بند کریں
صحت صحت کی خبریںسگریٹوں کی غیر قانونی تجارت اور سمگلنگ کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 27ار ب روپے کا نقصان

صحت خبریں

وقت اشاعت: 05/02/2015 - 16:01:49 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 13:56:10 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 13:45:12 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 13:19:33 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 13:11:35 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 12:46:11 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 12:25:32 وقت اشاعت: 05/02/2015 - 11:44:06 وقت اشاعت: 04/02/2015 - 23:32:05 وقت اشاعت: 04/02/2015 - 23:32:05 وقت اشاعت: 04/02/2015 - 23:13:24

سگریٹوں کی غیر قانونی تجارت اور سمگلنگ کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 27ار ب روپے کا نقصان

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 05فروی 2015ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کامرس کو بریفنگ دیتے ہوئے چیرمین ٹوبیکو بورڈ فرید اللہ خان نے بتایا کہ سگریٹوں کی غیر قانونی تجارت اور سمگلنگ کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 27ار ب روپے کا نقصان ہو رہا ہے تمباکو کی فصل سے حکومت سالانہ 85کروڑ روپے ٹیکسوں کی مد میں منافع حاصل کر رہا ہے پاکستان دنیا کا ساتواں بڑابہترین تمباکو فراہم کرنے والا ملک ہے بورڈ ممبران گذشتہ ایک سال سے مقرر نہیں کئے گئے ہیں مشکلات درپیش ہیں اس کو حل کیا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے قائمہ کمیٹی کو پاکستان تمباکو بورڈ سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کیا کمیٹی کی صدارت چیرمین سراج محمد خان نے کی اجلاس میں ممبران چوہدری اسد الرحمن طاہرہ اورنگزیب زیب جعفر عائشہ رضا فاروق شازیہ مری مسرت احمد زیب اور ڈاکٹر فوزیہ حمید سمیت ممبران نے شرکت کی اس موقع پر چیرمین قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر تجارت کی اجلاس میں عدم شرکت اور مطلوبہ معلومات فراہم نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہاکہ کمیٹی کا اصل مقصد ملکی معاملات کی دیکھ بھال کرنا اور اس میں خامیوں کی نشاندھی کرنا ہے قومی اسمبلی کا اجلاس تو محض دنیا کو دکھانے کیلئے ہوتا ہے اصل کام تو قائمہ کمیٹیاں کرتی ہیں انہوں نے کہاکہ وزیر تجارت کی جانب سے قائمہ کمیٹی کو اہمیت نہ دینا افسوسناک ہے اس موقع پر کمیٹی نے پی ایس ڈی پی سے متعلق بجٹ سفارشات کاٹن اور چاول کی برآمدات سے متعلق امور کو اگلے اجلاس تک موخر کر دیا اس موقع پر چیرمین ٹوبیکو بورڈ فرید اللہ نے بتایا کہ تمباکو کی فصل اس وقت پاکستان کی قیمتی فصل ہے اور اس سے وابستہ 75ہزار خاندانوں کو لاکھوں روپے منافع دے رہا ہے انہوں نے بتایاکہ 1968میں ٹوبیکو بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا اور پاکستان میں 0.21فیصد زمین پر اس کی کاشت کی جاتی ہے تین لاکھ پچاس ہزار افراد اس کی کاشت اور دیگر امور سے وابستہ ہوتے ہیں اور سالانہ 300بلین روپے کا منافع ہوتا ہے انہوں نے کہاکہ سگریٹوں کی غیر قانونی تجارت کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ 27ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے جس میں 60فیصد نقصان کی ذمہ داری آزاد کشمیر پر عائد ہوتی ہے انہوں نے بتایا کہ جعلی برانڈ کی سگریٹ بنانے اور ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر سگریٹوں کی تیاری ازاد کشمیر میں سب سے زیادہ ہورہی ہے اس کے سلسلے میں آزاد کشمیر حکومت اور ایف بی آر سے رابطہ کیا ہے تاکہ اس غیر قانونی تجارت کو ختم کیا جا سکے انہوں نے بتایا کہ تمباکو بورڈ کے ممبران کی تقرری گذشتہ ایک سال سے نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے سٹاف کی کمی اور دیگر مسائل کا سامنا ہے اس موقع پر کمیٹی کے اراکین سے تمباکو بورڈ کے معاملات فوری طور پر حل کرنے اور حکومت کو بورڈ ممبران کا فوری تقرر کرنے کی سفارش کی ۔

05/02/2015 - 12:46:11 :وقت اشاعت