بند کریں
صحت صحت کی خبریں` سندھ حکومت امسال صوبہ سندھ میں ساؤتھ ایشین لیبر کانفرس آئندہ سال ایشین لیبر کانفرس منعقد ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 03/05/2015 - 13:43:00 وقت اشاعت: 03/05/2015 - 13:43:00 وقت اشاعت: 03/05/2015 - 13:16:24 وقت اشاعت: 03/05/2015 - 12:13:00 وقت اشاعت: 03/05/2015 - 11:38:05 وقت اشاعت: 02/05/2015 - 22:41:10 وقت اشاعت: 02/05/2015 - 22:29:35 وقت اشاعت: 02/05/2015 - 21:16:35 وقت اشاعت: 02/05/2015 - 21:09:55 وقت اشاعت: 02/05/2015 - 20:25:33 وقت اشاعت: 02/05/2015 - 18:59:44

` سندھ حکومت امسال صوبہ سندھ میں ساؤتھ ایشین لیبر کانفرس آئندہ سال ایشین لیبر کانفرس منعقد کریگی، قائم علی شاہ

صوبہ میں موجود لیبر کالونیوں میں اسکولز ، فنی تربیت کے ادارے قائم ، تعلیم اور صحت کی سہولیات سے آراستہ نئی لیبر کالونیاں بنانے کا اعلان , دو ماہ کے اندر تمام لیبر یونینز کی مشاورت کے بعد نئی لیبر پالیسی مرتب کرنے کا بھی اعلان `

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 02 مئی۔2015ء)ایمپلائیز اولڈ ایج بینفٹ انسٹیٹیوشن (ای او بی آئی) ، ورکرا ویلفیئر فنڈ کے اختیارات صوبوں کو منتقل کرنے ، سرکاری اداروں کی نجی کاری واپس لینا اور نئی لیبر پالیسی کی تیاری جیسے امور کا ہفتہ کے روز وزیر اعلیٰ ہاؤس میں مزدوروں کے عالمی دن کے موقعہ پرپیپلز لیبر بیورو کی طرف سے منعقدہ ایک تقریب میں احاطہ کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ جوکہ پی پی سندھ کے صدر بھی ہیں نے اجتماع سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال سندھ حکومت صوبہ سندھ میں ساؤتھ ایشین لیبر کانفرس کا انعقاد کریگی اورآئندہ سال ایشین لیبر کانفرس منعقد کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبہ میں موجود لیبر کالونیوں میں اسکولز ، فنی تربیت کے ادارے قائم کرنے کا اعلان کیا جہاں پر محنت کشوں کے بچوں کو مفت میں فنی تربیت اور تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے گی، اور تعلیم اور صحت کی سہولیات سے آراستہ نئی لیبر کالونیاں بنانے کا بھی اعلان کیا۔

انہوں نے ہر سال محنت کشوں کے -5 بچوں کو مفت میں اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرون ملک بھیجنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے دو ماہ کے اندر تمام لیبر یونینز کی مشاورت کے بعد نئی لیبر پالیسی مرتب کرنے کا بھی اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی محنت کشوں اور کسانوں کی جماعت ہے اور اس کا قیام شہید ذوالفقار علی بھٹو اس وقت عمل میں لائے جب ملک کے مزدور اور محنت کش طبقہ ملک کے 22 بڑے خاندانوں کے زیر اثر اور محکوم تھا۔

انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اسٹیل ملز قائم کی اورمحنت کشوں کیلئے سوشل سیکورٹی اور دیگر متعدد ادارے قائم کئے۔انہوں نے کہا کہ پی پی اور ان کی حکومت نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے قائم کئے گئے سرکاری اداروں کی نج کاری کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ اس پر احتجاج بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کے اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کے حوالے سے متعدد بار وفاقی حکومت سے رجوع کیا اور یہاں تک کہ اس معاملے کو مشترکہ مفادات کی کونسل (سی سی آئی) کے اجلاس میں بھی لے گئے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ پی پی پارلیامنٹ میں محنت کشوں کی نمائندگی کے حوالے سے سینٹ میں بل پیش کریگی اور اس کی دونوں ایوانوں سے بل کی منظوری کیلئے دوسری جماعتوں کو قائل کرنے کی کوشش کریگی۔ انہوں نے ڈویزن اور تعلقہ سطح پر امپلینمیٹیشن کمیشن اور سہہ فریقی کمیٹیاں قائم کرنے کا بھی اعلان کیا جوکہ دوماہ کے اندر سہہ فریقی لیبر کانفرس کا انعقاد کریں گے اور اسٹینڈ نگ لیبر کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائیگا اور ان کی سفارشات پر نئی صوبائی لیبر پالیسی کی تشکیل دی جائیگی، اور محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائیگا اور اس حوالے سے ا?ئی ایل او اور اقوام متحدہ کے معیارکو مدنظر رکھا جائیگا۔

انہوں نے ڈویزنل سطح پر لیبر کورٹس قائم کرنے کا بھی اعلان کیا اور لیبر ٹاسک فورس کو مؤثر کرنے کی بھی ہدایت کی اور اس کے ساتھ ساتھ لیبر انسپیکشن کو بھی مزید فعال کرنے کا اعلان کیا۔پی پی کی نائب صدر شیری رحمان نے اپنی تقریر میں کہا کہ پی پی نے وفاق میں اپنے گذشتہ دور حکومت میں پہلے سو دنوں کے دوران محنت کشوں اور میڈیا سے متعلق تمام کالے قوانین کا خاتمہ کیا۔

انہوں نے خواتین کارکنوں پر زور دیا کہ وہ محنت کشوں کے تمام فلاح و بہبود کے اداروں میں اپنی فعال شرکت کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے لیبر سک فورس کو فعال کرنے پر زور دیا اور کارکنوں کو یقین دلایا کہ پی پی انہیں مشکل کی گھڑی میں اکیلا نہیں چھوڑے گی بلکہ ان کے تحفظ کیلئے بھی ہمیشہ آگے آگے رہے گی۔ پیپلز لیبر بیورو کے انچارج چوہدری منظور نے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی محنت کشوں اور کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے خدمات کو سہراہتے ہوئے کہا کہ یہ صرف سید قائم علی شاہ تھے جہنوں نے سی سی آئی کے اجلاسوں میں محنت کشوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کی۔

انہوں نے پی پی پی کی مرکز اور صوبہ سندھ میں گذشتہ حکومت کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ پی پی پی نے منیمیم ویجز ایوارڈ کو 4,600 روپے سے بڑھا کر 10,000 روپے کیا ، 84 کمپنیوں میں محنت کشوں کو -12 فیصد شئیر دیا، حادثات کی صورت میں مالی امداد دو لاکھ روپے سے بڑھا کر -5لاکھ روپے اور محنت کشوں کی تمام بیٹیوں کو جہیز فنڈ کی فراہمی جیسے کام کئے۔

جنرل سیکرٹیری پیپلز ورکرز بیوروآف پاکستان خواجہ محمد اعوان نے بھی ای او بی آئی اور ورکرز ویلفئیر فنڈ کے اختیارات کی صوبے کو منتقلی کے مطالبے کو دہرایا۔ انہوں نے شکاگو کے محنت کشوں کو سلام پیش کیا کہ جو کہ انہوں نے محنت کشوں کے حقوق کیلئے قربانیاں دیں۔ اس موقعہ پر پیپلز لیبر بیوروکے صد ر شمشاد قریشی نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کے معاونین خصوصی وقار مہدی ، راشد ربانی اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے `

02/05/2015 - 22:41:10 :وقت اشاعت