بند کریں
صحت صحت کی خبریںسیاست سے کوئی تعلق نہیں، علماء کی مشاورت سے لال مسجد کی خطابت قبول کی، مولانا اشفاق مدنی،خطبہ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 27/07/2007 - 16:28:17 وقت اشاعت: 27/07/2007 - 16:11:39 وقت اشاعت: 27/07/2007 - 15:34:33 وقت اشاعت: 26/07/2007 - 13:18:11 وقت اشاعت: 26/07/2007 - 12:23:11 وقت اشاعت: 25/07/2007 - 22:46:16 وقت اشاعت: 25/07/2007 - 13:39:52 وقت اشاعت: 25/07/2007 - 12:26:00 وقت اشاعت: 24/07/2007 - 18:58:08 وقت اشاعت: 24/07/2007 - 13:38:50 وقت اشاعت: 23/07/2007 - 22:25:26

سیاست سے کوئی تعلق نہیں، علماء کی مشاورت سے لال مسجد کی خطابت قبول کی، مولانا اشفاق مدنی،خطبہ جمعہ کیلئے حکومت نے کوئی ہدایت نہیں کی، جامعہ حفصہ کے حوالے سے وفاق المدارس کی مشاورت سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا،اسلام میں خودکشی حرام ہے، مولانا عبدلعزیز نے کسی کو خودکش حملوں کا حکم نہیں دیا، لال مسجد آپریشن کے پس پردہ حقائق کریدنے کا کوئی فائدہ نہیں،خبر رساں ادارے کو انٹرویو

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25جولائی۔2007ء) لال مسجد کیلئے نامزد خطیب مولانا محمد اشفاق مدنی نے کہا ہے کہ اسلام آباد کے جید علماء کی مشاورت سے لال مسجد کی خطابت کی ذمہ داری قبول کی، لال مسجد کی خطابت کیلئے پہلے بھی دو مرتبہ پیشکش ہوئی لیکن میں نے مسترد کر دیا، خطبہ جمعہ کیلئے حکومت نے کسی قسم کی کوئی ہدایت نہیں کی، سیاست سے کوئی تعلق نہیں، جامعہ حفصہ کے حوالے سے لائحہ عمل وفاق المدارس کی مشاورت سے طے کیا جائے گا، جامعہ حفصہ و لال مسجد آپریشن کے پس پردہ حقائق کو کریدنے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا، ہمیں آگے کی طرف سوچنا چاہیے، اسلام میں خودکشی حرام ہے، مولانا عبدالعزیز نے کسی کو خودکش حملوں کا حکم نہیں دیا، ملک کو سنگین بحران سے نکالنے کیلئے علماء کرام اپنا کردارادا کریں، یہود نصاریٰ کسی کے خیر خواہ نہیں، حکومت ایسے اقدامات کرے جس سے ملک میں امن و امان قائم ہو سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے رورخبر رساں ادارے کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ لال مسجد آپریشن کے بعد امت مسلمہ بحران سے دوچار ہے کئی دنوں سے مسجد بند ہے حالات سازگار کر نے اور مسجد کو آباد کرنے کیلئے راولپنڈی اسلام آباد کے جید علماء کی مشارت سے عارضی طور پر لال مسجد کی خطابت قبول کی ہے حالات بہتر ہوتے ہی واپس اپنی سابقہ مسجد آ جاؤں گا اس سے قبل مولانا عبدالعزیز شہید کی شہادت کے وقت لال مسجد کی خطابت کی پیشکش کی گئی تھی لیکن میں نے اسے مسترد کر دیا اور اب بھی مستقل پیشکش کو قبول نہیں کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ میری نامزدگی کو میرے مقتدیوں نے رد کیا ہے وہ کسی صورت میری وہاں نامزدگی سے خوش نہیں تاہم لال مسجد کمیٹی کے اراکین اور نمازیوں نے اس فیصلے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کچھ لوگوں کی جانب سے حالات خراب ہونے کا اندیشہ ہے تو حکومت کو اس سلسلے میں اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال دونوں مساجد میرے کنٹرول میں ہوں گی۔

لال مسجد اور جامعہ حفصہ آپریشن کے تعلق انہوں نے کہا کہ پس پردہ حقائق کو کویدنا کسی کے مفاد میں نہیں ہو گا۔ ابتداء سے ہی ایسے اقدامات سے گریز کیا جاتا تو یہ صورتحال پیدا ہی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی حالات کو قابو کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ حکومت ایسے اقدامات کرے جس سے انارکی کم ہو اور ملک میں امن وامان اور بھائی چارے کی فضاء قائم ہو۔

خودکش حملوں کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ زندگی اللہ تعالیٰ کی امانت ہے اور اس کی حفاظت فرض ہے اسے ضائع کرنا کسی کیلئے درست نہیں اسی لئے اسلام میں خودکشی حرام ہے اور خودکش حملے کو تو اس سے بھی بدترین گناہ قرار دیا گیا ہے کہ اس میں اپنی جان کے ساتھ ساتھ دوسروں کی جان بھی ضائع ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز نے خودکشی کی ہے اور نہ ہی خودکش حملے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امت مسلمہ اور بالخصوص اہل پاکستان سخت آزمائش اور امتحان میں ہیں ان حالات میں تمام اختلافات کو بھلا کر متحد ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں واضح ارشاد ہے کہ یہود و نصاریٰ اسلام دشمن ہیں وہ کبھی مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے ان کی پالیسیاں ہمیشہ اسلام دشمنی پر مبنی ہوتی ہیں اس لئے مسلم حکمرانوں کو ان سے کسی قسم کے تعلقات نہیں رکھنے چاہیے اور نہ ہی ان پر اعتماد کرنا چاہیے۔
25/07/2007 - 22:46:16 :وقت اشاعت