بند کریں
صحت صحت کی خبریںصوبائی حکومت تھیلی سیمیا کے مرض کے خاتمے کے لئے سنجیدہ اور پرعزم ہے،شہرام خان
تھیلی سیمیا ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 09/05/2015 - 14:27:37 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 23:00:07 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 22:58:41 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 22:55:12 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 21:47:40 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 21:40:40 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 21:24:40 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 21:00:05 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 20:55:22 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 20:33:26 وقت اشاعت: 08/05/2015 - 20:26:43

صوبائی حکومت تھیلی سیمیا کے مرض کے خاتمے کے لئے سنجیدہ اور پرعزم ہے،شہرام خان

تھیلی سیمیا اور ہپاٹائٹس کے خاتمے کے لئے اگلے تین سالوں میں چھ سو ملین روپے خرچ کئے جائیں گے ،وزیرصحت خیبرپختونخوا

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 08 مئی۔2015ء)خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر صحت شہرام خان تراکئی نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت تھیلی سیمیا کے مرض کے خاتمے کے لئے سنجیدہ اور پرعزم ہے تھیلی سیمیا اور ہپاٹائٹس کے خاتمے کے لئے اگلے تین سالوں میں چھ سو ملین روپے خرچ کئے جائیں گے تھیلی سیمیا کے مرض میں مبتلابچے حکومت کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے اور صاحب ثروت افراد کی توجہ کے مستحق ہیں۔

یہ ہماری قوم کا مستقبل ہیں اور انہیں اس بیماری سے بچانے کے لئے سب کو مل کر کوششیں کرنی چاہئیں۔تھیلی سیمیا پروگرم کوفی الوقت تین سالوں کے لئے توسیع دی گئی ہے جبکہ آنے والے وقتوں میں اس کومستقل پروگرام کے طور پر چلایا جائے گا۔وہ جمعہ کے روز خیبر میڈیکل کالج پشاور میں تھیلی سیمیا کے عالمی دن کی مناسبت سے تھیلی سیمیا فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ ایک تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔

صوبائی وزیر نے بتایا کہ صوبائی حکومت سرکاری ہسپتالوں میں تھیلی سیمیا کے مریضوں کے علاج معالجے اور انہیں مفت ادویات فراہم کرنے کے سلسلے میں طریقہ کار وضع کر رہی ہے اور ہر وہ اقدامات اٹھانے کے لئے پرعزم ہے جس سے تھیلی سیمیا کا خاتمہ ممکن ہو سکے اور قوم کے ان نونہالوں کو اس مہلک بیماری سے نجات مل سکے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر راشدہ یاسمین نے تھیلی سیمیا کے مرض کے خاتمے کے لئے احتیاطی تدابیر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں ہر سال تھیلی سیمیا کے چھ ہزار سے زائد بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے لئے خون کی سالانہ90ہزار بوتلوں کی ضرورت پڑتی ہے جسے پورا کرنا انتہائی مشکل ہے اس لئے حفاظتی اقدامات ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے اس مرض پر قابو پا یا جاسکتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے بھی اس بیماری سے بچاؤ کے لئے حفاظتی تدابیر پر زور دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ اس سلسلے میں پہلے سے بنائے گئے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائے اور مزید موثر قانون سازی کے لئے بھی کام کرے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت قانون سازی کے ذریعے شادی سے پہلے تھیلی سیمیاکے ٹیسٹ کوسب کے لئے لازمی قرار دے تاکہ اس مہلک بیماری سے چھٹکارا ممکن ہو سکے۔تقریب میں ایم این اے ساجدہ ذوالفقار،سنیٹر لیاقت تراکئی اور خیبر میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر اعجازحسن کے علاوہ ڈاکٹروں،طلباء و طالبات،تھیلی سیمیا میں متبلا بچے،انکے والدین اور میڈیا کے نمائندوں کی کثیر تعدادنے شرکت کی۔

08/05/2015 - 21:40:40 :وقت اشاعت