ای مانیٹرنگ سسٹم سے صوبے میں ہیلتھ انڈیکیٹرز بہتر ،محکمہ صحت کی کارکردگی میں اضافہ ہوا ‘ خواجہ سلمان رفیق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 11 مئی۔2015ء) مشیر وزیراعلی پنجاب برائے صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال سے محکمہ صحت میں ہونے والی تمام پیش رفت کو ڈاکومنٹڈ کیا جارہا ہے اور ای مانیٹرنگ سسٹم سے صوبے میں ہیلتھ انڈیکیٹرز بہتر ہورہے ہیں جس کی وجہ سے محکمہ صحت کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے یہ بات یہاں ایگزیکٹو ڈسٹرکٹ آفیسرز(ای ڈی او) ہیلتھ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس میں سیکرٹر ی صحت جواد رفیق ملک ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر زاہد پرویز، انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ پارٹنرز کے نمائندوں ، چیف منسٹر ہیلتھ روڈ میپ ٹیم کے ارکان ، تمام اضلاع کے ای ڈی او ہیلتھ اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں بنیادی مراکز صحت ، دیہی مراکز صحت، تحصیل اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی حاضری ، ادویات کی دستیابی، لیڈی ہیلتھ وزیٹرز کی تعیناتی اور مدراینڈ چائلڈ ہیلتھ کے حوالے سے بنیادی مراکز صحت پر ڈلیوریز کی شرح کا جائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

اجلاس کو بتایا گیا کہ پروگرام کے مطابق صوبے کے 345بنیادی مراکز صحت پر 24گھنٹے 24/7کے تحت زچگی کی سہولت فراہم کردی گئی ہے اور رواں ماہ کے آخر تک یہ ٹارگٹ 550بی ایچ یوز تک بڑھادیا جائے گا۔ اجلاس میں تمام اضلاع کے بنیادی مراکز صحت ، دیہی مراکز صحت میں سہولیات کا جائز ہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 30اضلاع کے بی ایچ یوز پر ضروری ادویات کی سو فیصد فراہمی کا ٹارگٹ مکمل ہوگیا ہے جبکہ 6اضلاع میں یہ ہدف تقریبا 80-70 فیصد تک ہے جسے جلد سو فیصد تک مکمل کرلیا جائے گا-مزید برآں واک ان انٹرویوز کے ذریعے ڈاکٹروں کی بھرتی کا عمل بھی جاری ہے لیکن ریموٹ اضلاع میں بنیادی مراکز صحت کے لئے ڈاکٹروں کی دستیابی میں مشکل پیش آرہی ہے تاہم صوبے کے 60فیصد سے زائد بی ایچ یو پر ڈاکٹر تعینات کردیئے گئے ہیں۔

سیکرٹری صحت جواد رفیق ملک نے کہا کہ ای ڈی او ہیلتھ کو واک ان انٹرویو کے ذریعے LHVs اور دیگر سٹاف رکھنے کا اختیار ہے۔ خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے چلی آرہی خرابیوں کو دور کیا جارہا ہے اور چیف سنٹر ہیلتھ روڈ میپ اور مانیٹرنگ ایویلیوایشن اسسٹنٹس(MEAs )کے ذریعے پورے ہیلتھ سسٹم کی ای مانیٹرنگ شروع کردی گئی ہے اور اب ہر افسر کی کارکردگی بلیک اینڈ وائٹ میں سامنے آرہی ہے جس سے صورتحال کو درست کرنے اور gapsکو دور کرنے میں مدد مل رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ قبل ازیں صرف زبانی کلامی معاملات کا پتہ چلتا تھا لیکن اب ہر سہولت کے انڈیکیٹرز مقرر کردیئے گئے ہیں اور ٹریفک سگنل کی طرح کارکردگی کے مطابق سرخ اور سبز لائٹس اس کی نشاندہی کررہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب( MEAs) بنیادی مراکز صحت کے بعد دیہی مراکز صحت (RHCs)کی کارکردگی بھی مانیٹر کریں گے نیز 24گھنٹے چلنے والے بی ایچ یوز کی کارکردگی کے ساتھ وہاں ہونے والی ڈلیوریز(زچگی) کی بھی تصدیق کریں گے جس سے مذکورہ سینٹر کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور پرائمری ہیلتھ میں مزید بہتری آئے گی۔

خواجہ سلمان رفیق نے ہدایت کی کہ تمام میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اپنے ہسپتال کا دن میں دو مرتبہ باقاعدگی سے وزٹ کریں اور ہر ای ڈی ہیلتھ کم از کم ایک مرتبہ اپنے ضلع میں واقع ہر ہسپتال کا دورہ کرے اور اس کی رپورٹ ارسال کرے ۔اجلاس میں پولیو، ایمونائزیشن، ڈینگی، خسرہ اور دیگر بیماریوں کی صورتحال اور ہیلتھ پرگراموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ای ڈی اوز ہیلتھ کو ہیلتھ انڈیکیٹرز مزید بہتر بنانے کے لئے ضروری ہدایات دی گئیں۔

Your Thoughts and Comments