بند کریں
صحت صحت کی خبریں سپریم کورٹ نے مہلک امراض ٹی بی‘ کالا یرقان‘ پولیو‘ خسرہ ، تشنج کے علاج بارے غیر ملک سے ادویات ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 08/04/2015 - 14:33:29 وقت اشاعت: 08/04/2015 - 14:17:50 وقت اشاعت: 08/04/2015 - 14:13:15 وقت اشاعت: 08/04/2015 - 13:35:39 وقت اشاعت: 08/04/2015 - 12:58:48 وقت اشاعت: 07/04/2015 - 23:03:27 وقت اشاعت: 07/04/2015 - 22:28:02 وقت اشاعت: 07/04/2015 - 22:15:48 وقت اشاعت: 07/04/2015 - 22:05:13 وقت اشاعت: 07/04/2015 - 21:56:34 وقت اشاعت: 07/04/2015 - 21:46:44

سپریم کورٹ نے مہلک امراض ٹی بی‘ کالا یرقان‘ پولیو‘ خسرہ ، تشنج کے علاج بارے غیر ملک سے ادویات کی درآمد کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دیدی

سپریم کورٹ اس کو انسانی حقوق کا معاملہ نہیں سمھجتی، فیصلہ دیا تو اس کے منفی اثرات مرتب ہونگے ؛جسٹس میاں ثاقب نثار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔07 اپریل۔2015ء) سپریم کورٹ نے مہلک امراض ٹی بی‘ کالا یرقان‘ پولیو‘ خسرہ اور تشنج کے علاج بارے غیر ملک سے ادویات اور ویکسین کی درآمد کے خلاف دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی‘ جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریزرویشن دی ہے کہ سپریم کورٹ اس کو انسانی حقوق کا معاملہ نہیں سمھجتی فیصلہ دیا تو اس کے منفی اثرات مرتب ہونگے۔

یہ معاملہ بالکل اسی طرح سے ہے کہ جیسے سپریم کورٹ نے چینی کے نرخوں کے حوالے سے فیصلہ دیا تو اس سے ہالات بہتر ہونے کی بچائے مزید خراب ہوئے۔ درخواست متعلقہ فورم سے رجوع کریں انہوں نے یہ ریمارکس منگل کے روز دیئے ہیں جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے پی ایم اے کے ڈاکٹر محمد ارشد رانا کی درخواست کی سماعت کی اسی دوران درخواست گزار کی جانب توفیق آصف ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ڈرگ ایکٹ کی سیکشن 9 اور 23 کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور مہلک امراض کی زائد المیعاد ادویات اور ویکسین امپورٹ کی جا رہی ہیں حکومت سمیت کسی ادارے کا اس پر کوئی چیک اینڈ بیلنس بھی نہیں ہے۔

حالات یہ ہیں کہ سندھ میں کالے یرقان کی ویکسین اور ادویات کے استعمال سے 206 افراد موت کے منہ میں چلے گئے اور حکومت پنجاب بھی اپنی رپورٹ میں کہہ چکی ہے کہ بیرون ملک سے زائد المیعاد ادویات اور ویکسین درآمد کی جا رہی ہیں جس سے لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاہق ہیں۔ اس پر عدالت نے پوچھا کہ آپ نے اپنی درخواست میں آڈیٹر جنرل پاکستان‘ اکاؤنٹنٹ جنرل‘ وفاقی محتسب کو فریق کیوں بنایا ہے۔

اس پر وکیل نے بتایا کہ چونکہ انہوں نے ہی فڈز ریلیز کرائے ہیں حکومت کو حکم دیا جائے کہ وہ ان ادویات کو ریگولیٹ کرنے کے لئے کوئی میکنزم بنائے جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کی یہ درخواست 184(3) کے تحت نہیں آتی اور نہ ہی آپ متاثرہ فریق ہیں۔ عدالت کو ان ادویات کی خصوصیات کا علم بھی نہیں ہے۔ ہم ایکٹ میں بھی نہیں جائیں گے کیونکہ آپ کے دلائل سے ہم مطمئن نہیں اور نہ ہی ہم اس معاہدے میں جائیں گے جو حکومت اور بیرونی کمپنیاں کر رہی ہیں۔ بہتر ہو گا کہ آپ اس حوالے سے متعلقہ فورم سے رجوع کریں بعد ازاں عدالت نے درخواست خارج کر دی

07/04/2015 - 23:03:27 :وقت اشاعت