بند کریں
صحت صحت کی خبریںچھوٹے بچوں کے سیکھنے اور یادداشت کی کلید لمبی نیند ہے ‘سائنسدان

صحت خبریں

وقت اشاعت: 14/01/2015 - 15:52:54 وقت اشاعت: 14/01/2015 - 15:49:56 وقت اشاعت: 14/01/2015 - 15:00:47 وقت اشاعت: 14/01/2015 - 14:59:20 وقت اشاعت: 14/01/2015 - 12:49:47 وقت اشاعت: 14/01/2015 - 12:48:04 وقت اشاعت: 13/01/2015 - 23:30:12 وقت اشاعت: 13/01/2015 - 22:43:34 وقت اشاعت: 13/01/2015 - 22:29:32 وقت اشاعت: 13/01/2015 - 22:29:32 وقت اشاعت: 13/01/2015 - 21:29:06

چھوٹے بچوں کے سیکھنے اور یادداشت کی کلید لمبی نیند ہے ‘سائنسدان

لندن (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 14 جنوری 2015ء)سائنس دانوں نے اپنی رپور ٹ میں کہا ہے کہ چھوٹے بچوں کے سیکھنے اور یادداشت کی کلید لمبی نیند ہے۔ میڈیا رپور ٹ کے مطابق 12 ماہ سے کم عمر بچوں پر کیے جانے والے تجربات سے معلوم ہوا کہ بچے نئے کام کرنے کے بعد لمبی نیند نہ سوئیں تو وہ ان کاموں کو یاد نہیں رکھ پاتے۔یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے سائنس دانوں کے مطابق کوئی نئی چیز سیکھنے کا بہترین وقت سونے سے تھوڑی دیر پہلے ہوتا ہے اور انھوں نے رات کے وقت پڑھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند عمر کے ابتدائی برسوں میں زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے بچے بڑوں کے مقابلے پر زیادہ سوتے ہیں تاہم سائنس دانوں نے کہاکہ بچوں کی زندگی کے پہلے سال میں نیند کے کردار کے بارے میں معلومات انتہائی کم ہیں۔سائنس دانوں نے چھ سے 12 ماہ کے بچوں کو ہاتھوں پر پہننے والے پتلوں کی مدد سے کچھ کھیل سکھائے یہ سیکھنے کے بعد آدھے بچے چار گھنٹوں کے اندر اندر سوئے جبکہ دوسرے نصف یا تو سوئے ہی نہیں یا پھر آدھے گھنٹے سے کم وقت کے لیے سوئے۔

اگلے دن بچوں سے کہا گیا کہ وہ پچھلے دن سیکھا گیا کھیل دہرائیں تحقیق کے نتائج پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہوئے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گہری نیند سونا سیکھنے کیلئے بہت اہم ہے جو بچے جو خاصی دیر سوئے تھے، وہ ڈیڑھ کھیل دہرانے کے اہل تھے مقابلے پر جو بچے سیکھنے کے بعد نہیں سوئے یا کم دیر کیلئے سوئے وہ سب کچھ بھول گئے تھے۔

14/01/2015 - 12:48:04 :وقت اشاعت