بند کریں
صحت صحت کی خبریںسرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اورعوام کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 11/04/2015 - 12:43:37 وقت اشاعت: 11/04/2015 - 12:37:12 وقت اشاعت: 11/04/2015 - 11:08:14 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 21:55:47 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 21:53:57 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 21:37:54 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 21:36:24 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 21:28:51 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 21:28:51 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 21:11:31 وقت اشاعت: 10/04/2015 - 20:51:48

سرکاری ہسپتالوں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اورعوام کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے محکمہ صحت میں انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ قائم

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔10 اپریل۔2015ء)خیبر پختونخوا کے تمام چھوٹے بڑے سرکاری ہسپتالوں اور طبی مراکزکی کارکردگی کو بہتر بناکر عوام کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے محکمہ صحت میں ایک انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ کا قیام عمل میں لایاگیا ہے جو ان سرکاری طبی اداروں کی کارکردگی کو باقاعدگی سے مانیٹر کرے گا اور ان میں فراہم کی جانے والی خدمات /سہولیات کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات بھی کرے گا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے جمعہ کے روز آی ایم یو کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں صوبائی وزراء شہرام خان تراکئی اور عاطف خان کے علاوہ محکمہ صحت اور خزانہ کے اعلیٰ حکام،ڈی ایف آئی ڈی کے نمائندوں،ہیلتھ مانیٹرز اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔آئی ایم یو کا یہ تین سالہ منصوبہ صوبائی ترقیاتی پروگرام کاحصہ ہے جس پر178.9 ملین روپے لاگت آئے گی۔

منصوبے کے تحت صوبے بھر کے لئے کل175جبکہ ہر ضلع کے لئے سات مانیٹرز نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے ذریعہ میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کئے گئے ہیں جو باقاعدگی سے سرکاری طبی اداروں کا دوہ کریں گے اور عملے کی حاضریوں سمیت طبی اداروں میں مہیاکی جانے والی سہولیات اور انکو درپیش مسائل کے بارے میں محکمہ صحت کو سیل فون کے ذریعے آن لائن رپورٹ دیں گے۔واضح رہے کہ صوبے میں مجموعی طور پر 1600چھوٹے بڑے سرکاری طبی ادارے قائم ہیں جن میں کل63000ملازمین ہیں لیکن نگرانی کا موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے ان طبی اداروں میں فراہم کی جانے والی خدمات کامعیار تسلی بخش نہیں ہے جس کی وجہ سے عوام ان اداروں سے صحیح معنوں میں استفادہ کرنے سے قاصر ہیں۔

یہ مانیٹرزنہ صرف ان طبی اداروں میں عملے کی حاضری بلکہ وہاں پر ادویات اور دیگر سہولیات کی دستیابی،صفائی کی صورتحال،پانی وبجلی کی دستیابی اور درپیش مشکلات کے بارے میں حقائق پر مبنی رپورٹ دیں گے جس کی بنیاد پر محکمہ صحت ان اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے شواہد پر مبنی فیصلے کر سکے گا۔ آئی ایم یو طبی مراکز کے ساتھ ساتھ ضلعی دفاتر صحت اور انتظامی عملے کی کارکردگی کی بھی نگرانی کرے گا۔

تقریب کے شرکاء کوآئی ایم یو کے مقاصد،اہداف اور دیگر پہلوؤں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے محکمہ صحت میں آئی ایم یو کے قیام کو طبی اداروں کی مجموعی کارکردگی کو عوامی توقعات کے عین مطابق بنانے کے سلسلے میں ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی کی اتحادی حکومت عوام سے کئے اپنے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے سماجی خدمات کے تمام شعبوں کی بہتری کے لئے دور رس اقدامات کر رہی ہے۔

صحت کے شعبے میں بنیادی اور انقلابی تبدیلی لانے کے لئے گزشتہ دوسالوں کے دوران قوانین سازی اور پالیسی سازی کاکام مکمل کیا گیا اور اب ان قوانین پر عمل درآمدشروع ہو گیا ہے اگلے دو مہینوں کے اندر اندر عوام صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری دیکھیں گے۔انہوں نے خبر دار کیاکہ سرکاری ہسپتالوں میں موجودہ صوبائی حکومت کی طرف سے نافذ کردہ قوانین پر عملدرآمدکو ہر صورت یقینی بنایاجائے گا اور عمل درآمد نہ کرنے والوں کو گھر بھجوایاجائے گا کیونکہ یہ قوانین اور اصلاحات عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے نافذ کئے گئے ہیں جس کے لئے کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔

وزیر اعلیٰ نے ہیلتھ مانیٹرز پر زور دیا کہ وہ اپنے فرائض کو خدائی خدمت سمجھ کر اداکریں اور اللہ کو حاضر و ناظر جان کر رپورٹنگ کریں۔انہوں نے کہاکہ جولائی کے مہینے تک صوبے کے تما م سرکاری ہسپتالوں میں عملے کیساتھ ساتھ طبی آلات ،ادویات اور دیگر ضروریات کی کمی کو پوراکیاجائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے صوبے میں جعلی ادویات ،کلینکس اور نان کوالیفائیڈ ڈاکٹروں کی پریکٹس کی روک تھام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حکام کو اس سلسلے میں بھی ایک مانیٹرنگ یونٹ قائم کرنے کی ہدایت کی۔تقریب سے صوبائی وزیر صحت شہرام خان تراکئی،وزیر تعلیم عاطف خان، سیکرٹری صحت مشتاق جدون اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔آخر میں وز یر اعلیٰ نے آئی ایم یو کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

10/04/2015 - 21:37:54 :وقت اشاعت