بند کریں
صحت صحت کی خبریںپنجاب اسمبلی ‘فرانسیسی جریدے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کیخلاف مذمتی ،شاہ عبد اللہ کے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 11/02/2015 - 15:08:45 وقت اشاعت: 11/02/2015 - 14:27:49 وقت اشاعت: 11/02/2015 - 14:11:50 وقت اشاعت: 11/02/2015 - 13:50:59 وقت اشاعت: 10/02/2015 - 23:31:45 وقت اشاعت: 10/02/2015 - 23:19:43 وقت اشاعت: 10/02/2015 - 23:18:27 وقت اشاعت: 10/02/2015 - 22:56:23 وقت اشاعت: 10/02/2015 - 22:36:32 وقت اشاعت: 10/02/2015 - 21:51:03 وقت اشاعت: 10/02/2015 - 21:43:06

پنجاب اسمبلی ‘فرانسیسی جریدے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کیخلاف مذمتی ،شاہ عبد اللہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کی قراردادیں منظور،

ایوان نے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا سالانہ آڈٹ کرانے ، سبزیوں پر انسانی صحت کیلئے مضر کرم کش ادویات کے سپر ے پر قانون کے مطابق پابندی عائد کرانے کی قراردادیں بھی منظور ، , اپوزیشن کاسوالات کے جوابات سے مطمئن نہ ہونے پر ایوان کی کارروائی سے ٹوکن واکٹ آؤٹ ،وزراء کی عدم شرکت پر شدید احتجاج ، , بات کرنے کا موقع نہ ملنے پر احسن ریاض فتیانہ نے تین مرتبہ کورم کی نشاندہی کی ‘ تعداد پوری ہونے پر اجلاس کی کارروائی جاری رہی، , الیکشن کمیشن جس روز حلقہ بندی کر کے انتخاب کا کہے گا 30روز میں بلدیاتی انتخابات کرا دینگے‘ پارلیمانی سیکرٹری رمضان صدیق بھٹی، , نجی سکولوں نے حکومتی پالیسی کے تحت صوبے میں 218208غریب بچوں کو مفت تعلیم دینے کیلئے داخل کیا ‘ تحریک التوائے کار میں جواب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10فروری 2015ء) پنجاب اسمبلی کے ایوان نے فرانسیسی جریدے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کیخلاف مذمتی اور سعودی عرب کے فرمانرواں شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز کے انتقال پر اظہار تعزیت کی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں ،ایوان نے صوبہ بھر کے تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا سالانہ آڈٹ کرانے ، اسکی بنیاد پر ان پر ٹیکس عائد کرنے اور سبزیوں پر انسانی صحت کیلئے مضر کرم کش ادویات کے سپر ے پر قانون کے مطابق پابندی عائد کرانے کی قراردادیں بھی منظور کر لی گئیں ، اپوزیشن اراکین نے سوالات کے جوابات سے مطمئن نہ ہونے پر ایوان کی کارروائی سے ٹوکن واکٹ آؤٹ بھی کیا جبکہ اس موقع پر وزراء کی عدم شرکت پر شدید احتجاج کیا گیا جس پر حکومتی اراکین نے بھی اسکی تائید کی ۔

ایوان کو بتایا گیا ہے کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق نجی سکولوں نے 2014-15ء میں صوبے میں 218208بچوں کو مفت تعلیم دینے کیلئے داخل کیا ہے ۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس پہلے روز اپنے مقررہ وقت تین بجے کی بجائے ایک گھنٹہ 10منٹ کی تاخیر سے قائمقام اسپیکر سردار شیر علی گورچانی کی صدارت میں شروع ہوا ۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری رمضان صدیق بھٹی نے محکمہ لوکل گورنمنٹ و کمیونٹی ڈویلپمنٹ سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ۔

اجلاس کے آغاز پر آزاد رکن اسمبلی احسن ریاض فتیانہ نے نقطہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر کہا کہ اگر آپ مجھے مجبور کریں گے تو میں بھی آپ کو تنگ کروں گا ۔ آپ ہاؤس کو بلڈوز نہ کریں اور اسکے ساتھ ہی رکن اسمبلی نے کورم کی نشاندہی کر دی اور تعداد پوری نہ ہونے پر پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں اور تعداد پوری ہونے پر دوبارہ اجلاس کی کارروائی شروع کی گئی ۔

پارلیمانی سیکرٹری نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان کو بتایا کہ پنجاب حکومت عدالت کے حکم کے مطابق حلقہ بندیوں کیلئے الیکشن کمیشن کی بھرپور معاونت کر رہی ہے اور انہیں اس سلسلہ میں تمام ریکارڈ فراہم کر دیا گیا ہے ۔ الیکشن کمیشن جس روز انتخابات کے حوالے سے کہے گا اسکے تیس روز بعد صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرا دئیے جائیں گے۔ ڈاکٹر وسیم اختر نے کہا کہ پرویز مشرف سے لاکھ اختلاف ہیں لیکن بلدیاتی نظام اس دور میں ہی بنا ۔

جب جمہوری حکومتیں آتی ہیں وہ اس طرف توجہ نہیں دیتیں اور اب بھی دور دور بلدیاتی انتخابات ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ڈی سی او کو گھنٹہ گھر بنا دیا گیا ہے ۔ جب تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے عوام کے مسائل کے حل اس وقت رولز میں ترامیم لائی جائیں۔ پارلیمانی سیکرٹری رمضان صدیق بھٹی نے ایوان کو بتایا کہ پورے پنجاب میں صاف پانی منصوبے کے تحت 1300فلٹریشن پلانٹس لگائے جائیں گے جس میں سے 187لاہور میں لگیں گے۔

اسکے بعد احسن ریاض فتیانہ اوپر گیلری میں چلے گئے جہاں سے انہوں نے دوبارہ کورم کی نشاندہی کر دی اور تعداد پوری نہ ہونے پر قائمقام اسپیکر نے دوبارہ پانچ منٹ کے لئے گھنٹیاں بجانے کی ہدایت کی اور بعد ازاں تعداد پوری ہونے پر اجلاس کی کارروائی کا دوبارہ آغاز کیا گیا ۔ حکومتی خاتون رکن راحیلہ خادم حسین کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ موبائل کمپنیوں کے کچھ ٹاور ز حکومت کی پالیسی قانون او ر شرائط کے مطابق نصب ہیں جبکہ کچھ ٹاورز کمپنیوں نے محکمہ جات کی اجازت کے بغیر نصب کر رکھے ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ موبائل کمپنیوں کے ذریعے بیرونی سرمایہ کاری آتی ہے اس لئے انہیں زمین کی کمرشلائزیشن کی فیس بھی معاف کر دی گئی ہے ۔ اجلاس میں بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر احسن ریاض فتیانہ نے تیسری بار بھی کورم کی نشاندہی کر دی جس پر قائمقام اسپیکر نے افسوس کا اظہار کیا جس کے جواب میں احسن ریاض فتیانہ نے کہا کہ حلقے کی عوام کے لئے یہ بہت ضروری ہے ۔

اگر آپ رولز کی بات کرتے ہیں تو یہ ایوان بھی رولز کے مطابق چلنا ضروری ہے ۔ قائمقام اسپیکر نے تعداد پوری نہ ہونے پر پانچ منٹ کے لئے گھنٹیاں بجانے کا حکم دیا اور تعداد پوری ہونے کے بعد اجلاس کی دوبارہ کارروائی کا آغاز کیا گیا ۔ اجلاس کے دوران قاضی احمد سعید کی تحریک استحقاق پیش کی گئی جسے ایوان کی رائے سے استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ۔

اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری نذر حسین گوندل نے حکومتی رکنی شیخ علاؤ الدین کی تحریک التوائے کا ر کے جواب میں بتایا کہ پنجاب حکومت کی پالیسی کے مطابق پورے پنجاب میں 2014-15کے تعلیمی سال میں نجی تعلیمی اداروں نے مجموعی طور پر 2032378بچوں میں سے دس فیصد غریب بچوں جومجموعی تعداد کا 218208بنتے ہیں تعلیم دی جارہی ہے اور جو تعلیمی ادارے انکاری ہوتے ہیں انکے خلاف کارروائی کی جاتی ہے ۔

جواب آنے پر اسپیکر نے تحریک التوائے کو نمٹا دیا تاہم شیخ علاؤ الدین نے کہا کہ آپ دس فیصد بچوں کی بات کرتے ہیں آپ دس بچوں کے نام بتا دیں ۔ جس پر قائمقام اسپیکر نے کہا کہ آپ پانچ سکول وزٹ کر لیں اور آ کر اسکی نشاندہی کر دیں۔ اس موقع پر دیگر اراکین نے بھی شیخ علاؤالدین کی بات کی تائید کی اور کہا کہ اس معاملے کو کمیٹی کے سپرد کر دیں ۔ جس پر صوبائی وزیر محنت راجہ اشفاق سرور نے کہا کہ ایک معزز رکن اگر بات کر رہے ہیں تو اس پر کمیٹی بنا دیں جس پر اسپیکر نے کہا کہ شیخ علاؤ الدین اس کے لئے لکھ کر دیدیں جس پر شیخ علاؤ الدین نے کہا کہ میری تحریک آ چکی ہے اس پر مزید لکھ کر دینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔

قائمقام اسپیکر نے حکومتی رکن امجد علی جاوید کی طلبہ کے پرچوں کی مارکنگ کے حوالے سے تحریک التوائے کار قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے سپرد کرتے ہوئے دو مہینے میں رپورٹ مانگ لی۔ اس موقع پرایوان میں موجود پیپلز پارٹی اور (ق) لیگ کے اراکین بھی کھڑے ہو گئے اور انہوں نے بھی سوالات کے جوابات سے مطمئن نہ ہونے اور وزراء کی ایوان میں عدم موجودگی پر اعتراض کیا ۔

اس موقع پر سردار وقار حسن موکل نے کہا کہ ہم یہاں ایوان میں عوام کی بات کرنے آتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے آنا ہے اور نہ آپ انہیں بلا سکتے ہیں لیکن وزراء کو تو ایوان میں آنا چاہیے تاکہ ہم انہیں اپنے حلقوں کے مسائل بتا سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے ایک اجلاس کی کارروائی پر کتنا پیسہ خرچ ہوتا ہے اور یہ پیسہ ٹیکس پیئر کا پیسہ ہے ۔

آپ رولنگ دیں کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے علاوہ وزراء تو ایوان میں آئیں ۔حکومتی رکن ملک محمد احمد خان نے بھی وزراء کی عدم موجودگی پر اپوزیشن کی تائید کی اور کہا کہ کل آپ بھی نہیں ہوں گے ہم بھی نہیں ہونگے لیکن پنجاب اسمبلی میں یہ واقعات منہ چڑھائیں گے ۔ سردار شہاب الدین نے کہا کہ ٹی ایم اے 2008ء میں تھے اور ہم 2013ء نیا قانون پا س کر چکے ہیں لیکن آج بھی ہم وقفہ سوالات میں ٹی ایم اے پر بات کر رہے ہیں ۔

اس دوران مسلم لیگ (ق) ‘ پیپلز پارٹی اور آزاد اراکین نے ایوان سے ٹوکن واک آؤٹ کر دیا جس پر قائمقام اسپیکر کی ہدایت پر راجہ اشفاق سرور انہیں منا کر ایوان میں واپس لائے ۔اجلاس میں گزشتہ سال سے زیر التواء میں رکھی گئی مسلم لیگ (ق) کے رکن اسمبلی عامر سلطان چیمہ کی صوبہ بھر میں جعلی ادویات بنانے والی فیکٹریوں اور انکے ساتھ گٹھ جوڑ کرنے والے میڈیکل سٹوروں کے خلاف سخت کارروائی کی قرارداد پیش کی گئی جس پر صوبائی وزیر طاہر خلیل سندھو نے کہا کہ اس حوالے سے باقاعدہ قانون منظور ہے اور اس قرارداد کی ضرورت نہیں جس پر اس پر ووٹنگ کرائی گئی اور اس قرارداد کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا جس پر اپوزیشن اراکین نے جعلی ادویات والوں کو سپورٹ کرنے والوں کو مبارکباد کے نعرے لگائے ۔

ڈاکٹر وسیم اختر کی قرارداد ترامیم کے بعد منظور کر لی گئی ۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اس ایوان کی رائے ہے کہ سبزیوں پر انسانی صحت کے لئے مضر کرم کش ادویات کے سپرے پر قانون کے مطابق پابندی کرائی جائے ۔ حکومتی رکن نگہت ناصر شیخ کی قراردادمیں کہا گیا کہ ایوان کی رائے ہے کہ صوبے کے تمام پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا سالانہ آڈٹ کرایا جائے اور اس سالانہ آڈت کی بنیاد پر ان کر پر ٹیکس عائد کیا جائے ۔

صوبا ئی وزیر طاہر خلیل سندھو نے اسکی مخالفت کی اور کہا کہ حکومت نجی تعلیمی اداروں کو فنڈ یا گرانٹ نہیں دیتی اس لئے ان کا آڈٹ نہیں ہو سکتا اس پر شیخ علاؤ الدین نے کہاکہ کیا حکومت بینکوں کو رقم دیتی ہے جو ان کا آڈٹ ہوتا ہے ۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ اس حوالے سے پرائیویٹ ایجوکیشن بل آ رہا ہے جس میں سارے معاملات کا احاطہ ہو سکے گا ۔ تاہم قائمقام اسپیکر نے اس قرارداد پر ووٹنگ کرا ئی اور اس قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ۔

پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں قواعد کی معطلی کی تحریک کی منظوری کے بعد صوبائی وزیر طاہر خلیل سندھو نے فرانسیسی جریدے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کیخلاف مذمتی قرارداد پیش کی جس کے متن میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان فرانسیسی جریدے میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی شدید مذمت کرتا ہے ۔ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے پے درپے واقعات سے تمام مذاہب خصوصاً مسلمانوں میں بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے ۔

تمام ممالک بین المذاہب ہم آہنگی کے داعی ہیں آزاد ی اظہار رائے کی آڑ میں اسے نقصان پہنچایا جارہا ہے ۔ اس طرح کی گستاخی کے انسداد کیلئے اقوام متحدہ سے قانون ساز ی کی سفارش کی جائے ۔ اجلاس میں قواعدکی معطلی کی دوسری تحریک کی منظوری کے بعد سعودی عرب کے فرمانرواں شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز کے انتقال پر تعزیتی قرارداد منظور کر لی گئی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان شاہ عبد اللہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتا ہے ۔

انکے انتقال سے مسلم امہ ایک عظیم رہنما اور پاکستان ایک خیر خواہ اور عظیم دوست سے محروم ہو گیا ۔ پاکستانی قوم اس دکھ میں سعودی عوام کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطا کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے ۔کارروائی مکمل ہونے پر اجلاس آج بدھ صبح دس بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا ۔

10/02/2015 - 23:19:43 :وقت اشاعت