لاہور،نا معلوم افراد کی 12 سالہ لڑکی کو اغواء کرنے کے بعد مبینہ زیادتی

حالت غیر ہونے پر سڑک کنارے پھینک کر فرار‘بچی طبی امداد کیلئے میو ہسپتال داخل ‘ اہل خانہ کا پولیس کی کارروائی نہ کرنے پر شدید احتجاج ‘ وزیر اعلیٰ پنجاب کا واقعے کا نوٹس، پو لیس سے رپورٹ طلب کر لی

لاہور،نا معلوم افراد کی 12 سالہ لڑکی کو اغواء کرنے کے بعد مبینہ زیادتی

لاہور( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 24اپریل۔2015ء) صوبائی درالحکو مت کے علاقہ لوئر مال کی قریبی آبادی کے رہائشی ویگن ڈرائیور ممتاز کی 12 سالہ بیٹی کو اغواء کرنے کے بعدنا معلوم افراد نے مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بناڈالا‘حالت غیر ہونے پر سڑک کنارے پھینک کر فرار‘بچی طبی امداد کیلئے میو ہسپتال داخل ‘ ڈاکٹرز نے صحت کو تسلی بخش قر اردیدیا‘ اہل خانہ کا پولیس کی طرف سے کارروائی نہ کرنے پر شدید احتجاج جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز سے رپورٹ طلب کر لی۔

جمعرات کے روز گھر سے دودھ لینے بازار گئی لیکن واپس نہ آئی ۔ جس پر اہل خانہ نے بچی کی تلاش شروع کر دی لیکن اس کا کہیں سراغ نہ مل سکا ۔ گزشتہ روز سڑک کنارے سے بچی بیہوشی کی حالت میں مل گئی جسے طبی امداد کے لئے میو ہسپتال داخل کرا دیا گیا جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اسکی حالت تسلی بخش ہے۔

(جاری ہے)

بچی کے اہل خانہ کے مطابق بچی کو اغواء کرنے کے بعد مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ، پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لئے تعاون نہیں کر رہی ۔

پولیس کے مطابق میڈیکل رپورٹ اورشواہد اکٹھے کئے جارہے ہیں جسکی روشنی میں کارروائی آگے بڑھ سکے گی ۔ بچی کے اہل خانہ نے پولیس کی طرف سے ملزما ن کی گرفتاری کے لئے کارروائی نہ کرنے پر شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی ۔بچی کے والد ممتاز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل ہے کہ ہمیں انصاف دلایا جائے اور درندگی کے واقعے میں ملوث ملزمان کو فی الفور گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز سے رپورٹ طلب کر لی ۔

Your Thoughts and Comments