بند کریں
صحت صحت کی خبریںشہدائے لال مسجد کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے، مولانا عبدالغفار ،عبدالرشید غازی اور ساتھیوں ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 09/10/2007 - 11:56:55 وقت اشاعت: 09/10/2007 - 11:15:16 وقت اشاعت: 08/10/2007 - 21:07:52 وقت اشاعت: 07/10/2007 - 18:46:16 وقت اشاعت: 06/10/2007 - 12:23:41 وقت اشاعت: 05/10/2007 - 16:44:56 وقت اشاعت: 04/10/2007 - 16:18:14 وقت اشاعت: 04/10/2007 - 11:03:48 وقت اشاعت: 02/10/2007 - 14:44:40 وقت اشاعت: 01/10/2007 - 19:09:44 وقت اشاعت: 01/10/2007 - 19:09:44

شہدائے لال مسجد کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے، مولانا عبدالغفار ،عبدالرشید غازی اور ساتھیوں نے ملک میں نفاذ شریف کیلئے جانیں قربان کیں، حکمران زبردستی اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبات سے دستبردار نہیں کرا سکے، غازی شہید کے ادھورے مشن کو پورا کریں گے، لال مسجد کے قائم مقام خطیب کا نماز جمعہ کے دوران خطبہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔5اکتوبر۔ 2007ء) لال مسجد کے قائم مقام خطیب مولانا عبدالغفار نے کہا ہے کہ علامہ عبدالرشید غازی، حسان بن عبدالعزیز سمیت سینکڑوں طلبہ و طالبات نے جس مقصد کیلئے جانیں قربانی کی ہیں ان کا خون رائیگاں نہیں ہونے دیا جائیگا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے لال مسجد کو تین ماہ بعد کھولے جانے کے بعد خطبہ جمعہ کے دوران کیا۔

مولانا عبدالغفار نے کہا کہ واقعہ لال مسجد دور جدید کا سانحہ کربلا ہے، جس پر ہر مسلمان تو کیا ہر انسان دکھی ہے۔ ہم کبھی اپنی بے بسی اور کبھی ان کی شہادت پر روتے ہیں۔ غازی اور ان کے ساتھیوں نے جس مقصد کیلئے جانیں قربان کی ہیں س کا مقصد ملک میں نفاذ شریعت تھا۔ یہ حکمرانوں کی بھول ہے کہ وہ ظلم و ستم سے اسلامی نظام کے نفاذ کے مطالبات سے دستبردار کرا لیں گے، ہم غازی شہید کے ادھورے مشن کو پورا کر کے دم لیں گے۔

ہمارا مطالبہ غیر اسلامی یا غیر آئینی نہیں ہے، پاکستان کے قیام کا مقصد ہی یہی تھا اور اس مطالبے کو پورا کرنے کیلئے سینکڑوں لوگوں کی جانیں قربان کی گئی ہیں، حکمرانوں نے قیام پاکستان کی قربانیوں کو فراموش کر دیا ہے، مولانا عبدالغفار نے کہا کہ مولانا عبدالعزیز کی تین نسلیں شہید ہو چکی ہیں، جن میں مولانا کی والدہ، مولانا کا بھائی اور مولانا کا بیٹا تینوں کو شہید کر دیا گیا۔

انہوں نے لال مسجد کھولنے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو تاریخی فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکمرانوں کو سپریم کورٹ کا فیصلہ پسند نہیں آیا۔ اٹارنی جنرل کہہ رہے ہیں کہ لال مسجد کھولنے کا فیصلہ غلط ہے۔ اٹارنی جنرل کو شرم آنی چاہئے کیا مساجد کو شہید کرنا، معصوم طلبہ و طالبات کے خون سے ہولی کھیلنا قانون سے تجاوز نہیں ہے۔

انہوں نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ گولیاں اور بم تو دشمن کیلئے تھے، کیا اہل دین تمہارے دشمن تھے۔ ہماری فوج خود اپنے بھائیوں سے برسر پیکا ہے، کل تک فوج کو عقیدت، احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا، لوگ سلام کرتے تے۔ آج کل جو کچھ ہو رہا ہے وہ تمام رد عمل ہے اور حد سے تجاوز کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے لال مسجد کھولنے کے فیصلے کیخلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کی تو ہم حکومت کیخلاف ملک گیر احتجاج کریں گے اور یہ احتجاج شہید کی گئیں مساجد کی تعمیر تک جاری رہیگا۔

مولانا نے مزید کہا کہ جو بھی وفاق اور ہمارے اکابرین کیخلاف زہر اگل رہے ہیں لال مسجد دپر پہلی گولی وفاق المدارس والوں نے چلائی کہنے والے مشرف اور دشمنوں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں حالانکہ مولانا عبدالعزیز نے مفتی تقی عثمانی، مولانا سلیم اللہ خان وغیرہ کو اپنے سر کا تاج کہا ہے۔
05/10/2007 - 16:44:56 :وقت اشاعت