بند کریں
صحت صحت کی خبریںخودکش حملوں کے طریقہ کار میں تبدیلی،جائے وقوعہ سے حملہ آور کا سر نہ ملنے پر تفتیشی حکام کو ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 18/02/2015 - 23:27:20 وقت اشاعت: 18/02/2015 - 23:14:57 وقت اشاعت: 18/02/2015 - 23:06:05 وقت اشاعت: 18/02/2015 - 22:58:49 وقت اشاعت: 18/02/2015 - 22:34:02 وقت اشاعت: 18/02/2015 - 22:23:38 وقت اشاعت: 18/02/2015 - 22:18:15 وقت اشاعت: 18/02/2015 - 21:37:06 وقت اشاعت: 18/02/2015 - 21:37:06 وقت اشاعت: 18/02/2015 - 21:37:06 وقت اشاعت: 18/02/2015 - 21:13:49

خودکش حملوں کے طریقہ کار میں تبدیلی،جائے وقوعہ سے حملہ آور کا سر نہ ملنے پر تفتیشی حکام کو مشکلات کا سامنا ،

پہلے خودکش بمبار سیدھا کھڑے ہو کر ،اب رکوع کی حالت میں دونوں ہاتھ چھاتی سے تھوڑا نیچے باندھ کر خود کو دھماکے سے اڑاتے ہیں، , نئے طریقے کی وجہ سے حملہ آور کا سر مکمل طور پر اڑ جاتا ہے ہاتھوں کی انگلیاں بھی ضائع ہو جاتی ہیں،انگلیوں کے نشان ملنا بھی ناممکن ہو جاتا ہے، , موجودہ طریق کار کی وجہ سے صرف حملہ آور کی نسل کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے،واہگہ بارڈر اور پولیس لائنز کے قریب خودکش حملے میں بھی یہی طریقہ کار استعمال کیا گیا ‘ جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرنے والی ٹیم کے رکن کی برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔18فروری۔2015ء) پاکستان میں حالیہ برسوں میں خودکش دھماکوں کی ایک طویل فہرست ہے اور ایسے حملوں کو روکنے پر حکام اپنی مجبوریوں کا کئی بار اظہار بھی کر چکے ہیں۔تاہم ایسے واقعات کے بعد تحقیقات کرنے والے حکام کو خودکش بمبار کے سر کی صورت میں ایک اہم ثبوت مل جاتا تھا اور اس ثبوت سے تحقیقات کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی تھی لیکن حالیہ خودکش حملوں میں تفتیشی حکام کو کافی مشکلات کا سامنا ہو رہا کیونکہ ان کو جائے وقوعہ سے حملہ آور کا سر نہیں ملتا۔

شدت پسندی کے واقعات کے بعد جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرنے والی ٹیم کے ایک رکن نے نام نہ ظاہر کی شرط پر برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ حالیہ واقعات میں خودکش دھماکے کے بعد سر نے ملنے کی وجہ یہ ہے کہ حملہ آوروں اور ان کے ہینڈلرز نے طریقہ کار تبدیل کر لیا ہے۔ پہلے خودکش بمبار سیدھا کھڑے ہو کر اپنے آپ کو اڑاتے تھے لیکن اب خودکش حملہ آور رکوع کی حالت میں دونوں ہاتھ چھاتی سے تھوڑا نیچے باندھ کر خود کو دھماکے سے اڑاتے ہیں۔

انہوں نے اس طریقے کے پیچھے سوچ کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ سیدھا کھڑے ہو کر دھماکے کرنے کی صورت میں بمبار کا سر عموما ًتن سے جدا ہو جاتا تھا اور دوسرا اس کے بازوں یا ہاتھ بھی الگ ہو جاتے تھے۔ لیکن اس نئے طریقے کی وجہ سے ایک تو سر مکمل طور پر اڑ جاتا ہے اور دوسرا ہاتھوں کی انگلیاں بھی ضائع ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے انگلیوں کے نشان ملنا بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔

طریقہ کار کی تبدیلی کے باعث اس سے ہونے والے جانی نقصان میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے یا نہیں کہ جواب میں جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرنے والی ٹیم کے رکن نے کہا کہ خودکش جیکٹ میں آگے اور پیچھے دونوں جانب دھماکہ خیز مواد اور بال بیئرنگ استعمال کیے جاتے ہیں۔ رکوع کی پوزیشن میں دھماکہ جب کیا جاتا ہے تو اس سے اگر سامنے کی جانب کم نقصان ہوتا ہے تو عقبی جانب زیادہ نقصان ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں کچھ عرصہ پہلے واہگہ بارڈر کے قریب ہونے والے خودکش حملے میں بھی یہی طریقہ کار استعمال کیا گیا تھا۔اس میں رکوع کی حالت میں دھماکہ کیا گیا تھا اور جس میں 55افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس دھماکے میں حملہ آور کے چند بال اور جِلد کا کچھ حصہ ہی مل پایا تھا۔اہلکار نے مزید بتایا کہ لاہور میں منگل کو پولیس لائنز کے قریب ہونے والے دھماکے میں بھی خودکش حملہ آور نے رکوع پوزیشن ہی میں اپنے آپ کو اڑایا۔

لیکن ابتدائی تفتیش سے معلوم چلا ہے کہ خودکش بمبار نے بظاہر جلدی میں دھماکہ کیا تھا کیونکہ اس کا ہدف اس وقت پولیس لائنز میں موجود ڈی آئی جی ہو سکتے تھے۔ جلد بازی کے باعث اس کے بالوں کی مکمل جلدِ جائے وقوعہ سے ملی ہے اور ایک ناقابل شناخت لاش بھی ملی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ شخص خودکش بمبار کو ہدف تک پہنچانے آیا تھا۔

انہوں نے واہگہ کے برعکس پولیس لائنز کے قریب ہونے والے دھماکے میں جانی نقصان کم ہونے کے بارے میں بتایا کہ دونوں واقعات میں خودکش جیکٹ میں بال بیئرنگ کی تقریبا ًایک جیسی مقدار یعنی تین ہزار سے ساڑھے تین ہزار تک استعمال کی گئی تھی۔ لیکن بظاہر یہ دھماکہ جلدی میں کیا گیا جس کی وجہ سے نقصان کم ہوا ۔پاکستان میں ڈی این اے ٹیسٹ سمیت شواہد سے متعلق جدید ٹیکنالوجی کی موجودگی میں خودکش بمبار کا سر تحقیقات میں کتنا مددگار ہو سکتا ہے پر انہوں نے کہا کہ سر کی سرجری کرنے کے بعد اس کی تصاویر سکیورٹی اداروں، مخبروں اور تحقیقات میں مدد دینے والے دیگر ذرائع کو جاری کی جاتی ہے۔

اس کی مدد سے حملہ آور حملے سے پہلے کسی نہ کسی جگہ موجودگی کے بارے میں معلومات ملنے کے کافی امکانات ہوتے ہیں۔ لیکن موجودہ طریق کار کی وجہ سے صرف حملہ آور کی نسل کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات کی روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور نگرانی کے زیادہ بہتر انتظامات پر زور دیا جاتا ہے لیکن اب موجودہ صورتحال نے اس ضمن میں پائی جانے والی تشویش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

18/02/2015 - 22:23:38 :وقت اشاعت