مردہ پیدا ہونے والے بچوں کی بھی تعداد بھی خطرناک حد تک زیادہ ہے ،سائرہ افضل تارڑ،

روک تھام کے اقدامات کیلئے معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے کر جائیں گے صوبے شعبہ کی طرف توجہ دیں،ماں اور بچے کی صحت کے لئے نیوٹریشن پروگرام کے لئے صوبوں کو فنڈز مختص کیا جانا چاہیے ،قومی اسمبلی میں اظہار خیال

مردہ پیدا ہونے والے بچوں کی بھی تعداد بھی خطرناک حد تک زیادہ ہے ،سائرہ ..

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔4مارچ۔2015ء)وزیر مملکت قومی صحت سائرہ افضل تارڑ نے قومی اسمبلی کوبتایا ہے کہ مردہ پیدا ہونے والے بچوں کی بھی تعداد بھی خطرناک حد تک زیادہ ہے روک تھام کے اقدامات کیلئے معاملہ مشترکہ مفادات کونسل میں لے کر جائیں گے صوبے شعبہ کی طرف توجہ دیں  ماں اور بچے کی صحت کے لئے نیوٹریشن پروگرام کے لئے صوبوں کو فنڈز مختص کیا جانا چاہیے ۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ روزانہ بڑی تعداد میں بچے پہلے دن ہی وفات پا جاتے ہیں مردہ پیدا ہونے والے بچوں کی بھی تعداد بھی خطرناک حد تک زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کی سطح پر اس حوالے سے کام ہو رہا ہے۔ اس معاملے کو مشترکہ مفادات میں لے جائیں گے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے اقدامات کی خود نگرانی کریں گے۔

وفاقی وزیر سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ جہاں جہاں شرح خواندگی کا تناسب بہتر ہے ان علاقوں میں بچوں کی شرح اموات کم ہیں۔ صوبوں کو چاہیے کہ اس شعبہ کی طرف بھی توجہ دیں کیونکہ بچوں کی شرح اموات میں کمی آنے سے آبادی کو بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ ماں اور بچے کی صحت کیلئے نیوٹریشن پروگرام کیلئے صوبوں کو فنڈز مختص کیا جانا چاہیے  انہوں نے کہا کہ ملک میں صرف 16 فیصد مائیں بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ دن بدن یہ تناسب گر رہا ہے۔ بریسٹ فیڈنگ سے بھی بچوں کی شرح اموات میں کمی کی جاسکتی ہے  13 جون کو تمام صوبوں کی شراکت سے ایک پروگرام شروع کریں گے۔

Your Thoughts and Comments