بند کریں
صحت صحت کی خبریںتھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچے ہماری خصوصی توجہ کے مستحق ہیں، تھیلیسیمیا مہلک مرض ہے ،، ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 08/05/2015 - 21:40:40 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 21:24:40 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 21:00:05 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 20:55:22 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 20:33:26 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 20:26:43 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 20:11:42 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 20:05:49 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 19:56:47 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 19:47:11 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 19:42:03

تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچے ہماری خصوصی توجہ کے مستحق ہیں، تھیلیسیمیا مہلک مرض ہے ،، انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس مہلک بیماری سے متعلق بیداری کی بھرپور مہم کے ذریعے اقدامات اٹھائے جائیں

وزیرمملکت برائے قومی صحت سائرہ افضل تار کا تقریب سے خطاب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 08 مئی۔2015ء) وزیرمملکت برائے قومی صحت سائرہ افضل تار ڑ نے کہاہے کہ تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا بچے ہماری خصوصی توجہ کے مستحق ہیں اور ہمیں ہر سطح پر ان کی حوصلہ افزائی سے اُنہیں معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لئے کاوشیں کرنا ہونگی اور ان کے علاج معالجہ کے لئے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا ۔

گذشتہ روز انٹرنیشنل تھیلا سیمیا ڈے کے موقع پر پاکستان تھیلاسیمیا ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام ملٹی پرپز ہال اسلام آباد کلب میں منعقدہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا جہاں وہ مہمانِ خصوصی تھیں ۔انہوں نے پاکستان تھیلاسیمیا ویلفیئر سوسائٹی کو تھیلاسیمیاکی روک تھام اور علاج کے لئے خدمات پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے مزید کہا کہ تھیلاسیمیا مہلک مرض ہے اور اس بات کی اشدضرورت ہے کہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس مہلک بیماری سے متعلق بیداری کی بھرپور مہم کے ذریعے اقدامات اٹھائے جائیں اوراس کے بروقت علاج اور حفاظتی تدابیر سے قیمتی جانوں کے ضیاع اور اس مرض کو مزید بڑھنے سے روکا جائے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے راہنما اور پاکستان گرین ٹاسک فورس کے صدر ڈاکٹر جمال ناصر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس مرض کی بڑھتی ہوئی شرح میں کمی کرنے کے لئے پاکستان کی گورنمنٹ اور سول سوسائٹی کو مل کر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔

انہوں نے کہا کہ جن ممالک سے تھیلاسیمیا کا مرض دُنیا میں پھیلا اُُن ممالک میں اس بیماری کی شرح انتہائی کم یا نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ اُن ممالک میں ملکی سطح پر اس سلسلے میں عوام میں اس سے متعلق بیداری کی بھر پور مہمات کو کامیابی سے چلایا گیا ۔ ہمیں بھی ایسی مہمات کو ملکی سطح پر حکومتی اور دیگر اداروں کے تعاو ن سے چلانے کی ضرورت ہے ۔

اس موقع پر مسٹر مشل تحرین نمائندہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن برائے پاکستان نے خطاب کرتے ہوئے تھیلاسیمیا کے علاج معالجے اور روک تھام کے لئے اپنے ادارے کئے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ۔ اس موقع پر پاکستان تھیلاسیمیا ویلفیئر سوسائٹی کے ایگزیکٹو نائب صدرلیفٹیننٹ جنرل (ر) کمال اکبر خان نے ادارے کی کارکردگی سے شرکاء کو آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس بیماری سے متعلق شعور اور آگاہی کی ترویج کے لئے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو اپنا بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے۔

تاکہ اس کے مزیدپھیلاؤ کو روکا جا سکے ۔ انہوں نے ادارے کے اُن تمام مددگاروں کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کے عطیات سے مریضوں کو بروقت علاج معالجہ میئسر آسکا ۔میجر جنرل (ر) مسعود انور، ڈاکٹر عبدالقیوم اعوان اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔ تقریب میں بریگیڈئر (ر) نادرہ میمن، پروفیسر ڈاکٹر طاہرہ ظفر ، ڈاکٹر ظہیر احمد ، تنویر زبیری ، نعیم قریشی ، شیخ مختار احمد ،مرتضیٰ برہانی ،کرنل محمد یوسف اور دیگرنے بھی شرکت کی۔تقریب میں تھیلاسیمیا کے مریض بچوں نے مختلف ٹیبلواور ترانے پیش کئے۔آخر میں مہمان خصوصی نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالے ڈاکٹروں میں شیلڈز تقسیم کیں۔

08/05/2015 - 20:26:43 :وقت اشاعت