بند کریں
صحت صحت کی خبریںپاک چین اقتصادی راہداری کا روٹ تبدیل نہیں کیا جا رہا ٗ روٹ پالیسی کے تحت چاروں صوبوں سے ہو ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 21/04/2015 - 12:06:08 وقت اشاعت: 21/04/2015 - 11:43:40 وقت اشاعت: 20/04/2015 - 21:52:40 وقت اشاعت: 20/04/2015 - 21:48:37 وقت اشاعت: 20/04/2015 - 21:36:43 وقت اشاعت: 20/04/2015 - 21:28:23 وقت اشاعت: 20/04/2015 - 21:06:02 وقت اشاعت: 20/04/2015 - 21:04:12 وقت اشاعت: 20/04/2015 - 20:48:25 وقت اشاعت: 20/04/2015 - 20:44:07 وقت اشاعت: 20/04/2015 - 20:30:17

پاک چین اقتصادی راہداری کا روٹ تبدیل نہیں کیا جا رہا ٗ روٹ پالیسی کے تحت چاروں صوبوں سے ہو کر ہی گزرے گا، حکومت

چاروں صوبوں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 2011 سے پوست کاشت فری ملک ہے ٗ40 پاکستانی سفارتخانوں میں مشین ریڈ ایبل سسٹم لگانے کا منصوبہ نومبر 2015ء میں مکمل ہو گا , سیف سٹی اسلام آباد کا منصوبہ 2015ء میں مکمل ہو گا جس کے تحت اسلام آباد بھر میں کڑی نگرانی کیلئے 1950 کیمرے نصب کئے جائیں گے ٗ پارلیمانی سیکرٹری ثقلین شاہ بخاری ٗ مریم اورنگزیب ٗ رانا محمد افضل کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 20اپریل۔2015ء)قومی اسمبلی کوبتایا گیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا روٹ تبدیل نہیں کیا جا رہا ٗ راہداری روٹ پالیسی کے تحت چاروں صوبوں سے ہو کر ہی گزریگا ٗپوست کی کاشت کے حوالے سے چاروں صوبوں سے آئی رپورٹ کے مطابق پاکستان 2011 سے پوست کی کاشت فری ملک ہے ٗ40 پاکستانی سفارتخانوں میں مشین ریڈ ایبل سسٹم لگانے کا منصوبہ نومبر 2015ء میں مکمل ہو گا ٗ سیف سٹی اسلام آباد کا منصوبہ 2015ء میں مکمل ہو گا جس کے تحت اسلام آباد بھر میں کڑی نگرانی کے لئے 1950 کیمرے نصب کئے جائیں گے۔

پیر کو وقفہ سوالات کے دوران ڈاکٹر نفیسہ شاہ کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری ثقلین شاہ بخاری نے بتایا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا روٹ تبدیل نہیں کیا جا رہا، یہ پالیسی کے تحت چاروں صوبوں سے ہو کر ہی گزرے گا، اس منصوبہ پر 44 ارب ڈالر لاگت آئیگی وزیراعظم محمد نواز شریف کے جولائی 2013ء میں چین کے دورہ کے دوران پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے ٗدونوں اطراف سے پرعزم ہیں کہ اس راہداری کی ترقی کے ثمرات پاکستان کے تمام صوبوں کو یکساں سائنسی منصوبہ بندی معیارات حاصل ہونے چاہئیں۔

بیگم طاہرہ بخاری کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری داخلہ و انسداد منشیات مریم اورنگزیب نے بتایا کہ ملک میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 61 لاکھ ہو گئی، منشیات کی روک تھام کیلئے اے این ایف کے 28 پولیس سٹیشن کام کر رہے ہیں، پوست کی کاشت کے حوالے سے چاروں صوبوں سے آئی رپورٹ کے مطابق پاکستان 2011 سے پوست کی کاشت فری ملک ہے وفاقی پارلیمانی سیکرٹری خزانہ رانا محمد افضل نے کہا کہ حکومت نے مارچ 2016ء میں مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے اس پر واضح طور پر عمل کرایا جائے گا، مشترکہ مفادات کونسل نے 18 مارچ 2015ء میں اس کی منظوری دی، یہ مردم شماری مارچ 2016ء میں ہو گی۔

انہوں نے بتایا کہ آمر نے آج تک مردم شماری نہیں کرائی، 1998ء کے بعد 8 سال آئین معطل رہا، اس کے بعد بھی مردم شماری نہیں ہوئی، اس حکومت نے آ کر مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری داخلہ مریم اورنگزیب نے بتایا کہ 93ء میں سے 40 ممالک میں فارن مشن ایسے ہیں جہاں مشین ریڈ ایبل سسٹم نہیں لگایا گیا، اس کا پی سی ون منظور ہو چکا ہے، نومبر 2015ء میں یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا، وزیر داخلہ اور اعلیٰ حکام پاسپورٹ آفسز کے اچانک دورے کرتے ہیں تاکہ کارکردگی بہتر بنائی جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ 73 نئے پاسپورٹ دفاتر کی منظوری ہو گئی ہے، بلوچستان میں 15 دفاتر بنا رہے ہیں، ملک کے تمام اضلاع میں پاسپورٹ دفاتر قائم کئے جائیں گے تاکہ لوگوں کو سہولت مل سکے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے بتایا کہ چارسدہ میں نئے پاسپورٹ آفس کی منظوری ہو چکی ہے، یہاں پر سٹاف کی خدمات لینے اور انفراسٹرکچر میں وقت لگتا ہے ہم کوشش کریں گے کہ ان 73 نئے منظور ہونے والے دفاتر جلد کام کریں۔

انہوں نے بتایا کہ وزیر داخلہ نے جاپان میں مقیم پاکستانیوں کو مشین ریڈ ایبل پاسپورٹ کے اجراء پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی ہے، عالمی سول ایوی ایشن کے ساتھ معاہدہ کے تحت نومبر 2015ء میں سسٹم لگانا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری راجہ جاوید اخلاص نے بتایا کہ گنے کی کرشنگ میں تاخیر اور شوگر کی قیمت کے تعین کے حوالے سے زیر التواء مقدمات کی وجہ سے شرح نمو میں کمی ہوئی ہے، حکومت عملی طور پر اقتصادی ترقی کے لئے کوشاں ہے، جولائی میں شرح نمو کا مکمل ڈیٹا دیں گے، حکومت سرمایہ کاروں کو تحفظ دے رہی ہے جن سے روپے کی قدر مستحکم ہو رہی ہے۔

تحریری طور پر وزارت داخلہ کی جانب سے ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ دارالحکومت کی سیکورٹی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو گا، اس منصوبے کے تحت 2009 مربع میٹر بم پروف کمانڈ سینٹر بلڈنگ تعمیر کی جائے گی، 1950 سخت نگرانی کے کیمرے، 500 کے ایم فائبر آپٹک، ای ایل ٹی ای فور جی نیٹ ورک کے علاوہ کمپیوٹر کے ذریعے چلایا جانے والا ترسیلی نظام اور دیگر سافٹ ویئر بشمول چہرے کی پہچان وہیکل مینجمنٹ سسٹم شامل ہے۔

20/04/2015 - 21:28:23 :وقت اشاعت