بند کریں
صحت صحت کی خبریںحافظ آباد کے رہائشی محنت کش کی 11ماہ قبل بخار میں مبتلا ہونے والی 9سالہ بیٹی سماعت سے محروم ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 04/02/2015 - 13:54:36 وقت اشاعت: 03/02/2015 - 23:19:13 وقت اشاعت: 03/02/2015 - 23:05:27 وقت اشاعت: 03/02/2015 - 23:01:05 وقت اشاعت: 03/02/2015 - 22:53:35 وقت اشاعت: 03/02/2015 - 22:13:44 وقت اشاعت: 03/02/2015 - 21:17:51 وقت اشاعت: 03/02/2015 - 21:06:34 وقت اشاعت: 03/02/2015 - 20:52:59 وقت اشاعت: 03/02/2015 - 20:37:06 وقت اشاعت: 03/02/2015 - 18:47:30

حافظ آباد کے رہائشی محنت کش کی 11ماہ قبل بخار میں مبتلا ہونے والی 9سالہ بیٹی سماعت سے محروم ،

غریب والدین بیٹی کے علاج کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور،وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور مخیر حضرات سے مدد کی اپیل

حافظ آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔3فروری۔2015ء)حافظ آباد کے محلہ بجلی گھر کے رہائشی محنت کش کی 11ماہ قبل بخار میں مبتلا ہونے والی 9سالہ بیٹی سماعت سے محروم ہو گئی ،غریب والدین نے بیٹی کے علاج معالجہ کیلئے عمر بھر کی جمع پونجی بھی بیچ ڈالی، لیکن بیٹی کی سماعت واپس نہ آسکی۔9سالہ معصومہ بیماری میں مبتلا کیا ہوئی پرنسپل نے اُسے سکول سے ہی نکال دیا۔

غریب والدین بیٹی کے علاج کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے۔حافظ آباد کے محلہ بجلی گھر کے رہائشی محنت کش مظہر عباس کی 9سالہ بیٹی معصومہ بتول 11ماہ قبل گلا خراب ہونے کی وجہ سے بخار میں مبتلا ہوئی ،والدین نے مختلف ڈاکٹروں سے بیٹی کاعلاج کروایا لیکن مرض کم ہونے کی بجائے بگڑ گیا اور اب معصومہ سماعت سے ہی محروم ہو گئی ہے۔نام کی طرح شکل و صورت سے معصوم نظر آنے والی معصومہ ہاتھوں میں کتابیں اور ڈاکٹروں کے نسخے لیے کسی مسیحا کی منتظر ہے کہ کوئی آئے اور اُس کا علاج کروائے تاکہ وہ بھی دُنیا بھر میں شہرت حاصل کرنے والی ارفع کریم کی طرح اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کر سکے۔

معصومہ کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ بالکل صحت مند اور تندرست تھی ،11ماہ قبل بخار میں مبتلا ہونے کے بعد اب اُس کی سماعت بالکل ختم ہو چکی ہے ،اُس کے علاج کیلئے اُنہوں نے اپنی ساری جمع پونجی بیچ ڈالی ہے لیکن وہ صحت یاب نہیں ہو سکی ۔معصومہ کی بیماری کے باعث وہ دن رات پریشان رہتے ہیں ۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ معصومہ کی قوت سماعت صرف آپریشن سے ہی واپس آسکتی ہے جس پر لاکھوں روپے خرچ آتا ہے جو ہماری پہنچ سے باہر ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ معصومہ کلاس فور میں پڑھتی تھی اور اُسکو پڑھائی کا بھی شوق ہے لیکن سماعت سے محرومی کے باعث سکول انتظامیہ نے اُسکا نام خارج کر دیا ہے ۔اُنہوں نے بتایا کہ چند ماہ قبل وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے حکم پر چلڈرن ہسپتال میں معصومہ بتول کی بیماری کے حوالے سے میڈیکل بورڈ بھی قائم کیا گیاجس نے بچی کا مکمل چیک اپ کرنے کے بعد آپریشن تجویز کیا لیکن کئی ماہ گزر جانے کے باوجود بھی اُن کی بیٹی کے آپریشن کیلئے عملی طور پر اقدامات نہیں کیے گئے۔اُنہوں نے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور مخیر حضرات سے اپیل کی وہ اُن کی بیٹی کا علاج کروائیں تاکہ وہ بھی دوسری لڑکیوں کی طرح پڑھ لکھ کر پھر پور زندگی گزار سکے۔

03/02/2015 - 22:13:44 :وقت اشاعت