بند کریں
صحت صحت کی خبریں پاکستان اور افغانستان کا پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے مشترکہ طو ر پر اقدامات اٹھانے کا فیصلہ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 05/06/2015 - 15:24:06 وقت اشاعت: 05/06/2015 - 14:48:21 وقت اشاعت: 05/06/2015 - 14:15:52 وقت اشاعت: 04/06/2015 - 16:47:18 وقت اشاعت: 04/06/2015 - 16:45:24 وقت اشاعت: 04/06/2015 - 14:43:49 وقت اشاعت: 04/06/2015 - 13:36:11 وقت اشاعت: 04/06/2015 - 12:45:32 وقت اشاعت: 03/06/2015 - 16:33:21 وقت اشاعت: 03/06/2015 - 16:25:56 وقت اشاعت: 03/06/2015 - 15:53:39

پاکستان اور افغانستان کا پولیو وائرس کے خاتمے کے لئے مشترکہ طو ر پر اقدامات اٹھانے کا فیصلہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 04 جون۔2015ء) پاکستان اور افغانستان کے صحت کے حکام نے اس بات پر اتفاق کیا ہے پولیو کے خاتمے کے لئے دونوں ممالک مشترکہ طو ر پر اقدامات اٹھائیں گے میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیو کے خاتمے اور اس سے مشترکہ طور پر نمٹنے کے لئیے دونوں ممالک کے درمیان 16اور17 اپریل کو کابل میں میٹنگ کا شیڈول طے تھا جس میں اقوام متحدہ کے نمائندوں کی بھی شرکت متوقع تھی تاہم افغان حکام کی جانب سے پاکستان کو مطلع کیا گیا کہ انہیں اینٹلی ایجنس کی طرف سے سکیورٹی کلےئرنس کا انتظار ہے بعد ازاں یہ میٹنگ منسوخ کر دی گئی گزشتہ روز یہاں اسلام آباد میں پولیو کے خاتمے کے حوالے سے دونوں ممالک کے صحت کے حکام کے درمیان اجلاس ہوا پاکستان کی جانب سے وزیراعظم پولیو شکایت سیل کی فوکل پر سن سینیٹر عائشہ فاروق رضا جبکہ افغان حکام کی جانب سے سینئیر ہیلتھ ایڈوائزر ڈاکٹر ہدائیت اللہ ستنکزئی نے شرکت کی اجلاس میں دونوں ممالک کے حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک سرحد کے دونوں اطراف پولیو وائرس کی منتقلی کے خلاف مشترکہ طور پر اقدامات اٹھائیں گے پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2500 کلومیٹر کا طویل بارڈر ہے جس سے پولیو وائرس دونوں ممالک میں باآسانی منتقل ہو جا تا ہے یا د رہے کہ پاکستان 16 لاکھ افغان پناہ گزینوں کا بو جھ اٹھا رہا ہے وزیراعظم پولیو شکائیت سیل کی فوکل پر سن عائشہ فاروق نے میڈیا کو بتایا کہ گزشتہ دو سال میں دو پولیو وائرس پاکستان سے افغانستان منتقل ہوئے تھے جبکہ رواں سال تین پولیو وائرس افغانستان سے پاکستان منتقل ہوئے اسی تناظر میں دونوں مما لک نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایک ہی وقت میں دونوں ممالک کو پو لیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے مشترکہ طور پر کا م کرنا ہوگا ۔

انہوں نے کہا دونوں ممالک کے طویل بارڈر پر طور خم اور چمن صرف دو انٹری پوائنٹس ہیں جہاں سے لوگ غیر قانونی طو ر پر ایک دوسرے کے ممالک میں داخل ہوتے ہیں جبکہ ان پوائنٹس پر غیر معیاری ویکسین کی بہت سی شکائت مو صو ل ہوئی ہیں ہم نے سیکرٹری خیبر پختونخواہ ، فاٹا اور بلوچشان کی انتظامیہ کے سامنے بھی یہ معاملہ اٹھایا ہے اور انہیں ہدائت کی ہے کہ وہ سر حد پر نگرانی کے عمل کو یقینی بنائے ۔ سرکاری بیان کے مطابق اجلاس میں افغان ایڈوائز نے پا کستان کی جانب سے سرحد پر پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے کئے جانے والے اقداما ت کو بھی سراہا ۔

04/06/2015 - 14:43:49 :وقت اشاعت