بند کریں
صحت صحت کی خبریںپیدائش سے لے کر 5سال تک کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلواناانتہائی ضروری ہے تاکہ انہیں کو معذوری ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 17/02/2015 - 14:11:59 وقت اشاعت: 17/02/2015 - 13:43:19 وقت اشاعت: 17/02/2015 - 13:06:13 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 23:30:09 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 23:12:55 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 23:12:55 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 23:00:30 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 22:43:57 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 22:43:57 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 22:42:33 وقت اشاعت: 16/02/2015 - 22:41:19

پیدائش سے لے کر 5سال تک کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلواناانتہائی ضروری ہے تاکہ انہیں کو معذوری سے ہمیشہ کے لئے بچایا جاسکے،ڈپٹی کمشنر لورالائی

لورالائی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16فروری 2015ء)ڈپٹی کمشنر لورالائی شاہ زیب کاکڑ نے کہا ہے کہ پیدائش سے لے کر 5سال تک کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلواناانتہائی ضروری ہے تاکہ انہیں کو معذوری سے ہمیشہ کے لئے بچایا جاسکے۔ یہ بات انہوں نے گذشتہ روز ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ 16تا 19فروری 2015ء ہونے والی چار روزہ پولیو مہم میں والدین، اساتذہ کرام، سرکاری اداروں کے آفیسران وہلکار، یونین کونسلوں کے ڈاکٹر، ایریا منیجرز، پیرا میڈیکل سٹاف، علماء کرام او رقبائلی معتبرین بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ اس موذی مرض سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔

ڈپٹی کمشنر لورالائی نے بتایا کہ پولیو ٹیموں کی سیکورٹی کے لئے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس دوران ایف سی، پولیس، لیویز اور بلوچستان کانسٹیبلری کے نوجوان سیکورٹی پر معمور ہوں گے، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لورالائی ڈاکٹر نصراللہ غلزئی نے بتایا کہ لورالائی میں پولیو کے قطرے پلوانے کے لئے تمام انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جس کے لئے 174ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

جبکہ 12فکس سنٹرز اور 8 ٹرانزٹ پوائنٹ بھی بنائے گئے ہیں۔ یونین کونسل میڈیکل آفیسرز کی تعداد 22 ہے، ایریا منیجرز کی تعداد 38، پولیو مہم کے دوران 52موٹر سائیکلوں پر پولیو اہلکار مہم میں حصہ لیں گے۔ مختلف سرکاری اداروں کی 35گاڑیاں بھی پولیو کی مہم کے دوران استعمال کی جائیں گی۔ ڈی ایچ او نے کہا کہ ضلع لورالائی اور دکی میں تقریباً 67164بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ مہاجر کیمپوں اور خانہ بدوشوں کے خیموں میں بھی پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کہ مختلف محکموں کے افسران کی ڈیوٹی ہوگی کہ وہ گھر گھر جاکر بچوں کے فنگر پرنٹس اور ڈور ڈوڑ وال چاکنگ کو چیک کیا جائے گا تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو قطرے پینے سے نہ رہ جائے۔

16/02/2015 - 23:12:55 :وقت اشاعت