بند کریں
صحت صحت کی خبریںسوات اور ڈیرہ میں تین خودکش حملے، 26 سیکورٹی اہلکاروں سمیت52 افراد جاں بحق،100سے زائد زخمی۔مٹہ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 18/07/2007 - 11:25:13 وقت اشاعت: 17/07/2007 - 17:31:10 وقت اشاعت: 17/07/2007 - 14:55:24 وقت اشاعت: 17/07/2007 - 13:54:06 وقت اشاعت: 16/07/2007 - 11:34:07 وقت اشاعت: 15/07/2007 - 19:51:26 وقت اشاعت: 15/07/2007 - 12:50:47 وقت اشاعت: 13/07/2007 - 18:57:40 وقت اشاعت: 12/07/2007 - 20:57:40 وقت اشاعت: 12/07/2007 - 13:57:00 وقت اشاعت: 11/07/2007 - 20:55:05

سوات اور ڈیرہ میں تین خودکش حملے، 26 سیکورٹی اہلکاروں سمیت52 افراد جاں بحق،100سے زائد زخمی۔مٹہ میں2 خودکش حملوں میں16 سیکورٹی اہلکاروں سمیت 22 افراد جبکہ ڈیرہ میں10پولیس اہلکاروں سمیت30افراد ہلاک ہوئے

خودکش حملوں میں پاک فوج کے11 جوان شہید ہوئے۔ آئی ایس پی آر۔۔واقعات کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی، سیکورٹی فورسز کا گشت بڑھا دیا گیا ، کئی مقامات پر عارضی چوکیاں قائم۔زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کردیاگیا، کئی کی حالت تشویشناک، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ، سیکورٹی سخت کر دی گئی۔ڈیرہ میں جاں بحق و زخمی ہونے والوں کے لواحقین کا ادویات کی عدم فراہمی اور ضلعی انتظامیہ کےرویے کیخلاف احتجاج۔(اپ ڈیٹ2)

سوات + ڈیرہ اسماعیل خان (اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار15جولائی 2007) صوبہ سرحد کے شہروں سوات اور ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکورٹی فورسز کے قافلے اور پولیس بھرتی سنٹر پر خودکش حملے میں 26سیکورٹی اہلکاروں سمیت 52 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے جنہیں قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے اور وہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، دھماکوں کے بعد متعلقہ علاقوں میں سیکورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، سوات میں 22 جاں بحق اور 45 زخمی ہوئے جبکہ ڈیرہ میں30 ہلاک اور 56 زخمی ہوئے، جبکہ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈیرہ خودکش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 28 سے تجاوز کر گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز پاک فوج کا ایک قافلہ سوات سے تحصیل مٹہ جارہا تھا کہ سمبٹ کے علاقے میں مٹہ کالج کے قریب دو خودکش حملہ آوروں نے اپنے آپ کو قافلے کی گاڑیوں سے ٹکرا دیا جس کے نتیجے میں قافلے میں شامل تین گاڑیاں تباہ ہو گئیں جبکہ اس دوران قریب واقعہ ایک پٹرول پمپ اور 6 مکانات بھی تباہ ہوگئے جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق دھماکوں کے نتیجے میں پاک فوج کے 16 جوانوں سمیت بائیس افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں پاک فوج کے 16 جوانوں کے علاوہ تین عام شہری ‘ ایک پٹرول پمپ کا ملازم اور دو پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک درجن کے قریب گاڑیوں پر مشتمل پاک فوج کا قافلہ جونہی مٹہ کالج کے قریب پہنچا تو دو خودکش حملہ آوروں نے اپنی گاڑیوں کو جن میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا فوجی قافلے سے ٹکرا دیں۔

جس کے نتیجے میں تین فوجی گاڑیاں تباہ ہوگئیں ساتھ ہی سڑک کے کنارے نصب ایک ریموٹ کنٹرول بم کو بھی اڑا دیا گیا دھماکے اتنے شدید تھے کہ اس کی آوازیں دور دور تک سنائی دیں۔ دھماکوں سے قریبی چھ گھر اور ایک پٹرول پمپ بھی تباہ ہوگیا۔ دھماکوں کے بعد فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کے نتیجے میں پاک فوج کے جوانوں سمیت متعدد افراد جاں بحق و زخمی ہو گئے جبکہ دھماکوں سے تباہ ہونے والے گھروں اور پٹرول پمپ کی عمارت سے 6 ٰافراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔

جبکہ عینی شاہدین کے مطابق تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے تلے ابھی بھی کئی افراد دبے ہوئے ہیں جن کو نکالنے کیلئے امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔ جبکہ ڈی سی او سوات سید محمد جاوید نے خودکش حملوں میں 19 افراد کے جاں بحق اور 45 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ دھماکے کے فوری بعد ہیلی کاپٹروں کے ذریعے زخمیوں اور مرنے والوں کو ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا۔

سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو سیل کردیا اور لوگوں کو گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کردی۔ ” آئی این پی“ سے گفتگو کے دوران سید محمد جاوید نے بتایا کہ واقعہ میں پاک فوج کے 11 جوان، 8 شہری جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ 45 زخمی ہوئے ہیں جن میں 41 فوجی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی اہلکاروں میں سے چار کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دھماکوں میں چھ مکانات تباہ ہوئے جن میں سے ابھی تک چھ افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زخمی دو پولیس اہلکار اور دو سکاؤٹس بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ واقعہ کے بعد کریک ڈاؤن شروع کیا گیا ہے جس کے تحت اب تک 50 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سوات میں مزید اس قسم کے حملوں کا خطرہ ہے جس کے باعث علاقے میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے کیلئے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ جبکہ ذرائع کے مطابق خودکش حملوں کے باعث سوات اور مینگورہ میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں اور سڑکوں پر فوج، ایف سی اور پولیس نے گشت شروع کر دیا ہے اور علاقے کی اہم شاہراوں اور چوکوں پر چوکیاں قائم کر دی ہیں۔ قبل ازیں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل وحید ارشد نے پاک فوج کے قافلے پر خودکش حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ قافلہ سوات سے مٹہ جارہا تھا کہ مٹہ کالج کے قریب نیلے رنگ کی دو سوزوکی پک اپ میں سوار خودکش حملہ آوروں نے گاڑیوں کو فوجی قافلے سے ٹکرا دیا۔

ساتھ ہی ایک بارودی سرنگ کا دھماکہ بھی کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں 11 سیکورٹی اہلکارجاں بحق اور 35 زخمی ہو گئے ۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں عام شہری بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سوات ‘ پشاور ‘راولپنڈی اور دیگر ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم ایف ریڈیو کے بانی اور صوفی محمد کے داماد مولانا فضل اللہ اپنے آبائی علاقے امام ڈیری سے غائب ہو گئے ہیں جبکہ علاقے میں گھر گھر سرچ آپریشن شروع ہو گیا ہے جس کے دوران مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔

دوسری جانب صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس لائن میں بھرتی سینٹر پر خودکش حملے کے نتیجے میں 10پولیس اہلکاروں سمیت 26افراد جاں بحق اور 56سے زائد زخمی ہو گئے جنہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر کے وہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ واقعہ کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ پولیس نے علاقے کو محاصرے میں لے لیا ۔

عینی شاہدین کے مطابق اتوار کے روز تقریباً شام سوا 4 بجے ڈیرہ اسماعیل خان کی پولیس لائن کے بھرتی سنٹر میں خودکش حملہ ہوا جس کے نتیجے میں کم از کم 26افراد جاں بحق اور 56سے زائد زخمی ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق سینکڑوں افراد پولیس میں بھرتی کے لئے وہاں گئے ہوئے تھے اور اس وقت ان کا انٹرویو ہو رہا تھا انہوں نے بتایا کہ ایک ہزار س سے زائد افراد وہاں جمع تھے اور تقریباً 200 سے زائد افراد اس وقت قطار میں کھڑے ہوئے تھے جہاں ان کے جسم کو ماپا جا رہا تھا کہ اس دوران اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں 26افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں وہاں بھگدڑ مچ گئی اور ہر شخص اپنی جان بچانے کے لئے ادھر ادھر دوڑ رہا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق دھماکے میں ہلاک وزخمی ہونے والوں میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو انٹرویو دینے کے لئے آئے ہوئے تھے اور پولیس میں بھرتی کے خواہش مند تھے جبکہ واقعہ میں 10پولیس اہلکار بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔جن میں حبیب ‘ شاہ جہان ‘فدا حسین‘عمران اور محمد جاوید اور دیگر پانچ نامعلوم شامل ہیں ۔ دھماکے کے فوراً بعد زخمیوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کر دیا گیا اور وہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور چھٹی پر گئے ہوئے ڈاکٹر و ہسپتال عملے کے دیگر ارکان کو واپس بلا لیا گیا۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ہسپتال کو جانے والے راستوں کو سیل کر دیا گیا جبکہ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دھماکے کے فوری بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور تحقیقات شروع کر دیں جبہ ٹیسٹ دینے کے لئے آئے ہوئے عینی شاہدین محمد سعید اور عبدالغفار نے بتایا کہ وہ بھی ٹیسٹ کے لئے آئے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ٹیسٹ دے چکے تھے اور خوش قسمتی سے تھوڑی دیر پہلے ہی وہاں سے نکلے تھے کہ اچانک وہاں دھماکہ ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے کئی زندہ افراد لاشوں میں تبدیل ہو گئے جبکہ زخمیوں کی چیخ و پکار ایک خوفناک منظر پیش کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کی جگہ پر خون کی ندیاں بہہ گئیں جبکہ زخمی چیخ و پکار کر رہے تھے لیکن وہ بے بس تھے اور ان کی مدد کے لئے کوئی نہیں آ رہا تھا بلکہ ہر کوئی اپنی جان بچانے کے لئے بھاگ رہا تھا ۔

جبکہ بم ڈسپوزل سکواڈ کا عملہ بھی موقع پر پہنچ گیا جس نے بم کو ناکارہ بنا دیا۔ جبکہ بعد ازاں ڈی آئی جی ڈیرہ نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ خودکش حملہ تھا جس میں چھبیس افراد جاں بحق اور چھپن زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں 23 افراد کی شناخت کر لی گئی ہے جبکہ علاقے کو محاصرے میں لے لیا گیا ہے۔ دوسری جانب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر گل افضل نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران بتایا کہ پولیس لائن کے بھرتی سنٹر میں بھرتی کے لئے ٹیسٹ و انٹرویو ہو رہے تھے کہ وہاں دھماکہ خیز مواد کا بیلٹ پہنے خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا ۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فوری طور پر کسی گروہ کے دھماکے میں ملوث ہونے کے حوالے سے کچھ کہنا قبل ازوقت ہو گا تاہم ابھی تک کسی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں تحقیقات کے بعد ہی کچھ پتہ چلے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے واقعہ میں ملوث لوگ انسانیت کے دشمن ہیں کیونکہ وہاں پر معصوم لوگوں کی جانوں کا ضیاع ہوا ہے اور اس میں زیادہ تر وہ لوگ جاں بحق ہوئے ہیں جو پولیس میں بھرتی کے لئے آئے ہوئے تھے جبکہ انہوں نے وہاں دو خودکش حملوں کی خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صرف ایک خودکش حملہ ہوا ہے جس میں جانی نقصان ہوا ہے۔

دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں اور دروازوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور لوگ خوف کے مارے گھروں سے باہر نکل آئے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ ذرائع کے مطابق وہاں ایک ایسی لاش دیکھی گئی جس پر شبہ ہوتا تھا کہ یہ خودکش حملہ آور کی ہے۔ واقعہ کے بعد علاقے میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور علاقے میں صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اتنا بڑا واقعہ ہونے کے باوجود بھی ضلعی اور تحصیل انتظامیہ سوئی رہی اور حکام موقع پر نہ پہنچے جبکہ ہسپتال میں بھی زخمیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ چھٹی کا دن ہونے کے باعث وہاں پر عملہ کم تھا۔ جبکہ سٹور میں ادویات بھی کم پڑ گئیں۔ ذرائع کے مطابق زخمیوں کیلئے خون بھی کم پڑ گیا اور کئی لوگوں نے رضا کارانہ طور پر خون کا عطیہ دیا۔

جبکہ جاں بحق و زخمی ہونے والوں کے لواحقین نے ضلعی و تحصیل انتظامیہ کو غفلت پر شدید احتجا ج کیا اور کہا کہ لوگ تڑپ رہے تھے اور انتظامیہ سو رہی تھی تاہم بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ میں 28 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔
ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق اتوار کو ڈیرہ کی پولیس لائن کے بھرتی سنٹر میں ہونے والے خودکش حملے کے مزید 4 زخمی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے جس کے بعد واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 30 ہو گئی
15/07/2007 - 19:51:26 :وقت اشاعت