بند کریں
صحت صحت کی خبریںپیراسٹامول کمر اور جوڑوں کے درد کے لیے موثر نہیں،تحقیق

صحت خبریں

وقت اشاعت: 01/04/2015 - 16:52:59 وقت اشاعت: 01/04/2015 - 14:48:21 وقت اشاعت: 01/04/2015 - 13:35:49 وقت اشاعت: 01/04/2015 - 13:13:37 وقت اشاعت: 01/04/2015 - 13:12:06 وقت اشاعت: 01/04/2015 - 13:10:00 وقت اشاعت: 01/04/2015 - 12:43:54 وقت اشاعت: 31/03/2015 - 22:50:08 وقت اشاعت: 31/03/2015 - 22:26:06 وقت اشاعت: 31/03/2015 - 22:26:06 وقت اشاعت: 31/03/2015 - 22:21:28

پیراسٹامول کمر اور جوڑوں کے درد کے لیے موثر نہیں،تحقیق

سڈ نی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔یکم اپریل۔2015ء)آسٹریلیا کے سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ مشہور دردکش دوا پیراسٹامول کمر اور جوڑوں کے درد کے لیے موثر نہیں ہے۔برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں سائنس دانوں نے 13 تحقیقات کا جائزہ لے کر یہ نتیجہ نکالا کہ یہ دوا نہ معذوری میں کمی لاتی ہے اور نہ ہی زندگی کے معیار کو بہتر کر سکتی ہے۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ اس کی بجائے یہ جگر کی خرابی پیدا کر سکتی ہے۔برطانوی ادارہ نیشل ہیلتھ سروس اس تحقیق کے بعد اپنی سفارشات میں تبدیلی لائے گا۔ ادارہ فی الحال ان دونوں امراض کے لیے پیراسٹامول کے استعمال کی سفارش کرتا ہے۔تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ مریضوں کو اپنی دوا بدلنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیناچاہیے۔کمر کا درد معذوری کا بڑا سبب ہے، اور ایک اندازے کے مطابق یہ صرف برطانیہ میں ہر سال ڈھائی کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کرتا ہے۔

یونیورسٹی آف سڈنی کے سائنس دانوں کی ایک ٹیم نے ادویات کے 13 کلینیکل ٹرائل جانچے، جن میں پانچ ہزار سے زائد مریضوں نے حصہ لیا تھا۔اس کے بعد انھوں نے نتیجہ نکالا کہ پیراسٹامول کمردرد دور کرنے میں ’غیر موثر‘ ہے۔دوسری طرف انھوں نے معلوم کیا کہ کولھے یا گھٹنے کے جوڑ کے درد میں پیراسٹامول سے معمولی افاقہ ہوتا ہے۔ تاہم یہ اثر اتنا کم ہے کہ اس سے کوئی طبی فرق نہیں پڑتا۔

ایک سائنس دان گستاو مخادو نے کہا: ’پیراسٹامول جوڑوں اور پٹھوں کے درد کے لیے سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی دوا ہے، اس لیے یہ بات اہم ہے کہ ہم نئے شواہد کی روشنی میں علاج کی سفارشات کا جائزہ لیں۔’ہماری تحقیق سے پتہ چلا کہ پیراسٹامول جوڑوں کے درد اور نچلی کمر کے درد میں استعمال کی جائے تو اس سے جگر کے مسائل پیدا ہو جائے ہیں۔

پیراسٹامول کے استعمال سے جگر کے ٹیسٹ خراب آنے کی شرح چار گنا زیادہ ہوتی ہے۔برطانیہ کی کیل یونیورسٹی کے ڈاکٹر کرسٹیئن میلن کہتے ہیں کہ ان امراض کے لیے ادویات کی بجائے ورزش جیسے دوسرے طریقہ ہائے علاج پر توجہ کی ضرورت ہے۔تاہم انھوں نے کہا کہ ’جوڑوں اور ریڑھ کے درد کے علاج کے لیے ورزش کا موثرپن مسلمہ ہے، لیکن ہم جانتے ہیں کہ لوگوں کے لیے ورزش کے معمول پر عمل کرنا مشکل ہوتا ہے۔

آرتھرائٹس ریسرچ یوکے کی جین ٹیڈمین نے کہا: ’ہم خاصے عرصے سے جانتے تھے کہ پیراسٹامول جوڑوں کے شدید درد کے لیے ہر مریض میں موثر ثابت نہیں ہوتی، لیکن بعض لوگوں میں یہ کام کرتی ہے، اور اس سے انھیں سونے اور تکلیف کے بغیر ورزش کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔انھوں نے مزید کہاکہ موجودہ درد کش ادویات کے مقابلے پر جسمانی ورزش جوڑوں کے درد سے بچاوٴ کا زیادہ موثر طریقہ ہے۔

01/04/2015 - 13:10:00 :وقت اشاعت