بند کریں
صحت صحت کی خبریں ذوالفقار مرزا اس وقت پاکستان یا سندھ کی نہیں اپنی ذاتی لڑائی لڑرہے ہیں،شرجیل انعام میمن ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 11/05/2015 - 20:25:53 وقت اشاعت: 11/05/2015 - 20:03:20 وقت اشاعت: 11/05/2015 - 19:45:00 وقت اشاعت: 11/05/2015 - 19:05:50 وقت اشاعت: 11/05/2015 - 17:32:16 وقت اشاعت: 11/05/2015 - 17:29:28 وقت اشاعت: 11/05/2015 - 17:01:54 وقت اشاعت: 11/05/2015 - 16:45:40 وقت اشاعت: 11/05/2015 - 15:07:45 وقت اشاعت: 11/05/2015 - 13:54:42 وقت اشاعت: 11/05/2015 - 13:15:26

ذوالفقار مرزا اس وقت پاکستان یا سندھ کی نہیں اپنی ذاتی لڑائی لڑرہے ہیں،شرجیل انعام میمن

بدین میں شوگر ملز کی سندھ حکومت کے حکم پر نہیں سندھ ہائیکورٹ کے حکم پر نیلام کی جارہی ہے،کسی کو قانون ہاتھ میں لینے نہیں دینگے , ہم سیاسی لوگ ہیں، بدتمیزی کی زبان کا استعمال ہمارا وطیرہ نہیں، سپریم کورٹ وحیدہ ملک کیس پر سوموٹو ایکش لے سکتی ہے تو پھر کھلے عام ہتھیار لیکر مارکیٹوں کو بند کروانا ، تھانے جا کر بدمعاشی کرنا اسے کیوں نظر نہیں آرہا،وزیراطلاعات و بلدیات سندھ

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 11 مئی۔2015ء) سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سابق وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا اس وقت پاکستان یا سندھ کی نہیں بلکہ اپنی ذاتی لڑائی لڑرہے ہیں۔ بدین میں شوگر ملز کی سندھ حکومت کے حکم پر نہیں بلکہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر نیلام کی جارہی ہے۔ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور جو زبان اس وقت ذوالفقار مرزا استعمال کررہے ہیں، ایسی زبان ہم بھی استعمال کرنا جانتے ہیں لیکن ہم سیاسی لوگ ہیں اور بدتمیزی کی زبان کا استعمال ہمارا وطیرہ نہیں ہے۔

ذوالفقار جس طرح پارٹی کی اعلیٰ قیادت، صوبائی وزراء ، ارکان اسمبلی اور بالخصوص خواتین ارکان اسمبلی کے لئے جس طرح کی بے ہودہ زبان کا استعمال کررہے ہیں، ایسی زبان دنیا کے کسی بھی حصہ میں کوئی استعمال نہیں کرتا اور ہم اس کی بھرور مذمت کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ اگر وحیدہ ملک والے کیس پر سوموٹو ایکشن لے سکتی ہے تو پھر اسے شخص جو کھلے عام ہتھیار لے کر مارکیٹوں کو بند کرواتا ہوا اور تھانے میں جاکر بدمعاشی کرتا کیوں نظر نہیں آرہا اور وہ اس پر سوموٹو ایکشن کیوں نہیں لیتی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو سندھ اسمبلی کے اجلاس کے بعد باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ممتاز جاکھرانی، ارکان سندھ اسمبلی امداد پتافی، فیاض بھٹ اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ذوالفقار مرزا کی جانب سے جو لڑائی وہ اس وقت لڑ رہے ہیں وہ بدین ، سندھ یا پاکستان کے عوام کی لڑائی نہیں ہے بلکہ وہ ان کی ذاتی لڑائی ہے اور اس میں وہ جس طرح کی بے ہودہ اور غلیظ زبان کا استعمال کررہے ہیں وہ قابل مذمت ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ گذشتہ روز ذوالفقار مرزا نے ہمارے ایک وزیر مکیش چاولہ کے والد کے خلاف بھی بے ہودہ زبان کا استعمال کیا، جس کی بھی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار مرزا اس وقت حکومتی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں اور اس پر قانون ضرور حرکت میں آئے گا۔ انہو ں نے کہا کہ مکیں پمرا سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ مختلف نجی چینلز پر ذوالفقار مرزا کی جانب سے ہماری لیڈر شپ، ہمارے وزراء اور ارکان اسمبلی کے خلاف ایک شخص کی جانب سے زبان کے بے ہودگی کے استعمال پر روکا جائے بصورت دیگر ہم احتجاج کا حق رکھتے ہیں۔

یہ پمرا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہماری لیڈر شپ اور ان کی فیملی کا احترام کرے۔ ایک سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ذوالفقار مرزا کی جس طرح کی زبان کا استعمال ہے اس کے بعد دوستی نام کا تصور مشکوک ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص اپنے دوست، محسن اور ہمدردوں کا نہ ہوسکاوہ کسی کا کیا ہوسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گالی گلوچ اور بدتمیزی کا کلچر اب بند ہونا چاہئے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس ملک کی بقاء اور سالمیت پر جو خطرات ہوں گے اس کے ذمہ دار بھی ذوالفقار مرزا ہی ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی کو سیکورٹی دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن کسی کو پرائیویٹ سیکورٹی کے نام پر ہراساں کرنے کی بھی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کسی کو بھی ہم قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے اور جو بھی قانون ہاتھ میں لے گا اس کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں فہمیدہ مرزا کے لئے دل میں بڑا احترام ہے اور ان کی جانب سے جو زبان کا استعمال ہوا وہ سیاسی اختلاف تھا اور ذوالفقار مرزا کو بھی اسی طرح کی زبان کا استعمال کرنا سیکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جو الزامات اور دھمکیاں ذوالفقار مرزا مختلف نجی چینلز پر ذوالفقار مرزا کررہے ہیں۔ ہم ان الزامات کے جوابات اور حقائق کو بھی جانتے ہیں اور اس کا جواب دینا بھی جانتے ہیں لیکن ہم اس طرح کی زبان کا استعمال نہیں چاہتے۔

11/05/2015 - 17:29:28 :وقت اشاعت