بند کریں
صحت صحت کی خبریںآیورویدک برقعے سعودی عرب میں خواتین کے پسندیدہ برقعے بن گئے ، آیورودیک کے ذریعے جلد کی بیماریاں، ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 10/09/2007 - 15:24:37 وقت اشاعت: 09/09/2007 - 22:20:46 وقت اشاعت: 08/09/2007 - 15:38:21 وقت اشاعت: 06/09/2007 - 22:43:45 وقت اشاعت: 04/09/2007 - 18:45:32 وقت اشاعت: 03/09/2007 - 20:22:04 وقت اشاعت: 03/09/2007 - 17:17:05 وقت اشاعت: 01/09/2007 - 14:32:34 وقت اشاعت: 01/09/2007 - 12:34:48 وقت اشاعت: 28/08/2007 - 15:44:02 وقت اشاعت: 27/08/2007 - 13:58:09

آیورویدک برقعے سعودی عرب میں خواتین کے پسندیدہ برقعے بن گئے ، آیورودیک کے ذریعے جلد کی بیماریاں، شگر اور بلڈ پریشر جیسی بیماریوں کا علاج ممکن ہے، ڈاکٹر این سینی

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 3ستمبر۔2007ء) بھارتی کیرالہ کے دارالحکومت تروندرم کے چھوٹے سے گاوٴں بالاراماپورم کے بنائے ہوئے آیورویدک برقعے سعودی عرب میں خواتین کے پسندیدہ برقعے بن گئے ہیں۔ بالاراماپورم کے آیورویدک برقعے نہ صرف سعودی عرب بلکہ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جاپان میں بھی کافی مقبول ہو رہے ہیں۔کے راجن کا خاندان کئی دہائیوں سے کپڑا بنانے کا کام کرتا ہے لیکن آیورویدک کپڑا بنانے کا کام انہوں نے پچیس برس پہلے شروع کیا تھا۔

مسٹر راجن نے فون پر غیر ملکی خبر رسا ں ادارے کو بتایا کہ ان کے بنائے ہوئے برقعے اس لیے زیادہ مقبول ہو رہے ہیں کیونکہ آیورویدک کپڑے جِلد کے لیے مفید ہوتے ہیں اور انہیں پہننے سے بلڈ پریشر اور ہائپرٹینشن جیسی بیماریاں نہیں ہوتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ’ آیورودیک برقعے بنا کیسی کمیکل کے جڑی بوٹیوں سے بنے رنگوں میں ڈائی کیے جاتے ہیں جس سے جب ان برقعوں کو پہن کر خواتین دھوپ میں نکلتی ہیں تو انہ?ں کیمیکل رنگوں سے ہونے والی پریشانی نہیں ہوتی ہے،۔

دلی میں واقع انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے ایک ڈاکٹر این سینی کا کہنا ہے کہ ’یہ بات صحیح ہے کہ آیورودیک کے ذریعے جلد کی بیماریاں، شگر اور بلڈ پریشر جیسی بیماریوں کا علاج ممکن ہے اور آیورویدک کپڑوں سے بھی فائدہ ہوتا ہے لیکن اس بات کی سائنٹفک اسٹڈی ہونی چاہیے کہ ان آیورودیک کپڑوں سے کتنا فائدہ ہوتا ہے،۔ مسٹر راجن نے بتایا کہ انکی کمپنی ہندوستانی حکومت کے ساتھ ملکر کام کرتی ہے اور آیورودیک کپڑے باقاعدہ بیچنے سے پہلے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

ان کی کمپنی ہر ماہ سعودی عرب کو سات سو سے زائد اور امریکہ کو پانچ سو برقعے برآمد کرتی ہے۔ مسٹر راجن کا کہنا تھا کہ آیورودیک برقعے نہ صرف سعودی عرب، عمان جیسے ممالک میں مقبول ہو رہے ہیں بلکہ اٹلی، فرانس، انگلینڈ اور خود جنوبی ہندوستان میں یہ برقعے کافی مقبول ہیں۔مسٹر راجن کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی ہسپتالوں میں بھی آیورویدک کپڑے فروخت کر رہی ہے۔ ہسپتالوں میں یہ کپڑے جلد، شگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے استعمال میں لائے جاتے ہیں۔آیورویدک قدیم ہندوستان کا جڑی بوٹیوں پر مبنی طبی علاج کا طریقہ کار ہے۔ آیورودیک کپڑا ’اورگنک کپڑا، ہوتا ہے جس میں جڑی بوٹیوں سے بنے رنگوں کا استمعال ہونا عام ہے۔
03/09/2007 - 20:22:04 :وقت اشاعت