بند کریں
صحت صحت کی خبریںحکمرانوں نے طبقاتی نظام تعلیم دے کر 90فی صد سے زائد غریب عوام کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیل ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 25/04/2015 - 16:22:25 وقت اشاعت: 25/04/2015 - 14:51:17 وقت اشاعت: 25/04/2015 - 14:38:43 وقت اشاعت: 25/04/2015 - 12:26:39 وقت اشاعت: 24/04/2015 - 22:45:40 وقت اشاعت: 24/04/2015 - 22:43:58 وقت اشاعت: 24/04/2015 - 22:04:22 وقت اشاعت: 24/04/2015 - 21:35:15 وقت اشاعت: 24/04/2015 - 20:52:56 وقت اشاعت: 24/04/2015 - 19:51:23 وقت اشاعت: 24/04/2015 - 19:46:33

حکمرانوں نے طبقاتی نظام تعلیم دے کر 90فی صد سے زائد غریب عوام کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیل دیا ،تحریک منہاج القرآن

مسلم ممالک پر ہونے والے مظالم کو روکنے کیلئے امت مسلمہ کی نمائندہ تنظیم OIC مجرمانہ خاموشی اختیار کر کے اپنا وجود کھو چکی ، حکمرانوں کو بھی تائب ہونا ہو گا ورنہ آئندہ نسلیں ایسے حکمرانوں کو کبھی معاف نہیں کریں گی،مرکزی امیر صاحبزادہ فیض الرحمن درانی کا اجتماع سے خطاب

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 24اپریل۔2015ء) تحریک منہاج القرآن کے مرکزی امیرصاحبزادہ فیض الرحمان درانی نے کہا ہے کہ سیاسی اور معاشی طور پر امت مسلمہ دنیا میں محکومی کی زندگی گزار رہی ہے ۔مسلم ممالک وسائل کی فراوانی اور با صلاحیت افراد قوت کے باوجود سیاسی اور معاشی طور پر دنیا میں زوال اور مسائل کی بڑی وجہ نا اہل حکمران ہیں۔حضور ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں تعلیم اور شعور کے فروغ کو جتنی اہمیت دی اسکی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔

موجودہ حکمرانوں نے طبقاتی نظام تعلیم دے کر 90فی صد سے زائد غریب عوام کو جہالت کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے ۔وہ جامع المنہاج ماڈل ٹاؤن میں جمعۃ المبارک کے بڑے اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ فدیہ دینے کی طاقت نہ رکھنے والے غزوہ بدر کے قیدیوں کو دس بچوں کو لکھنے پڑھنے کے قابل بنانے کے عوض رہائی دینا علم کی اہمیت کوا واضح کرتا ہے۔

آج فروغ علم کو دعوت و تربیت کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ علم نافع سینے میں نور پیدا کر کے اﷲ کی معرفت دیتا ہے،علم نافع دنیا میں بے رغبتی پیدا کرتا ہے اور یہ بندے کو ہر لمحہ جنت کے قریب اور دوزخ سے دور کرتا ہے اس لئے ایسے علم کو حاصل کرنا ہر شخص کی ذمہ داری ہے ۔صاحبزادہ فیض الرحمان درانی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ،یمن اور دیگر مسلم ممالک میں حالات خراب ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ معاشی طور پر خوشحال مسلم ممالک و غریب مسلم ممالک کے عوام کی معاشی حالت بہتر بنانے کیلئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھا رہے جو بڑا المیہ ہے ۔

افغانستان،یمن ،عراق،کشمیر،فلسطین اور دیگر محکوم مسلم ممالک پر ہونے والے مظالم کو روکنے کیلئے امت مسلمہ کی نمائندہ تنظیم OIC مجرمانہ خاموشی اختیار کر کے اپنا وجود کھو چکی ہے ۔UNکا غلامانہ اور بے حیثیت کردار بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ موثر مسلم ممالک کے حکمران ذاتی مفادات اور غلامانہ پالیسیوں سے تائب ہو کر فوراً ایک ایسا فورم تشکیل دیں جہاں محکوم مسلم ممالک کو حقیقی آزادی دلانے اور امت کے معاشی و سیاسی وقار کی بحالی کیلئے ٹھو س پالیسیاں تشکیل دی جائیں اور پھر ان پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے تا کہ مسلمان بطور امت دنیا میں توقیر کے ساتھ زندگی گزار سکیں ۔

انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کے حکمرانوں نے اپنی موجودہ روش کو نہ بدلا تو سیاسی و معاشی طور پر کمزور امت دنیا میں مزیدبے حیثیت بنا دی جائیگی۔پاکستانی حکمرانوں کو بھی تائب ہونا ہو گا ورنہ آئندہ نسلیں ایسے حکمرانوں کو کبھی معاف نہیں کریں گی ۔

24/04/2015 - 22:43:58 :وقت اشاعت