بند کریں
صحت صحت کی خبریںپاک بھارت تعلقات میں مزید بہتری آنی چاہیے اورمختلف شعبہ ہائے زندگی کی خواتین کے وفود کا تبادلہ ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 08/11/2007 - 18:31:05 وقت اشاعت: 06/11/2007 - 18:11:00 وقت اشاعت: 06/11/2007 - 18:03:26 وقت اشاعت: 05/11/2007 - 23:30:56 وقت اشاعت: 05/11/2007 - 14:37:24 وقت اشاعت: 03/11/2007 - 18:06:28 وقت اشاعت: 03/11/2007 - 11:31:02 وقت اشاعت: 31/10/2007 - 13:45:40 وقت اشاعت: 30/10/2007 - 12:18:31 وقت اشاعت: 29/10/2007 - 21:40:30 وقت اشاعت: 28/10/2007 - 16:49:34

پاک بھارت تعلقات میں مزید بہتری آنی چاہیے اورمختلف شعبہ ہائے زندگی کی خواتین کے وفود کا تبادلہ ہونا چاہیے ‘عظمیٰ بخاری

لاہور (اردوپوا ئنٹ اخبار تازہ ترین03انومبر2007 )پاکستان کی سیاستدان‘ ڈاکٹرز‘ سوشل ورکرز اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے زور دیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آنی چاہیے‘ ویزہ پالیسی نرم ہونی چاہیے۔ دونوں ملکوں کو وسائل باہمی دشمنی پر خرچ کرنے کی بجائے عام آدمی کی معاشی حالت بہتر بنانے پر خرچ کرنے چاہیے۔

دونوں ملکوں کے مختلف شعبہ ہائے زندگی کی خواتین کے وفود کا تبادلہ ہونا چاہیے اور خواتین کی ترقی کیلئے مل جل کر کوششیں کرنی چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستانی خواتین کے 35 رکنی وفد کی قائد رکن پنجاب اسمبلی پیپلزپارٹی شعبہ خواتین پنجاب کی جنرل سیکرٹری عظمیٰ بخاری نے بھارت کے دورے سے روانگی سے قبل واہگہ بارڈر پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

یہ وفد چار روزہ دورے پر گزشتہ روز بھارت کیلئے روانہ ہوا۔ وفد کی خواتین آج اجمیر شریف میں دربار پر حاضری دیں گی اور بعدازاں دہلی میں اہم ملاقاتیں اور تقریبات میں شرکت کریں گی۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پاکستان اور بھارت بات چیت سے اپنے مسائل حل کرکے اپنے وسائل کو اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ماضی میں متعدد بار پاکستان اور بھارت کو جنگوں کا سامنا کرنا پڑا جس باعث دونوں ملکوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔

دونوں ملکوں کے عوام نفرت کی بجائے محبت پر مبنی تعلقات کو بڑھانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا اب دنیا کے حالات بدل رہے ہیں اور دنیا میں معاشی‘ تعلیمی ترقی کی طرف حالات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا دونوں ملکوں کے عوام قریب آئیں گے تو پاکستان اور بھارت کے حالات زیادہ بہتر ہوسکیں گے۔ اس لیے ویزہ پالیسی میں نرمی کی ضرورت ہے۔
03/11/2007 - 18:06:28 :وقت اشاعت