بند کریں
صحت صحت کی خبریں ہر سال بچوں میں ذہنی و جسمانی بیماریاں بڑھ رہی ہے ، کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں ماہرین نہیں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 14/05/2015 - 14:48:47 وقت اشاعت: 14/05/2015 - 13:58:09 وقت اشاعت: 14/05/2015 - 12:21:43 وقت اشاعت: 14/05/2015 - 12:05:09 وقت اشاعت: 13/05/2015 - 22:42:49 وقت اشاعت: 13/05/2015 - 22:25:18 وقت اشاعت: 13/05/2015 - 20:58:34 وقت اشاعت: 13/05/2015 - 20:36:51 وقت اشاعت: 13/05/2015 - 20:28:29 وقت اشاعت: 13/05/2015 - 19:30:02 وقت اشاعت: 13/05/2015 - 19:17:47

ہر سال بچوں میں ذہنی و جسمانی بیماریاں بڑھ رہی ہے ، کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں ماہرین نہیں ہیں ،ڈاکٹر عاطف سعید انجم

جس کی وجہ سے زیادہ تعداد این آئی سی ایچ میں رپورٹ ہوتی ہے جن کو علاج و معالجہ اور ٹیسٹ کی تمام سہولیات مفت فراہم کررہے ہیں

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 13 مئی۔2015ء )کراچی سمیت صوبے بھرمیں ہر سال بچوں میں ذہنی و جسمانی بیماریوں میں اضافہ ہورہاہے جس کی روک تھام کے لئے سرکاری اسپتال میں صرف چند ہی ماہر نیوروسائیکاٹرک ہے جس کی وجہ سے مریض بچوں اور ان کے والدین کو مشکلا ت کا سامنا کرناپڑرہاہے۔ذرائع نے بتایا کہ صوبے بھر کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں صرف چند بچوں کے ذہنی بیماریوں کے ماہرہیں جوکہ بڑی تعداد میں مبتلا مریض بچوں کا علاج و معالجہ نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے وہ نجی اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں جہاں پر ان کا وقت اور پیسہ ضائع ہورہاہے جبکہ کراچی کے سول اسپتال،جناح اسپتال ،عباسی شہید اسپتال سمیت دیگر میں بچوں میں ذہنی بیماریوں کے ماہرین نہیں ہیں جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔

اس حوالے سے صوبے میں بچوں کی بیماری کے سب سے بڑے قومی ادارہ صحت برائے اطفال اسپتال کراچی میں ماہر نیوروسیکاٹرک ڈاکٹر عاطف سعید انجم نے ’’‘‘ کوبتایاکہ ہر سال بچوں میں ذہنی و جسمانی بیماریاں بڑھ رہی ہے او ر کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں ماہرین نہیں ہیں جس کی وجہ سے زیادہ تعداد این آئی سی ایچ میں رپورٹ ہوتی ہے جن کو علاج و معالجہ اور ٹیسٹ کی تمام سہولیات مفت فراہم کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ این آئی سی ایچ کی ذہنی بیماریوں کی او پی ڈی میں ہر ماہ2ہزار سے زائد مریض بچے رپورٹ ہوتے ہیں جن کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہورہاہے۔انہوں نے کہاکہ کراچی سمیت صوبے کے مختلف ڈسٹرکٹ سے بھی والدین اپنے بچوں کو این آئی سی ایچ اسپتال میں صبح لاتے ہیں اور سہ پہر کو واپس چلے جاتے لیکن اگر ڈسٹرکٹ لیول کے اسپتالوں میں بھی بچوں میں ذہنی بیماری کے ڈاکٹروں کو تعینات کیا جائے تو بیماری کی شرح میں کمی ہوگی اور مریض بچوں کے والدین کو بھی مشکلات کاسامنا نہیں کرناپڑے گا۔

13/05/2015 - 22:25:18 :وقت اشاعت