بند کریں
صحت صحت کی خبریںجدید تحقیق اور علاج کے باعث کینسر کی بیماریوں کی روک تھام میں بہت مدد حاصل ہوئی ہے، ڈاکٹر ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 04/02/2015 - 20:49:45 وقت اشاعت: 04/02/2015 - 20:19:49 وقت اشاعت: 04/02/2015 - 20:18:20 وقت اشاعت: 04/02/2015 - 20:15:29 وقت اشاعت: 04/02/2015 - 19:11:03 وقت اشاعت: 04/02/2015 - 19:11:03 وقت اشاعت: 04/02/2015 - 18:34:55 وقت اشاعت: 04/02/2015 - 17:43:34 وقت اشاعت: 04/02/2015 - 17:26:00 وقت اشاعت: 04/02/2015 - 17:11:10 وقت اشاعت: 04/02/2015 - 16:58:45

جدید تحقیق اور علاج کے باعث کینسر کی بیماریوں کی روک تھام میں بہت مدد حاصل ہوئی ہے، ڈاکٹر انصر پرویز ،

مزید اداروں کے قیام کی طرف توجہ دی جانی چاہیے، مرض سے بچاؤ ،پھیلاؤ کو مزید بڑھنے سے روکنے کیلئے مختلف ورکشاپس ،آگاہی واک اور سیمینار کا انعقاد کیا جانا چاہیے،سیمینار سے خطاب

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 04فروی 2015ء)چےئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن ڈاکٹر انصر پرویز نے کہاہے کہ امراض کینسرکے شعبہ میں تحقیق اور علاج میں شاندار ترقی ہوئی ہے اور جدید تحقیق اور علاج کے باعث کینسر کی بیماریوں کی روک تھام میں بہت مدد حاصل ہوئی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر انصر پرویز چےئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے ورلڈ کینسر ڈے کے موقع پر نوری ہسپتال اسلام آباد کے زیر اہتمام ہسپتال میں منعقدہ سیمینارکے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

جہاں وہ مہمان خصوصی تھے ۔انہوں نے کہا کہ پا کستان میں کینسر کے علاج کے لئے موجود ادارے ضرورت سے بہت کم ہیں اور مزید اداروں کے قیام کی طرف توجہ دی جانی چاہیے تاکہ کینسر میں مبتلا مریضوں کو فوری اور ارزاں علاج معالجہ مےئسر آ سکے۔ اعزاز احمد چوہدری وفاقی سیکرٹری خارجہ نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کینسر کی مختلف اقسام کے شکار مریض ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں اور اس میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔

اس موذی مرض سے بچاؤ اور اس کے پھیلاؤ کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لئے مختلف ورکشاپس ،آگاہی واک اور سیمینار کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر جاوید عرفان ڈائریکٹر نوری ہسپتال نے اس موقع پر کہا کہ کینسرکے قابلِ علاج مرض ہونے کے بارے میں آگاہی مہم ملک گیر سطح پر چلائی جانی چاہیے تاکہ اس مرض میں مبتلا مریضوں اور ان کے خاندانوں کے ذہنوں سے اس بیماری کا خوف دور کیا جاسکے اور اس کے علاوہ احتیاطی تدابیر اور پرہیز کے متعلق بھی ایک پبلک میسج دیا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر محمد فہیم نے کہا کہ آج کی اس تقریب کا مقصد کینسر کے مرض کے متعلق پائے جانے والے توہمات کو دور کرنا اور اس کی بروقت تشخیص اور علاج کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ ملک میں اس شعبہ میں تشخیص مرض کیلئے جدید ایکوپمنٹ اور مشینری کی کمی ہے اور اس سلسلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کہ اس مرض کی بڑھتی ہوئی شرح میں کمی ہوسکے ۔

تقریب میں ڈاکٹر جمال ناصر،بیرسٹر عابد وحید شیخ ایم ڈی بیت المال، زمرد خان سابق ایم ڈی بیت المال ،ڈاکٹر حمیرا محمود، ڈاکٹر فیاض احمد ڈائریکٹر میڈیکل سروسز ،بریگیڈئر شاہد رسول ،ڈاکٹر احسن محمود ، ڈاکٹر ریاض احمد شیخ ، محمد نعیم ممبر فیول پی اے ای سی،پروفیسر خلیق الزمان اور دیگر ماہرین کینسر اور میڈیکل سٹوڈنٹس کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی ۔

تقریب کے اختتام پرمہمان خصوصی ڈاکٹر انصر پرویز ، چےئرمین پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اوراعزاز احمد چوہدری وفاقی سیکرٹری خارجہ نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالے ڈاکٹرز اور کینسر سے چھٹکارا پانے والے مریضوں میں شیلڈز تقسیم کیں ۔ تقریب کی چیف آرگنائزرڈاکٹر حمیرہ محمود نے تمام شرکاء کی تشریف آوری پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ دوسرے مرحلہ میں شرکائے سیمینار نے کینسر کے عالمی دن کے بینرز ،پوسٹر ز اور پلے کارڈز کیساتھ واک میں شرکت کی جس کی قیادت ڈاکٹر انصر پرویز، اعزاز احمد چوہدری، ڈاکٹر جمال ناصر،بیرسٹر عابد وحید شیخ، زمرد خان ، ڈاکٹر جاوید عرفان، ڈاکٹر محمدفہیم ، ڈاکٹر حمیرہ محمود ، ڈاکٹر فیاض احمد اور دیگر نے کی۔

04/02/2015 - 19:11:03 :وقت اشاعت