بند کریں
صحت صحت کی خبریں ریسٹورنٹس، بیکریز اور سوئیٹس مصنوعات کی حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیاری کیلئے کنزیومرکورٹس ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 11/04/2015 - 19:28:27 وقت اشاعت: 11/04/2015 - 19:23:04 وقت اشاعت: 11/04/2015 - 18:00:55 وقت اشاعت: 11/04/2015 - 17:58:42 وقت اشاعت: 11/04/2015 - 17:58:42 وقت اشاعت: 11/04/2015 - 17:40:15 وقت اشاعت: 11/04/2015 - 17:27:09 وقت اشاعت: 11/04/2015 - 16:37:44 وقت اشاعت: 11/04/2015 - 16:31:57 وقت اشاعت: 11/04/2015 - 15:58:50 وقت اشاعت: 11/04/2015 - 14:34:35

ریسٹورنٹس، بیکریز اور سوئیٹس مصنوعات کی حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیاری کیلئے کنزیومرکورٹس وقت کی ضرورت ہیں،کمشنر کراچی

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔11 اپریل۔2015ء) ریسٹورنٹس، بیکریز اور سوئیٹس مصنوعات کی حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیاری، فوڈلازپریقینی عمل درآمداور سزا وجزا کا شفاف نظام متعارف کرانے کے لیے خودمختار فوڈ اتھارٹی اور کنزیومرکورٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن گئی ہے ، یہ بات فوڈ سیکٹر کے ماہرین نے کراچی ایسوسی ایشن آف نمکو اینڈ سوئیٹس اور پاکستان ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کے تحت ”فوڈ اینڈ سیفٹی ہائیجین“ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کے دوران کہی، سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کمشنر کراچی شعیب صدیقی نے کہا کہ کراچی پاکستان کا پہلا شہر ہے جہاں ہفتے کے 7 دن صارفین کے تحفظ کے لیے سرگرمیاں جاری ہیں، شہر میں بغیرکسی تعطل کے پرائیس چیکنگ کے ساتھ ریسٹورنٹس، بیکریوں اور سوئیٹس کی دکانوں میں فروخت کی جانے والی خوردنی اشیا کی جانچ پڑتال ہورہی ہے، اس سلسلے میں کراچی کمشنریٹ نے ایک خصوصی ٹاسک فورس بھی قائم کردی ہے جو مصدقہ اطلاعات پرریسٹورنٹس، بیکریوں اور سوئیٹس کی دکانوں پرچھاپے مارکر خوردنی مصنوعات کی تیاری کے مراحل، صفائی ستھرائی، معیار اور قیمتوں کا جائزہ لیکر ان کی رپورٹ مرتب کرتی ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ صارفین بھی اس معاملے میں اپنے حصے کا کردار ادا کریں اور صارفین کو چاہیے کہ وہ فروخت کنندہ سے حفظان صحت کے اصولوں پر عمل درآمد، پروڈکٹس کے معیاراور قیمتوں کے بارے میں استفسار کریں، کمشنر کراچی نے بتایا کہ صارفین کے مفاد میں فی الوقت شہر بھر کے جوڈیشل میجسٹریٹس کنزیومرکورٹس کا کردار ادا کررہے ہیں ، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سی پی ایل سی چیف احمد چنائے نے کنزیومرکورٹس کا قیام صارفین اور انڈسٹری دونوں کے لیے ضروری قراردیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو کنزیومرپروٹیکشن ایکٹ نافذ ہونے کے بعد فی الفورکنزیومرکورٹس قائم کرنے کی حکمت عملی وضح کرنا چاہیے، انہوں نے کہا کہ بازار میں فروخت ہونے والی اشیائے خوردونوش کی حفظان صحت کے مطلوبہ معیار پر یقینی طور پر لانے کے لیے ضروری ہے شہر میں غذائی اشیاء فروخت کرنے والے ہرچھوٹے بڑے دھابے، خوانچے ، کیبنز، ریڑھی پر قائم دکانوں کو متعلقہ فوڈ ڈپارٹمنٹس میں رجسٹریشن لازم قراردیا جائے جبکہ شہرکی آبادی کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید فوڈ انسپکٹرز کی تقرریاں کی جائیں جو فی الوقت صرف14 تک محدود ہیں، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کراچی ایسوسی ایشن آف نمکواینڈ سوئیٹس کے صدر شیخ محمد تحسین نے کہا کہ انڈسٹری اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی غرض سے نجی شعبے نے اپنی مدد آپ کے تحت غذائی اشیا کی تیاری میں پاکیزگی، حفظان صحت کے اصولوں اور فوڈ لاز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے منظم آگاہی مہم شروع کردی ہے جسکے تحت مختلف موضوعات پر سییمینار اور ریسٹورنٹس، بیکریوں اور سوئیٹس تیار کرنے والے ملازمین کے لیے تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیاجارہا ہے، یہ بات درست ہے کہ غذائی پروڈکٹس کی پیداواری سرگرمیوں میں مطلوبہ صفائی ستھرائی کے فقدان اورایسے غیرمعیاری خوراک کی فروخت سے انسانی جانوں کو نقصان پہنچنے کے خدشات ہیں لیکن غیرمعیارخوراک تیارکرنے والے چند افراد کی وجہ سے حفظان صحت کے عالمی اصولوں کے مطابق برانڈڈ سوئیٹس، بیکری مصنوعات تیار کرنے والوں کی ایک بڑی تعدادکی ساکھ چندمنفی سرگرمیوں کے حامل افراد کی وجہ سے متاثر ہورہی ہے، انہوں نے کہا کہ ملک میں طویل دورانیے سے بدامنی کی لہر کے باعث عوامی تفریح اب صرف ریسٹورنٹس میں جاکراپنے خاندان کے ساتھ کھانا کھانا یا بیکری وسوئیٹس کی دکان سے پروڈکٹ خریدکرعوامی مقامات پر نوش کرنا تفریح بن گیا ہے، ایسوسی ایشن اپنے تمام اراکین کوپیداواری عمل کے دوران حفظان صحت کے اصولوں، فوڈلاز، فوڈ اینڈ کچن ہائیجین پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایات جاری کی ہوئی ہیں، پاکستان ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کے صدر شوکت سلمیان نے کہا کہ غذائی اشیا کی تیاری کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے ضروری ہے کہ ریسٹورنٹس، بیکری مالکان اپنے ملازمین کے سوشل کارپوریٹ ریسپانسبلٹی کا خیال کریں، انہوں نے کہا کہ ہم باہمی اشتراک سے مستقل بنیادوں پر اپنے ملازمین کے لیے تربیتی ورکشاپس منعقد کرائیں گے، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہ کنزیومرایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے کہا کہ غیرمعیاری غذائی اشیا کے استعمال سے ہرسال2 لاکھ افراد ہلاک ہورہے ہیں اور ان ہلاکتوں کی بنیادی وجہ مطلوبہ معلومات کا فقدان ہے یہی وجہ ہے کہ عام آدمی کم قیمت پرفٹ پاتھوں، سڑکوں کے کنارے قائم ٹھیلوں سے غا فل ہوکر اشیائے خوردونوش خریدکر استعمال کررہے ، انہوں نے کہا کہ بہترین معیار کی غذائی اشیا کی تیاری وفروخت سے صارفین اور انڈستری کے درمیان مضبوط روابط استوار ہوسکتے ہیں لیکن اس کے لیے انڈسٹری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، سیمینار سے کے ایم سی کے سینیرڈائریکٹر فوڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول مشتاق حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوڈلاز اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق غذائی پروڈکٹس کی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ان معاملات کی جانچ پڑتال کے لیے ایک خودمختار اتھارٹی قائم کی جائے،شہر میں فوڈ ایکٹ مجریہ1960 کے تحت 105 پروڈکٹس کی جانچ پڑتال اور کیمیکل ایگزامنیشن ہورہی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ فوڈایکٹ کو کلاسیفائیڈ کیا جائے، تقریب سے شکیل بیگ، ڈاکٹرعرفان ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

11/04/2015 - 17:40:15 :وقت اشاعت