بند کریں
صحت صحت کی خبریں ڈینگی سے شرح اموات دیگر امراض سے بہت کم ہے، ڈاکٹر عبدالرؤف

صحت خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2015 - 13:35:12 وقت اشاعت: 11/08/2015 - 11:34:16 وقت اشاعت: 10/08/2015 - 14:59:40 وقت اشاعت: 10/08/2015 - 12:30:00 وقت اشاعت: 08/08/2015 - 16:35:36 وقت اشاعت: 07/08/2015 - 16:38:15 وقت اشاعت: 07/08/2015 - 12:44:42 وقت اشاعت: 06/08/2015 - 16:48:18 وقت اشاعت: 06/08/2015 - 16:47:19 وقت اشاعت: 06/08/2015 - 16:27:57 وقت اشاعت: 06/08/2015 - 14:46:05

ڈینگی سے شرح اموات دیگر امراض سے بہت کم ہے، ڈاکٹر عبدالرؤف

فیصل آباد ۔7اگست (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔07اگست۔2015ء)ڈینگی عام بخار کی طرح ہے جس کی شرح اموات دیگر امراض سے بہت کم ہے، احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ڈینگی وائرس کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال فیصل آباد کے ایم ایس ڈاکٹر عبدالرؤف نے جمعہ کے روز یہاں اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔07اگست۔2015ء سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ملیریا اور ٹائیفائیڈ ڈینگی سے زیادہ خطرناک ہیں ۔ ملیریا کی شرح اموات 7فیصد ہے جبکہ ڈینگی کی شرح اموات 0.02 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہارٹ اٹیک کی شرح اموات 11فیصد جبکہ حادثات کی شرح اموات 14فیصد ہے ۔انہوں نے کہا کہ ڈینگی بخار ایک ہفتے میں خود بخود ٹھیک ہو جانے والا بخار ہے مگر لوگوں کے ذہنوں میں ڈینگی بخار کا خوف ہوتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ڈینگی کے بارے میں شعور اور آگاہی کی اشد ضرورت ہے۔ حکومت ، محکمہ ہیلتھ و دیگر حکومتی ادارے ڈینگی بخار سے بچاؤ کے سلسلے میں لوگوں میں شعور اور آگاہی پیدا کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ ڈاکٹر عبدالرؤف نے کہا کہ ڈینگی بخار معمولی نوعیت کا بخار ہے جو نظام مدافعت سے سات یوم کے اندر ڈینگی کے وائرس کو خود بخود ختم کر دیتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 50ملین افراد ڈینگی سے متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کو ڈینگی سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے اور خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈینگی بخار کی ابتدا 2006ء میں ہوئی تھی جس میں کم و بیش 4800افراد کے خون کو مچھروں نے زہر آلود کیا تھا اور اس زہر کی بناء پر 50سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ طبی ماہرین کو ہسپتالوں میں مریضوں پر خصوصی توجہ کے ساتھ ساتھ ان کے علاج معالجے پر بھی خصوصی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

07/08/2015 - 16:38:15 :وقت اشاعت