بند کریں
صحت صحت کی خبریںمحکمہ صحت نے پشاور شہر میں جی ٹی روڈ اور رنگ روڈ کے سنگم پرانڈس ہسپتال کے معاہدے کی حتمی منظوری ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 14/01/2015 - 23:19:05 وقت اشاعت: 14/01/2015 - 23:18:16 وقت اشاعت: 14/01/2015 - 22:54:27 وقت اشاعت: 14/01/2015 - 22:54:27 وقت اشاعت: 14/01/2015 - 22:47:34 وقت اشاعت: 14/01/2015 - 21:54:06 وقت اشاعت: 14/01/2015 - 21:39:14 وقت اشاعت: 14/01/2015 - 20:55:23 وقت اشاعت: 14/01/2015 - 20:36:42 وقت اشاعت: 14/01/2015 - 16:30:01 وقت اشاعت: 14/01/2015 - 16:13:53

محکمہ صحت نے پشاور شہر میں جی ٹی روڈ اور رنگ روڈ کے سنگم پرانڈس ہسپتال کے معاہدے کی حتمی منظوری دیدی

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔14جنوری2015ء)محکمہ صحت نے پشاور شہر میں جی ٹی روڈ اور رنگ روڈ کے سنگم پرانڈس ہسپتال کے معاہدے کی حتمی منظوری دیدی ہے جس کیلئے اب اراضی لیز کی بجائے شوکت خانم کینسر ہسپتال کی طرز پر مہیا کی جائے گی ہسپتال میں آنے والے ہر مریض کا ادویات کی فراہمی سمیت مکمل علاج بالکل مفت ہو گا ہسپتال میں تمام شعبوں اور امراض پرعلاج معالجہ کی جدید سہولیات کی دستیابی کے علاوہ تحقیقی شعبے بھی قائم کئے جائیں گے اس ضمن میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سے انڈس ہسپتال کے کنوینر محمد عاطف حلیم اور ایگزیکٹیو آفیسر صہیب سیٹھی نے سی ایم ہاؤس پشاور میں ملاقات کی جس میں کراچی کے اس طبی و خیراتی ادارے کے زیر اہتمام پشاور میں جدید انڈس ہسپتال کے قیام پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا صوبائی سیکرٹری صحت مشتاق جدون اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے وزیراعلیٰ نے معاہدے سے اتفاق کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس کی حتمی منظوری صوبائی کابینہ کے عنقریب ہونے والے اگلے اجلاس میں دی جائے گی واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے ہسپتال کی اراضی لیز پر دینا چاہتی تھی تاہم ہسپتال انتظامیہ کراچی میں سندھ حکومت اور ماضی میں خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے شوکت خانم کو اراضی مناسب قیمت پر الاٹ کرنے پر مُصر تھی جس پر محکمہ صحت نے انڈس ہسپتال کے حق میں رائے دیدی عاطف حلیم نے جو پشاور چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ انڈسٹریز کے ایگزیکٹیو ممبر بھی ہیں پرویز خٹک سے انصاف ایمپلائمنٹ سکیم پر بھی تبادلہ خیال کیا جس کے تحت چین، برطانیہ، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ سمیت کئی ترقیافتہ اور ترقی پذیرممالک کی طرز پر صوبے میں بیروزگار نوجوانوں کیلئے اندرون شہر موٹر سائیکل ٹیکسی سکیم شروع کی جائے گی اور اسکی بدولت بڑی ٹیکسیوں اور رکشوں کا دباؤ کم ہونے کے علاوہ شہری تنگ بازاروں سے بھی آناً فاناً اپنی منزل پر بآسانی پہنچ سکیں گے اس مقصد کیلئے سمیڈا اور عالمی بینک نے آسان شرائط پر قرضہ فراہمی پر بھی پہلے ہی آمادگی ظاہر کی ہے انہوں نے شہر کی مختلف گرین بیلٹس سے ملحقہ بیڈ منٹن، والی بال اور باسکٹ بال کورٹس کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کیا جس پر کم لاگت آنے کے علاوہ نوجوانوں اور طلبہ کو گھروں کے قریب کھیل کود کی سہولیات مہیا ہونگی انڈس ہسپتال کی تعمیر سے متعلق کے کنسلٹنٹ نے بتایا کہ ہسپتال کیلئے اراضی معاہدے اور تعمیراتی این او سی ملنے کے فوری بعد اگلے ہفتے کام شروع جبکہ ایک تا ڈیڑھ سال میں اسکی تعمیر مکمل کر دی جائے گی اس جدید اور عالیشان ہسپتال میں او پی ڈی ، ایمرجنسی، کارڈیالوجی، چلڈرن، امراض چشم، ناک، کان گلہ، آرتھوپیڈک، سائیکیٹری، انڈو سکوپی، ریڈیالوجی، کلینکل فارمیسی، نیوٹریشن، ڈائلسز اور نیورو سرجری سمیت تمام عمومی اور خاص شعبوں میں علاج کی سہولیات بالکل مفت مہیا کی جائیں گی حتی کہ اس میں پرچی کی فیس بھی نہیں ہوگی اور مریض کے ہسپتال میں آمد کے فور بعد اس کا کمپوٹرائز علاج شروع ہوگا اور اس کا مکمل ڈیٹا آئندہ علاج کیلئے بھی محفوظ ہوگا انڈ س ہسپتال کی انتظامیہ نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ ہسپتال کا ڈیزائن تیار ہو چکا ہے اور اب حکومت کی طرف سے اراضی الاٹ ہونے کا مرحلہ طے ہونے کے بعد اس پر کام فوری شروع کر دیا جائے گا پرویز خٹک نے محکمہ صحت کے حکام کو انڈس ہسپتال کی انتظامیہ سے فوری تحریری معاہدہ کرنے، مفت علاج کی گارنٹی لینے اور کسی بھی مریض کا علاج مفت نہ ہونے کی شکایت سامنے آنے کی صورت میں ہسپتال کو سرکاری تحویل میں لینے کی شق شامل کرنے کی ہدایت کی تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ادارے کے اخلاص اور مشنری جذبے کو بخوبی جانتے ہیں انہوں نے ہسپتال منتظمین کی دکھی انسانیت کی خدمت کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسی ہی زندہ قومیں حقیقی کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ کراچی میں اس ہسپتال کی اعلیٰ خدمات خود دیکھ چکے ہیں اور اب پشاور میں بھی اس کا قیام یہاں کے شہریوں کیلئے تحفہ ثابت ہو گا پرویز خٹک نے پشاور سمیت صوبے بھر میں علاج کی سہولیات بہتر بنانے کیلئے وزیر صحت اور متعلقہ سیکرٹری اور ڈپٹی سیکرٹریوں کی سطح پر باقاعدہ علاقے اور اضلاع منتخب کرکے ہسپتالوں کے معائنے کرنے اور عملے کی حاضری اور خدمات کا معیار جانچنے کی ہدایت کی انہوں نے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل عملے کو اپنا شناختی یونیفارم پہننے اور ناموں کے سٹکرز لگانے کی ضرورت کا اعادہ کیا اور واضح کیا کہ ایسا تب ہو گا جب طبی اداروں کے سربراہ خود بھی ایسا کرینگے ۔

14/01/2015 - 21:54:06 :وقت اشاعت