12/01/2015 - 18:56:13 وقت اشاعت: 12/01/2015 - 18:54:44 وقت اشاعت: 12/01/2015 - 18:52:11 وقت اشاعت: 12/01/2015 - 18:38:39 وقت اشاعت: 12/01/2015 - 16:54:33 وقت اشاعت: 12/01/2015 - 16:23:54 وقت اشاعت: 12/01/2015 - 15:10:54 وقت اشاعت: 12/01/2015 - 15:07:45 وقت اشاعت: 12/01/2015 - 15:04:18 وقت اشاعت: 12/01/2015 - 13:35:15

حکومت صحت کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ‘صوبائی وزیر

اوتھل(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 جنوری 2015ء) صوبائی وزیر صحت رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت صحت کے ساتھ ساتھ تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ہم اداروں کے فعالیت چاہتے ہیں عوام نے ہمیں جو مینڈیٹ دیا ہے اس کے مطابق بہتر انداز میں کام کررہے ہیں سابقہ دور میں خضدار سے قلات تک کا پورا علاقہ نوگوایریا بناہوا تھا تھانے بکتے تھے ہم نے حالات پر قابو پایا اور کرپشن ختم کرنے کیلئے جدوجہد کررہے ہیں ہم پر تنقید کرنے والے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں ان کے دور میں محکمہ صحت انکے جیب خرچ کا ادارہ بناہواتھا ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روزضلعی ہیڈکوارٹر اوتھل میں لیڈی ہیلتھ ورکرز میں مستقلی کے آرڈر تقسیم کرنے کی تقریب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں نے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک کا وژن پڑھالکھا اور صحت مندبلوچستان ہے موجودہ حکومت کے دورمیں صحت اور تعلیم کے بجٹ میں پانچ گنااضافہ کیا گیاہے جو ایک مثال ہے اور بجٹ میں اضافے کے بعد ان شعبوں میں بہتری آناشروع ہوگئی ہے اورموجودہ حکومت نے ایک سال میں بلوچستان میں چھ یونیورسٹیاں قائم کی ہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے بلوچستان پیکج کے پانچ ہزار اساتذہ ،ایپکا اور پیرامیڈیکس کے سروس اسٹریکچر کی بحالی سمیت سات ہزار لیڈی ہیلتھ ورکرز کو مستقل کردیا گیاہے جو بہت بڑی کامیابی ہے رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ ہم اداروں کی فعالیت چاہتے ہیں اور ہم اداروں کو کسی صورت تباہ ہونے نہیں دیں گے اس وقت محکمہ صحت کا کارکردگی اور خدمات عوام کے سامنے ہیں ہم شب وروزمحنت کررہے ہیں تاکہ اس شعبے میں مزید بہتری لائی جاسکے اگلے بجٹ میں صوبے کے 16اضلاع کے ہسپتالوں کے بجٹ اور پوسٹوں کو بڑھایاجائیگاتاکہ صوبے کے عوام کو زیادہ سے زدیاہ صحت کی سہولیا ت فراہم ہوسکیں صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ سابقہ دورحکومت میں خضدار سے قلات تک کا پورا علاقہ نوگوایریا بناہواتھا اور صوبے میں دہشتگردی کی ایک لہر تھی بلوچستان میں ماہرڈاکٹر اور اساتذہ کو ٹارگیٹ کلنگ کے ذریعے مارا جارہاتھااور انہیں اغواء کیا جارہاتھا جسکی وجہ سے ماہراور قابل ڈاکٹرز اور اساتذہ یہاں سے چلے گئے آج جو ہم پر تنقید کررہے ہیں وہ اپنے دورمیں ان دہشتگردوں کی سرپرستی کررہے تھے اور ان کے دور میں صوبے کے تھانوں کی بولیاں لگتی تھیں لیکن ہمارے دور میں کم از کم یہ چیزیں تونہیں ہیں اور ہم نے امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنایا ہے اوراغواء کاروں کی کمرتوڑدی ہے اور سفارشی کلچرکو ختم کردیاہے جبکہ ماضی میں مذہب کے ٹھیکیداروں نے صحت کے شعبے کو جیب خرچ کا ذریعہ بنارکھا تھا لیکن آج اللہ کے فضل وکرم سے ایسانہیں ہے انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت میں غیر حاضر ملازمین کی وجہ سے ہمیں پریشانی کاسامنا کرنا پڑرہاہے لیکن ہم کوشش کررہے ہیں کہ اس پر قابو پایاجائے اور اس حوالے سے میں نے تمام اضلاع کے میڈیکل سپریٹنڈنٹس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ غیر حاضر ڈاکٹرز اور عملے کی رپورٹ مجھے ارسال کریں تاکہ ان کے خلاف سخت کاروائی کی جاسکے اور اب تک 12ڈاکٹروں کو غیر حاضری کی وجہ سے نوکری سے برخاست کیا گیاہے ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ بلوچستان کی مخلوط حکومت میں اختلافات ہیں اور یہ اختلافات دوبھائیوں میں بھی ہوتے ہیں لیکن انشاء اللہ یہ اختلافات جلد دور ہوجائیں گے قبل ازیں انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کیلئے دس لاکھ اور رورل ہیلتھ سینٹر وندرکیلئے پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا بعدازاں انہوں نے لسبیلہ کی 312لیڈی ہیلتھ ورکرز 12سپروئزرزاور 13ڈارئیورز میں مستقلی کے آرڈر تقسیم کئے تقریب سے نیشنل پروگرام کے پی سی قاضی نور ،محمد اسلم ترین ،نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر اشوک کمار،رجب علی رند،کامریڈسلیم بلوچ اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔

12/01/2015 - 16:54:33 :وقت اشاعت