بند کریں
صحت صحت کی خبریں دنیا بھر میں 13فیصد اور پاکستان کے10فیصد افراد دماغی اور اعصابی امرض کا شکا رہیں، ڈاکٹر سلیم ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/04/2015 - 10:59:28 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 10:57:56 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 22:45:46 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 21:01:56 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 20:43:10 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 20:23:10 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 20:09:11 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 20:09:11 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 19:57:47 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 18:48:58 وقت اشاعت: 09/04/2015 - 18:39:17

دنیا بھر میں 13فیصد اور پاکستان کے10فیصد افراد دماغی اور اعصابی امرض کا شکا رہیں، ڈاکٹر سلیم بڑیچ

تعداد دل کی بیماریوں اور کینسر کے مرض سے زیادہ ، اموات کی وجہ بن رہی ہے ، صدر پاکستان سوسائٹی نیور ولوجی

کوئٹہ ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔09 اپریل۔2015ء ) پاکستان سوسائٹی نیور ولوجی کے صدر پروفیسر واسع شاکر اور صوبائی صدر ڈاکٹر سلیم بڑیچ نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں 13فیصد اور پاکستان کے10فیصد یعنی دوکروڑ سے زیادہ افراد دماغی اور اعصابی مرض کا شکا رہیں،تعداد دل کی بیماریوں اور کینسر کے مرض سے زیادہ ہے ۔ فالج دل کی بیماریوں کے بعد دوسرے نمبر کی بیماری ہے جو سب سے زیادہ موت کی وجہ بن رہی ہے انہوں نے یہ بات جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر ڈاکٹر وسیم عالمگیر ڈاکٹر امان اللہ اور دیگر ڈاکٹر صاحبان موجود تھے ۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان سوسائٹی آف نیور ولوجی کے تحت 22سہ روزہ قومی نیورولوجی کارنفرنس10سے12اپریل سیرینا ہوٹل کوئٹہ میں منعقد ہوگی۔ جس کا افتتاح بلوچستان کے گورنر محمدخان اچکزئی کریں گے۔ سائیٹفک سیشن کا اففتاح بولان میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سعاد خان کریں گے۔ کارنفرنس میں 6سائنٹیفک سیشنز منعقد ہونگے۔ جن میں ماہرین ملک میں مختلف داغی بیماریوں پر ہونے والی تحقیق پر 26مقالہ جات بھی پیش کریں گے ،پری کانفرنس ورک شاپ جمعہ کی صبح منعقد ہوگی ۔

جس سے پروفیسر بھوجو کھیلانی سمیت دیگر ماہرین خطاب کریں گے۔ سہ روزہ قومی نیورولوجی کا نفرنس میں ملک بھر سے دماغی اور اعصابی امراض کے ماہرین شریک ہوں گے ۔ قومی نیورولوجی کانفرنس کے چیئرمین بولان میڈیکل کالج شعبہ نیورولوجی کے سربراہ پروفیسر سلیم بڑیچ ہین۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق 4سے 11فیصد اعصابی بیماریاں موت کی وجہ سے بن رہی ہے ۔

جبکہ غریب اور متوسطہ ممالک میں یہ شرح 12فیصد تک ہے۔ یہ بدقسمتی سے پاکستان کے دماغی اور اعصابی امراض میں مبتلا افراد کو کوئی ڈیٹا موجود نہیں۔ دنیا بھر روزانہ 18ملین افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں۔ جن میں سے 6ملین روزانہ انتقا ل کرجاتے ہیں۔ ، دنیا اور خصوصاً پاکستان میں معذور افراد میں سب سے زیادہ تعداد فالج سے متاثرہ افراد کی ہے۔ دنیا بھر میں ہر دس سکینڈ میں ایک فرد اس مرض کا شکا رہوتا۔

ترقی پزیر ممالک میں فالج کے 90فیصدر کیسز روپورٹ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ہر عمر کے افراد کو فالج کا حملہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ 18سالوں کے دوران خواتین میں فالج کی شرح 28فیصد سے بڑھ کر 45فیصد ہوگئی ہے۔ پاکستان میں روزانہ 400خواتین کے اور تقریباً 600افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ جن میں 250خواتین بھی شامل ہے ۔ روزانہ ملک میں ایک ہزار افراد فالج کا شکار ہوتے ہیں۔

بشمول 550خواتین کے اور تقریباً600افراد زندگی بھر کیلئے اس مہلک بیماری سے مفلوج ہوجاتے ہیں۔ پاکستان میں عورتوں کو فالج ہونے کاخدشہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ کیونکہ پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک عورت کو فالج ہوجاتا ہے۔ جبکہ مردوں میں یہ تعداد 6میں سے ایک ہے۔ زندگی میں روزانہ ورزش کانہ ہونا ، نمک کا زیادہ استعمال اور زیا بطیس ایسے عوامل ہیں جن کو ہر انسان کو فالج کا خطرہ ہوتا ہے۔

مردوں میں سگریٹ نوشی اور گٹکا فالج کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔ بلوچستان سمیت ملک کے سرمایہ کاری ہسپتال میں فالج کے علاج کا یونٹ وجود نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں فالج کے مریض نہ صرف موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ بلکہ زندگی بھر کیلئے مفلوج بھی ہوجاتے ہیں۔ حکومت کو ٹیچنگ اور ضلعی ہسپتالوں میں فالج یونٹ قائم کرنے چاہئیں تاکہ فالج کے حملے کا شکار ہونے والے مریضوں کی زندگی بچائی جاسکیں۔

دنیا بھر میں مرگی سے متاثرہ پانچ کروڑ افراد موجود ہیں۔ پاکستان میں مرگی سے متاثرہ افراد کی تعداد، 20لاکھ ہے۔ دنیا بھرمیں یہ مرض 2ہے لیکن پاکستان میں پانچ فیصد متاثرہ افراد کا پانچ فیصد پاکستان سے تعلق رکھتا ہے۔ پاکستان میں مرگی متاثرہ پندرہ لاکھ افراد یا تو اس مرض سے لاعلم ہونے کے باوجود مرض کا علاج نہیں کراتے ہیں۔ پاکستان میں رعشہ ( پار کنسیز) سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک اندازے کے مطابق چالیس لاکھ سے زیادہ ہے۔

جب کہ عالمی سطح پر تعداد چھ ملین سے تجاوز کرچکی ہے۔ اور امکان ہے کہ 2030تک یہ تعداد دگنی ہوسکتی ہے۔ رعشہ کا مرض60سال کی عمر کے بعد زیادہ ہوتا ہے۔ اور ساٹھ سال کی عمر کے ایک سو میں سے ایک فرد کو رعشہ کا مرض لاحق ہے۔ اسی طرح ساٹھ سال سے کم عمر افرد میں ایک ہزار میں سے ایک فرد کو رعشہ کا مرض لاحق ہے پاکستان میں دماغی اور عصابی امراض میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے لیکن دوسری جانب اٹھارہ کروڑ افراد کیلئے ملک میں صرف 170کے قریب دماغی امراض کے ماہرین موجود ہیں۔ صوبہ بلوچستان میں دماغی امراض کے ماہرین کی تعداد ناکافی ہے۔ انہونے مزید کہا دماغی اور اعصابی امراض میں عورتو ں تعداد زیادہ کیونکہ وہ گٹکا اور پان زیادہ کھاتی ہے اور ورزش نہیں کرتی ہے۔

09/04/2015 - 20:23:10 :وقت اشاعت