بند کریں
صحت صحت کی خبریںجنرل ہسپتال ،مریضوں کو ادویات کی فراہمی شفاف بنانے کیلئے نئی پالیسی کا اعلان

صحت خبریں

وقت اشاعت: 25/03/2015 - 19:00:41 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 18:21:24 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 17:42:35 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 17:29:18 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 17:15:54 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 17:15:21 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 16:53:57 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 15:57:07 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 15:12:11 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 15:06:08 وقت اشاعت: 25/03/2015 - 14:24:41

جنرل ہسپتال ،مریضوں کو ادویات کی فراہمی شفاف بنانے کیلئے نئی پالیسی کا اعلان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25مارچ۔2015ء)جنرل ہسپتال انتظامیہ نے داخل مریضوں کو ہسپتال میں ادویات کی فراہمی کو شفاف بنانے کیلئے نئی پالیسی کا اعلان کردیا ہے جس کے مطابق اب مریض یا اس کے لواحقین کو ادویات کیلئے سٹور پر نہیں جانا پڑے گا بلکہ ہسپتال کا عملہ مریضوں کو مطلوبہ ادویات خود ان کے بیڈ پر مہیا کرے گا۔ یہ فیصلہ پرنسپل پی جی ایم آئی و ایل جی ایچ پروفیسر انجم حبیب وہرہ کی زیر صدارت ہونے والے ایک اعلی سطحی اجلاس میں کیا گیا۔

نئی طے شدہ پالیسی کے مطابق ہسپتال میں داخل مریضوں کو درکار ادویات کا اندراج متعلقہ وارڈ کی انچارج ہیڈ نرس انڈنٹ بک میں کرے گی جس کی تصدیق سینئر رجسٹرار کرے گا۔ مطلوبہ ادویات کی دستیابی کے بارے میں سٹور کیپر کی رپورٹ پر فارماسسٹ یا انتظامی ڈاکٹر کی تصدیقی دستخط لازما ہوں گے۔ جس کے بعد متعلقہ ہیڈ نرس وہ ادویات خود وصول کر کے مریض کو بستر پر پہنچائے گی۔

جبکہ سٹور کیپر کو جاری کی جانے والی ادویات کا مکمل ریکارڈ رکھنا ضروری ہوگا۔نئی پالیسی کے مطابق ہسپتال سے جاری ہونے والی کوئی دوائی مریض یا اس کے لواحقین کے حوالے نہیں کی جائے گی بلکہ ہسپتال کا سٹاف یہ کام خود انجام دے گا۔ استعمال سے بچ جانے والی ادویات مکمل سٹور کو واپس کردی جائیں گی۔شفٹ ختم ہونے پر جاری شدہ ادویات کا ریکارڈ اگلی شفٹ کی انچارج نرس کے حوالے کیا جائے گا جس کی تصدیق اے ایم ایس سے بھی کروائی جائے گی۔

پروفیسر انجم حبیب وہرہ نے اجلاس کو بتایا کہ ادویات کی فراہمی کا نظام مزید شفاف بنانے کیلئے استعمال شدہ ادویات کی خالی پیکنگ اور پتے لازمی طور پر ڈیوٹی پر موجود فارماسسٹ کو جمع کروانے ہوں گے تاکہ وہ ان ادویات کے استعمال کا ریکارڈ چیک کرسکے۔ادویات کی یہ خالی پیکنگ ریکارڈ میں لائے بغیر تلف نہیں کی جاسکیں گی۔ پرنسپل نے اجلاس میں واضح کہا کہ اگر اچانک معانئے کے دوران ہسپتال کے کسی شعبے سے بغیر ریکارڈ سرکاری ادویات برآمد ہوئی تو اس کے خلاف فوری تادیبی ایکشن لیا جائے گا۔ڈی ایم ایس اور ڈیوٹی فارماسسٹ مذکورہ پالیسی پر عملدرآمد کے ذمہ دار ہوں گے۔ ادویات کے ریکارڈ کی عدم موجودگی یا ہیراپھیری پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

25/03/2015 - 17:15:21 :وقت اشاعت