بند کریں
صحت صحت کی خبریںپانی و بجلی، تعلیم و صحت کے 213 ترقیاتی منصوبوں کیلئے گزشتہ سال مختص1978 ارب میں سے صرف 4.5 فیصد ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 16/02/2015 - 16:16:35 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 16:14:04 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 16:04:38 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 15:57:55 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 15:11:12 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 14:56:06 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 14:55:05 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 14:22:05 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 14:22:05 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 13:53:35 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 13:13:15

پانی و بجلی، تعلیم و صحت کے 213 ترقیاتی منصوبوں کیلئے گزشتہ سال مختص1978 ارب میں سے صرف 4.5 فیصد فنڈز جاری

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16فروی 2015ء) وفاقی حکومت نے گزشتہ سال کے دوران پانی و بجلی، تعلیم اور صحت کے 213 ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1978 ارب مختص کئے، صرف 4.5 فیصد فنڈز جاری ہو سکے، بلوچستان، خیبرپختونخوا میں 99 چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کیلئے 177 ارب روپے کی رقم بجٹ میں مختص کی جبکہ صرف 14 ارب روپے جاری کئے، بجلی کی پیداوار اور ترسیل 29 ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1659 ارب روپے مختص کئے اور صرف 62 ارب روپے جاری ہوئے ، اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے بنائے گئے 111 منصوبوں کیلئے 101 ارب روپے مختص کر کے صرف 10 ارب روپے جاری کئے گئے۔

پلاننگ کمیشن کی دستاویزات کے مطابق 2009 میں وفاقی حکومت نے بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں آبپاشی اور پینے کے پانی کی فراہمی کیلئے 99 چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کا منصوبہ بنایا تھا جبکہ اس پر 177 روپے لاگت کا تخمینہ لگایا تھا، مذکورہ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کیلئے 70 فیصد رقم وفاقی حکومت نے سالانہ ترقیاتی بجٹ سے فراہم کرنا تھی جبکہ 30 فیصد رقم عالمی بینک ، ایشیائی ترقیاتی بینک و دیگر عالمی مالیاتی اداروں نے فراہم کرنا تھے۔

اس کے برعکس 30 جون 2014 تک یعنی پانچ سال کے دوران مذکورہ منصوبے کے تحت چند ڈیموں کی تعمیر کیلئے صرف 14 ارب روپے جاری کئے گئے جبکہ مذکورہ رقم سے بلوچستان یا خیبرپختونخواہ میں کوئی ایک ڈیم بھی مکمل نہیں ہو سکا۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 2009-10 کے بجٹ میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں 99 چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کا منصوبہ شامل تو کر لیا لیکن میں بعد فنڈز کی عدم دستیابی کے تحت صرف بلوچستان میں 40چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کو ترجیح دی گئی جبکہ 2010 میں بھی فنڈز دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ منصوبے کو نولانگ ڈیم، مندر ڈیم سمیت صرف 10 چھوٹے ڈیموں کی تعمیر تک محدود کر دیا گیا تھا، پلاننگ کمیشن کی دستاویزات کے مطابق مذکورہ ڈیموں کی تعمیر کیلئے 30 جون2014 تک صرف 14 ارب روپے مذکورہ منصوبے کیلئے جاری کئے گئے ہیں اور اب تک کوئی ایک ڈیم بھی مکمل نہیں ہو سکا۔

مزید واضح ہے کہ مذکورہ 14 ارب روپے میں 90 فیصد زائد رقم عالمی مالیاتی اداروں سے حاصل کی گئی۔ مزیں برآں وفاقی حکومت نے مالی سال 2009-10 کے بجٹ میں بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے 29 ترقیاتی منصوبے شامل کئے تھے جن پر 1659ارب روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا مگر پانچ سال کے دوران وفاقی حکومت مذکورہ منصوبوں کیلئے صرف 62 ارب روپے جاری کئے گئے، اس میں بھی بڑا حصہ عالمی مالیاتی اداروں کا شامل ہے۔

وفاقی حکومت 2009-10 کے بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے 101 ارب روپے مالیت کے 111 ارب روپے کے منصوبوں کی منظوری دی تھی جبکہ پانچ سال کے دوران اس پر بھی صرف 10ارب روپے خرچ ہوئے ہیں جبکہ صحت کے 41 رب روپے لاگت کے حامل 24 ترقیاتی منصوبوں پر 3 ارب خرچ کئے گئے، یوں وفاقی حکومت کے یکم جولائی 2009 سے 30 جون 2014 کے دوران پانی، بجلی، تعلیم اور صحت کے کل 213 منصوبوں جن کیلئے 1978 روپے کی رقم جاری کی گئی تھی کیلئے صرف 89 ارب روپے جاری کئے گئے جو کل لاگت کا محض 4.5 فیصد بنتا ہے۔

16/02/2015 - 14:56:06 :وقت اشاعت