بند کریں
صحت صحت کی خبریںبنیادی مراکز صحت پر ڈاکٹروں کی تعیناتی کے لئے قوانین میں نرمی کرنے کی تجویز زیر غور ہے‘ مشیر ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/04/2015 - 10:57:56 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 22:45:46 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 21:01:56 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 20:43:10 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 20:23:10 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 20:09:11 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 20:09:11 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 19:57:47 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 18:48:58 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 18:39:17 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 18:11:31

بنیادی مراکز صحت پر ڈاکٹروں کی تعیناتی کے لئے قوانین میں نرمی کرنے کی تجویز زیر غور ہے‘ مشیر صحت پنجاب

بنیادی مراکز صحت پر ڈاکٹروں کی حاضری یقینی بنانے کے لئے مراعاتی پیکچ کے علاوہ عمر میں رعایت دینے پر غور کیا جارہا ہے , حکومت پرائمری ہیلتھ کیئر کو بہتر بنانے پرخصوصی توجہ دے رہی ہے‘ خواجہ سلمان رفیق کا ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔09 اپریل۔2015ء)مشیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ بنیادی مراکز صحت کو ہر صورت آباد کیا جائے گا اور حکومت بی ایچ یو ایس پر ڈاکٹروں کی تعیناتی کے لئے سروس رولز میں نرمی کی تجویز پر غور کررہی ہے جس کے تحت بنیادی مراکز صحت پر فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹرز کو عمر میں رعایت دینے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

انہوں نے یہ بات پنجاب سٹرٹیجی اینڈ پالیسی یونٹ محکمہ صحت کے زیر اہتمام بنیادی مراکز صحت پر ہیومن ریسورس مینجمنٹ کو بہتر بنانے کے لئے سلسلہ میں ایک روزہ ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ورکشاپ میں سیکرٹری صحت جواد رفیق ملک، ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا ،ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب ڈاکٹر زاہد پرویز، مختلف اضلاع کے ڈی سی اوز،ای ڈی اوز،میڈیکل کالجز کے پرنسپلز، ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس،ہیلتھ ایکسپرٹس ،ہیلتھ منیجرز اور انٹر نیشنل ڈویلپمنٹ پارٹنرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پی ایس پی یو کے ڈائریکٹر علی بہادر قاضی نے ورکشاپ کے اغراض ومقاصد پرروشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 3-4 ماہ کے دوران سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے تحت ای مانیٹرنگ سسٹم شروع کرنے اور MEAs کی تعیناتی سے بنیادی مراکز صحت کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ وزیراعلی محمدشہباز شریف اور محکمہ صحت کی اولین ترجیح ہیلتھ کیئر ڈلیوری سسٹم کی خامیوں کو دور کرنے اور ہیلتھ سیکٹر میں انقلابی اصلاحات متعارف کرانا ہے تاکہ صحت کے شعبہ پر خرچ ہونے والے 100 ۔

ارب روپے سے زائدکے فنڈزکاعوام کو براہ راست فائدہ پہنچے اور انہیں بہتر سے بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔ ورکشاپ سے سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کی مس یوریکا،پی ایس پی یو کی ڈاکٹر زاہدہ سرور نے خطاب کیا۔ ڈاکٹر زاہدہ سرورنے بتایاکہ ورکشاپ میں مختلف ایشوز پر سفارشات تیار کرنے کے لئے ہیلتھ ایکسپرٹ، ہیلتھ منیجرز اور دیگر افسران پر مشتمل 5 ورکنگ گروپ تشکیل دئیے گئے ہیں جو صحت کے موجودہ سسٹم کو بہتر بنانے کے لئے نئی تجاویز اور امکانات کا جائزہ لیں گے۔

BHUs کو آباد کرنے کے لئے ڈاکٹروں کی بھرتی کے لئے رولز میں نرمی،میڈیکل کالجوں کی ایڈمشن پالیسی تبدیل اور پرائمری ہیلتھ کیئر کو بہتر بنانے کے لئے اپنی ماہرانہ رائے اور تجربے کی روشنی میں سفارشات تیار کریں گے۔سیکرٹری صحت جواد رفیق ملک نے اپنے خطاب میں ورکشاپ کے شرکاء پر زور دیا کہ وہ اپنے تجربہ،قابلیت اور جدید تقاضوں کی روشنی میں موجودہ پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو مزید بہتر بنانے اور صوبے کے تمام بنیادی مراکز صحت کو پوری طرح فعال کرنے اور ڈاکٹروں کی حاضری یقینی بنانے کے لئے قابل عمل سفارشات اور پالیسی گائیڈ لائنز تیار کرکے دیں تاکہ ایک ایکشن پلان مرتب کیا جا سکے۔

خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو ان کے گھروں کی دہلیز پر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے جو اقدامات کررہی ہے ان میں موبائل ہیلتھ یونٹس کی فراہمی کے ساتھ بنیادی مراکز صحت کو آباد کرنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بنیادی مرکز صحت پر اچھا ماحول اور مراعات دینا چاہتی ہے تاکہ ڈاکٹر خوشی کے ساتھ لوگوں کی خدمت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان ڈاکٹرزBHUs پر نہیں جائیں گے تو حکومت زیادہ عمر کے غیر سرکاری ڈاکٹرز کو عمر میں رعایت دیکر بھرتی کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کرے گی تاکہ عوام کسی صورت علاج معالجہ کی سہولیات سے محروم نہ رہنے پائیں۔

09/04/2015 - 20:09:11 :وقت اشاعت