بند کریں
صحت صحت کی خبریںگزرا سال،16ہزار سے زائدزچہ و بچہ” ہسپتالوں سے زندہ“ گھرواپس نہیں جا سکے
دیہی علاقوں میں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 20/01/2015 - 21:08:47 وقت اشاعت: 20/01/2015 - 21:00:09 وقت اشاعت: 20/01/2015 - 20:48:35 وقت اشاعت: 20/01/2015 - 20:44:07 وقت اشاعت: 20/01/2015 - 20:41:38 وقت اشاعت: 20/01/2015 - 17:29:26 وقت اشاعت: 20/01/2015 - 17:00:48 وقت اشاعت: 20/01/2015 - 16:19:51 وقت اشاعت: 20/01/2015 - 16:19:00 وقت اشاعت: 20/01/2015 - 16:17:24 وقت اشاعت: 20/01/2015 - 16:03:48

گزرا سال،16ہزار سے زائدزچہ و بچہ” ہسپتالوں سے زندہ“ گھرواپس نہیں جا سکے

دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کا شدید فقدان، ادویات و انسٹومنٹس نہ ہونے سے نئی شادی شدہ خواتین کو پہلے بچے کی خوشیوں سے بھی محروم کر دیا , نارروال،سیالکوٹ،بھکر،میانوالی،رحیم یار خان،لاہور،ساہیوال اور ننکانہ جیسے اضلاع میں زچہ بچہ اموات پچھلے سال کے مقابلے میں22فیصد زیادہ ہیں

لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 جنوری 2015ء)محکمہ صحت کی بے حسی و عدم توجہی کے باعث گزشتہ سال پنجاب کے 36اضلاع کی107تحصیلوں کے بنیادی مراکز صحت، تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال اور ضلعی سطح پرقائم سرکاری مراکز صحت سے 16ہزار9سو بارہ” زچہ و بچہ ہسپتالوں سے زندہ“ اپنے گھر واپس نہیں جا سکے۔پاکستان میں صحت عامہ کی سہولیات و زچہ و بچہ کی اموات کے اعداد شمار کے حوالے سے تیار کی جانے والی ایک رپورٹ میں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے ترقی یافتہ صوبہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے سرکاری ہسپتالوں سمیت پنجاب بھر کے بنیادی مراکز صحت، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں اور ضلع کی سطح پر قائم پرچی ہسپتالوں میں سال 2014میں ادویات کی کمی،انتہائی ضروری انسٹومنٹس ،مختلف ٹیسٹ کی مشینیں،سینئر ڈاکٹرز کی شدید کمی ،ہیڈ نرسز کا رویہ جیسے مسائل سے نہ صرف 16ہزار سے زائد خواتین دوران زچگی زندگی کی بازی ہار گئیں بلکہ اپنے پہلے بچے کی خوشیاں اپنے گھر والوں کو بھی نہ دیکھا سکی۔

زچہ و بچہ کے ” ہسپتالوں سے زندہ“ گھرواپس نہ جانے کے صدمہ کی وجہ سے بھی درجنوں اموات ہوئیں۔وینٹی لیٹرز،الٹراساوٴ نڈ مشینوں کا مسئلہ گزشتہ دس سالوں سے حل نہیں کیا جا سکا جبکہ نئی ملازمتوں پر پابندی یا نئی بھرتی نہ ہونے سے عملہ کی شدید کمی سے بھی سرکاری بنیادی مراکز صحت کا کوئی پرسان حال نہیں۔محکمہ صحت ان اموات کو کم عمر کی شادیاں کہہ کر بری ازمہ ہو جاتا ہے تاہم ہسپتالوں میں موجود جونیئر عملہ کی ناتجربہ کار اور غفلت سے بھی زچہ و بچہ کی اموات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

صرف ایک سال میں بنیادی مراکز صحت اور ٹی ایچ کیوز میں سولہ ہزار ست زائد قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع پر محکمہ صحت کی خاموشی اور حکومت پنجاب کا کوئی ایکشن نہ لینا معنی خیز ہے۔ صحت عامہ کی سہولیات و زچہ و بچہ کی اموات نامی رپورٹ میں حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ محکمہ صحت کی طرف توجہ دی جائے کیونکہ یہ انسانی معاشرہ کا سنگین مسئلہ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جس پر سرکاری ہسپتالوں میں دی جانے والی سہولیات کی فہرست کو نئے سرے سے تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ سال ہونے والی اموات میں نارروال،سیالکوٹ،بھکر،میانوالی،رحیم یار خان،لاہور،ساہیوال اور ننکانہ سب سے آگے ہیں جہاں زچہ بچہ اموات پچھلے سال کے مقابلے میں22فیصد زیادہ ہیں۔

20/01/2015 - 17:29:26 :وقت اشاعت