تنخوا دار طبقے کے لئے انکم ٹیکس کی حد 4 سے 5 لاکھ روپے کرنے کی سفارش مسترد

آئندہ مالی بجٹ میں سرکاری ملازمین کو 6 سے 10 فیصد تک ایڈک ریلیف دینے پر غور

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 17 مئی۔2015ء) وزارت خزانہ نے تنخوا دار طبقے کے لئے انکم ٹیکس کی حد 4 لاکھ روپے سے 5 لاکھ روپے کرنے کی سفارش مسترد کر دی ہے آئندہ مالی بجٹ میں سرکاری ملازمین کو 6 سے 10 فیصد تک ایڈک ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں سرکاری ملازمین کے لے انکم ٹیکس کی موجودہ شرح 4 لاکھ روپے سے بڑھا کر 5لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی گئی ۔

(جاری ہے)

تاہم اس تجویز کو اس وجہ سے مسترد کر دیا گیا کہ اس سے ٹیکسوں کی وصولی کی شرح میں کمی کا خدشہ ہے ۔ ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین سے وصول ہونے والی انکم ٹیکس کی شرح اس وقت 25 فیصد ہے آئندہ مالی سال کے لئے پیش کئے جانے والے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کو ایک بار پھر ایڈہاک ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے جو کہ 6 فیصد سے 10 فیصد ہونے کا امکان ہے اس کے ساتھ ساتھ پنشن میں بھی 10 فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے ۔ وزارت خزانہ کے حکام مل بھر کے سرکاری ملازمین کی جانب سے تنخواہوں کے بنیادی پے سکیل میں بھی اضافے کے مطالبات پر غور کر رہے ہیں تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔

Your Thoughts and Comments