بند کریں
صحت صحت کی خبریں غذائی قلت کے حوالے سے پاکستان کے اشارئیے انتہائی مایوس کن ہیں ، گزشتہ کچھ عرصے میں اس حوالے ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 05/05/2015 - 20:45:13 وقت اشاعت: 05/05/2015 - 20:34:58 وقت اشاعت: 05/05/2015 - 20:16:24 وقت اشاعت: 05/05/2015 - 19:53:46 وقت اشاعت: 05/05/2015 - 17:31:27 وقت اشاعت: 05/05/2015 - 17:30:04 وقت اشاعت: 05/05/2015 - 17:19:32 وقت اشاعت: 05/05/2015 - 16:52:00 وقت اشاعت: 05/05/2015 - 16:52:00 وقت اشاعت: 05/05/2015 - 14:58:03 وقت اشاعت: 05/05/2015 - 13:41:57

غذائی قلت کے حوالے سے پاکستان کے اشارئیے انتہائی مایوس کن ہیں ، گزشتہ کچھ عرصے میں اس حوالے سے معمولی پیشرفت ہوئی ، صوبوں اور مختلف اداروں کی عدم توجہ کے باعث اس میدان میں خاطر خواہ ترقی ممکن نہیں ہو سکی غذائی قلت کے شکار ممالک میں پاکستان کا شمار ایک انتہائی لمحہ فکریہ ہے

وزیر مملکت برائے قومی صحتسائرہ افضل تارڑ کااجلاس سے خطاب

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 05 مئی۔2015ء ) وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ غذائی قلت کے حوالے سے پاکستان کے عشارئیے انتہائی مایوس کن ہیں ، گزشتہ کچھ عرصے میں اس حوالے سے معمولی پیشرفت ہوئی مگر صوبوں اور مختلف اداروں کی عدم توجہ کے باعث اس میدان میں خاطر خواہ ترقی ممکن نہیں ہو سکی۔

غذائی اجناس پیدا کرنے والا ملک ہونے کے باوجود بچوں اور ماؤں کی غذائی قلت کے شکار ممالک میں پاکستان کا شمار ایک انتہائی لمحہ فکریہ ہے۔ تمام بین الاقوامی اور بین الصوبائی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انفرادی پروگراموں کی بجائے مشترکہ مفادات بشمول صوبائی حکومتوں کے اقدامات میں وزارت صحت کی پالیسی اور وژن کے مطابق کام کریں جس کے تحت مائیں اور بچے مستفید ہو سکیں۔

وہ منگل کو وزارت صحت کے زیر اہتمام قومی غذائی پروگرام کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کر رہی تھیں ۔ یاد رہے کہ قومی غذائی پروگرام کے حوالے سے تجویز کئے گئے اقدامات ، قومی غذائی پروگرام کے تحت تمام بین الاقوامی اور بین الصوبائی اداروں ، مختلف وزارتوں ، صوبائی سیکرٹریز اور نمائندوں ، خوراک سے متعلق انڈسٹری کے نمائندوں اور اعلی تعلیمی اور تحقیقی اداروں پر مشتمل قومی محاذ تشکیل دیا گیا تھا جس کا پہلا اجلاس وزارت صحت میں وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس میں مختلف وزارتوں کے نمائندوں اور صوبائی سیکرٹریز سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ دوران اجلاس وفاقی وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ کو نیشنل نیوٹریشن سروے کے اعداد و شمار سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سروے کے مطابق پانچ سال تک کی عمر کے 43.6 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں جس کی وجہ سے وہ آئرن ، زنک اور وٹامن اے اور وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں جبکہ غذائی قلت کی وجہ سے حاملہ خواتین میں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

پانچ سال تک کی عمر کے ہر تین سے میں ایک اور 15 سے 49 سال عمر کی ہر چار سے ایک عورت آئرن کی کمی کا شکار ہے۔ ان حالات میں پاکستان 2015ء تک غذائی قلت کے حوالے سے ڈی ایم جی ون سی کے اہداف حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس موقع پر سائرہ افضل تارڑ نے یاد دہانی کروائی کہ غذائیت کے بارے میں قومی سروے کے موقع پر یہ ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ غذا اور غذائیت کے حوالے سے ایک ٹاسک فورس یا سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی جائے گی اور یہ اجلاس اس جانب پہلا قدم ہے۔

اجلاس میں وفاقی سیکرٹری پلاننگ حسن نواز تارڑ نے وزارت صحت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ میٹنگ جو عام اکائیوں اور بین الصوبائی اداروں پر مشتمل ہے ایک نیک شگون اور احسن اقدام ہے۔ وزارت منصوبہ بندی اس سلسلے میں وزارت صحت کو مکمل تعاون فراہم کرے گی۔ وزیر صحت نے تمام صوبوں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اپنے حالات کو مدنظررکھتے ہوئے صوبائی غذائی ادارے پی اے ایف تشکیل دیں اور وفاقی حکومت کو ایک ہفتے کے اندر سفارشات پیش کریں۔ جس کے پیش نظر وفاقی وزارت صحت تمام بین الصوبائی اداروں سے مل کر اس سلسلے میں ضروری اقدامات اور قانون سازی کرے گی۔

05/05/2015 - 17:30:04 :وقت اشاعت