بند کریں
صحت صحت کی خبریں سندھ میں زیادہ تر شوگر ملز انور مجید نامی شخص کی ملکیت ہیں، کیا ایک شخص اتنی ملز لگا سکتا ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 17/02/2015 - 22:21:39 وقت اشاعت: 17/02/2015 - 21:44:55 وقت اشاعت: 17/02/2015 - 21:32:24 وقت اشاعت: 17/02/2015 - 20:59:14 وقت اشاعت: 17/02/2015 - 20:35:06 وقت اشاعت: 17/02/2015 - 20:19:27 وقت اشاعت: 17/02/2015 - 19:45:24 وقت اشاعت: 17/02/2015 - 19:27:37 وقت اشاعت: 17/02/2015 - 19:26:16 وقت اشاعت: 17/02/2015 - 19:03:55 وقت اشاعت: 17/02/2015 - 17:34:57

سندھ میں زیادہ تر شوگر ملز انور مجید نامی شخص کی ملکیت ہیں، کیا ایک شخص اتنی ملز لگا سکتا ہے ؟نصرت سحر عباسی،

قانون میں اس بات پر کوئی پابندی نہیں کہ کسی شخص کوکتنی ملز لگانی چاہئیں ، اگر کوئی شخص 100 ملز بھی لگانا چاہتا ہے تو لگا سکتا ہے،محمد علی ملکانی کا سندھ اسمبلی میں جواب

کراچی ( اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17فروری 2015ء ) سندھ میں زیادہ تر شوگر ملز انور مجید نامی شخص کی ملکیت ہیں ۔ کیا ایک شخص اتنی ملز لگا سکتا ہے ؟ یہ سوال منگل کو سندھ اسمبلی کے وقفہ سوالات کے دوران پاکستان مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے وزیر صنعت محمد علی ملکانی سے کیا ۔ وزیر صنعت نے کہا کہ قانون میں اس بات پر کوئی پابندی نہیں ہے کہ کسی شخص کوکتنی ملز لگانی چاہئیں ۔

اگر کوئی شخص 100 ملز بھی لگانا چاہتا ہے تو لگا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں کل 35 شوگر ملز ہیں ۔ شوگر ملز لگانے کیلئے محکمہ صنعت این او سی جاری کرتا ہے ۔ اگر کسی کو شوگر مل لگانی ہے تو اسے آسانی سے این او سی مل جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2013ء میں سائیٹ ایریا کراچی انفرا سٹرکچر اور سڑکوں کی دوبارہ مرمت کیلئے 27 کروڑ 30 لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے ۔

اس رقم سے 14.2 کلو میٹر سڑکیں ، نالے اور دیگر انفرا سٹرکچر کی تعمیر ہوئی ۔ ایم کیو ایم کے ایک رکن نے وزیر صنعت سے ضمنی سوال کیا کہ کیا آپ پورے سندھ کے وزیر ہیں یا صرف سائیٹ ایریا کے وزیر ہیں کیونکہ ترقی صرف سائیٹ ایریا میں نظر آتی ہے ۔ کراچی سمیت سندھ کے دیگر صنعتی علاقوں میں ترقی نظر نہیں آتی ہے ؟ محمد علی ملکانے کہا کہ وزیر صنعت کی حیثیت سے میں نے تھوڑا عرصہ پہلے چارج لیا ہے ۔

میں پورے سندھ کا وزیر ہوں ۔ مجھ سے پہلے وزیر صنعت شاید صرف کراچی کے وزیر ہوں گے ۔ ایک اور سوال پر وزیر صنعت نے کہاکہ حکومت سندھ کی ملکیت کوئی بیمار صنعت نہیں ہے ۔ صوبے میں 6129 پرائیویٹ صنعتیں چل رہی ہیں ۔ اس موقع پر وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ بیمار پرائیویٹ انڈسٹریز کی بحالی کے لیے حکومت سندھ نے 2 ارب روپے مختص کیے ہیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر صنعت نے بتایا کہ صوبہ سندھ میں 690 رائس ملز ہیں ۔ رائس ملز لگانے کے لیے محکمہ صنعت سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس حوالے سے محکمہ خوراک این او سی جاری کرتا ہے ۔ وزیر صنعت نے کہا کہ سندھ میں 182 فلور ملز ہیں ۔ فلور ملز لگانے کیلئے محکمہ خوراک سے این او سی لینا پڑتا ہے ۔

17/02/2015 - 20:19:27 :وقت اشاعت