بند کریں
صحت صحت کی خبریںسوات میں قیام امن کیلئے ہر طبقے کے لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ڈی پی او

صحت خبریں

وقت اشاعت: 30/07/2007 - 23:40:42 وقت اشاعت: 30/07/2007 - 17:49:41 وقت اشاعت: 30/07/2007 - 13:43:48 وقت اشاعت: 28/07/2007 - 15:09:28 وقت اشاعت: 27/07/2007 - 16:28:17 وقت اشاعت: 27/07/2007 - 16:11:39 وقت اشاعت: 27/07/2007 - 15:34:33 وقت اشاعت: 26/07/2007 - 13:18:11 وقت اشاعت: 26/07/2007 - 12:23:11 وقت اشاعت: 25/07/2007 - 22:46:16 وقت اشاعت: 25/07/2007 - 13:39:52

سوات میں قیام امن کیلئے ہر طبقے کے لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ڈی پی او

سوات (ٍٍاردوپوانئٹ اخبار تازہ ترین27 جولائی2007)ڈی پی او سوات محمداقبال نے کہا ہے کہ سوات میں قیام امن کیلئے ہر طبقے کے لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا‘ مسئلہ جرگوں اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے‘ سوات میں حالات اس نہج پر نہیں پہنچے جو حل نہ ہوسکے‘ مقامی قیادت پر اس بارے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ‘ ہنگو‘ ڈی آئی خان اور دیگر اضلاع کے نسبت حالات بہتر ہے‘ پولیس گشت کیلئے منصوبہ بندی مرتب کرلی ہے‘ دن رات پولیس گشت کو یقینی بنایا گیا ہے‘ مٹہ میں دن کے وقت پولیس کے گشت کا آغاز ہوچکا ہے‘ عوام کی جان و مال کی تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے‘ جس کے بارے میں غفلت اور لاپرواہی سے کام نہیں لیں گے‘ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو مینگورہ پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ سوات ایک سیاحتی علاقہ ہے اور سیاحت نے یہاں ایک باقاعدہ کاروبار کی حیثیت اختیار کرلی ہے‘ لیکن بعض وجوہات کی بناء پر سیاحتی سیزن خراب ہوا ہے‘ اگر زمینی حقائق دیکھا جائے تو ضلع سوات میں سیاحوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے اور اس بارے پروپیگنڈوں میں کوئی حقیقت نہیں ہے‘ انہوں نے کہا کہ ضلع سوات کے عوام پرامن اور مہمان نواز ہے‘ جنہوں نے ہمیشہ امن و امان کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا انہوں نے کہا کہ اگر سوات کا دیگر اضلاع بنوں‘ ڈی آئی خان وغیرہ سے موازنہ کیا جائے تو یہاں حالات انتہائی بہتر ہے‘ انہوں نے مزید کہا کہ جب دہشت گردی جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں تو پولیس کی ڈیوٹی میں تبدیلی آتی ہے‘ جہاں تک سوات میں پولیس کی ڈیوٹی بارے سوال ہے‘ تو چونکہ یہاں ہونے والے حملوں کے ذریعے پولیس کو نشانہ بنایا گیا اس لئے حالات کی نزاکت سے ان کی ڈیوٹی میں رد و بدل کی گئی‘ انہوں نے کہا کہ پولیس عوام کے محافظ ہے اور پولیس والوں کو ٹریننگ کی دوران جنگ اور تشدد کے بارے ٹریننگ نہیں دی جارہی ہے‘ بلکہ انہیں محافظ فورس کے ذریعے ٹریننگ دی جارہی ہے‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حملوں کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا‘ جس کے تحت پولیس والے بھی ٹارگٹ بنی اور یہاں فوج کی آمد کو یقینی بنایا گیا‘ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے روک تھام کیلئے پولیس سرگرم عمل ہے‘ آرگنائزر کرائمز میں ملوث افراد آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں‘ اور اس قسم کرائمز کے روک تھام کو یقینی بنانے کیلئے پولیس والے غفلت اور لاپرواہی سے کام نہیں لینگے‘ دہشت گردی کے خلاف تمام کوششیں بروئے کار لائیں گے‘ انہوں نے کہا کہ سوات میں امن کے قیام کیلئے مینگورہ پریس کلب کی کوششیں خوش آئند ہیں‘ انہوں نے علمائے کرام ‘ تاجر برادری اور مختلف الخیال لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ضلع سوات میں پرامن فضاء کے قیام کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ دیگر علاقوں اور بیرونی ممالک ضلع سوات کے بارے پیدا ہونیوالی خوف کی فضاء کا خاتمہ ہوسکے‘ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں منتخب عوامی نمائندوں‘ علاقے کے مشران‘ علماء کرام اور دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سوات میں پیدا ہونیوالا مسئلہ جرگوں ‘ افہام و تفہیم اور بات چیت کے ذریعے حل کریں‘ یہاں کے عوام پرامن ہیں اور پرامن طریقے سے مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘ علاقے کے مشران پر اس بارے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے‘ علاقے کے مشران اور مقامی لوگوں کے کردار کے بغیر مسئلہ حل نہیں کیا جاسکتا‘ مسئلہ کے حل میں علاقے کے مشران اور مقامی لوگوں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتی ہے‘ انہوں نے کہا کہ جذباتی بنیادوں پر چلانے والے تحاریک وقتی ہوتے ہیں‘ اور بربادی کی باعث بن جاتی ہے‘ اس قسم تحاریک کا خاتمہ ہوتا ہے لیکن اس کے اثرات باقی رہ جاتے ہیں‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ضلع ناظم اور دیگر ناظمین کی ذمہ داری ہے کہ وہ علاقے میں امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں‘ امن و امان کی ذمہ داری ان کی ہے‘ انہوں نے کہا کہ سوات میں پولیس کا مورال بڑھانا اولین ترجیح ہے‘ تاکہ عوام اور پولیس کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلے ختم ہوسکے‘ ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ضلع سوات میں ہونے والے واقعات کے پیش نظر شہید ہونے والے پولیس کو قانون کے مطابق معاوضہ دیا جائیگا‘ ایک پولیس آفیسر جوکہ شہید ہوا ہے اس کے بیٹے کو جو ایف اے پاس ہے اے ایس آئی بھرتی کیا جائیگا‘ انہیں ساٹھ سال تک تنخواہ بھی ادا کی جائیگی‘ ان کے بچوں کی تعلیمی اخراجات بھی حکومت برداشت کریگی‘ انہوں نے کہا کہ ضلع سوات میں پرامن فضاء کے قیام کے سلسلے میں عوام کی تعاؤن انتہائی ضروری ہے‘ انہوں نے مزید کہا کہ صحافی برادری سوات کے خلاف منفی پروپیگنڈوں کو شکست دینے کیلئے اپنا کردار ادا کریں‘ اور زمینی حقائق سامنے لائیں‘ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوات میں کار چوروں کے خلاف کارروائی کی جائیگی‘ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائیگی‘ انہوں نے ضلع سوات کے عوام سے اپیل کی کہ وہ جرائم کی بیخ کنی اور پرامن معاشرے کے قیام کے سلسلے میں پولیس کیساتھ تعاؤن کریں۔


27/07/2007 - 16:11:39 :وقت اشاعت