بند کریں
صحت صحت کی خبریںیونیسف اورحکومت بلوچستان کے درمیان صوبے میں بچوں اورماؤں کی غذائی نشوونما کے حوالے سے باہمی ..

صحت خبریں

وقت اشاعت: 25/08/2015 - 16:40:19 وقت اشاعت: 25/08/2015 - 13:07:56 وقت اشاعت: 25/08/2015 - 13:01:08 وقت اشاعت: 21/08/2015 - 16:07:19 وقت اشاعت: 20/08/2015 - 16:32:21 وقت اشاعت: 20/08/2015 - 16:27:21 وقت اشاعت: 20/08/2015 - 15:45:19 وقت اشاعت: 20/08/2015 - 14:04:16 وقت اشاعت: 20/08/2015 - 13:33:22 وقت اشاعت: 20/08/2015 - 12:51:23 وقت اشاعت: 20/08/2015 - 11:09:19

یونیسف اورحکومت بلوچستان کے درمیان صوبے میں بچوں اورماؤں کی غذائی نشوونما کے حوالے سے باہمی سمجھوتے پر دستخط ہوگئے

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 20 اگست۔2015ء)یونیسف اورحکومت بلوچستان کے درمیان بلوچستان میں بچوں اورماؤں کی غذائی نشوونما کے حوالے سے باہمی سمجھوتے پر دستخط ہوگئے یونیسف کی طرف سے معاہدے پر یونیسف کی پاکستان میں نمائندہ انجیلا کرنی(Angela Kearney)اور ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ عبداللہ خان نے دستخط کئے۔اس موقع پر ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر نصیر بلوچ ،یونیسف پاکستان کے اسپیشلسٹ آفیسر Aniahitta Sherzad،صوبائی کوارڈینیٹر نیوٹریشن پروگرام ڈاکٹر علی ناصر بگٹی، ڈپٹی پروگرام منیجر ڈاکٹر صادق بلوچ،میڈیکل آفیسر نیوٹریشن سیل ڈاکٹر غلام مصطفی بھی موجودتھے۔

اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انجیلا کرنی نے کہا کہ یونیسف اور حکومت بلوچستان کے درمیان پانے والے معاہدے سے بلوچستان میں عوام الناس کی صحت سے متعلق امور کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی خصوصاً ماوں اوربچوں کی خوراک کی صورتحال کوصحیح سمت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ماں اوربچوں کو خوراک کی فراہمی کے حوالے سے جس باہمی سمجھوتے پر دستخط کئے گئے ہیں حکومت بلوچستان کیلئے معاون ثابت ہوگا اور صحت،تعلیم اور صفائی کی صورتحال کے حوالے سے کافی دوررس ثابت ہوگا۔

ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ عبداللہ جان نے کہا کہ میرے لئے خوشی کی بات ہے کہ آج اس تقریب میں ماں اور بچوں کی غذائیت کے حوالے سے باہمی سمجھوتے پر دستخط کئے گئے ہیں میں سیکرٹری صحت نورالحق بلوچ، صوبائی کوارڈینیٹر نیوٹریشن پروگرام ڈاکٹر علی ناصر بگٹی ،ڈاکٹرغلام مصطفی اور دیگر افراد کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس باہمی سمجھوتے کے حوالے سے کوششیں کیں ۔


انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ مشترکہ کوششوں اور عزم سے ہم ماؤں اوربچوں کی غذائیت کے حوالے سے طے شدہ مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے اورمحکمہ صحت اس باہمی سمجھوتے کو عملی صورت دینے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔اس موقع پر صوبائی کوارڈی نیٹر نیوٹریشن پروگرام ڈاکٹر علی ناصر بگٹی نے بتایا کہ محکمہ صحت حکومت پاکستان اور آغا خان یونیورسٹی کے زیراہتمام ایک سروے پورے ملک میں ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے کرایا گیاجس کے مطابق بلوچستان میں 16فیصد بچے شدید غذائی کمی کا شکار ہیں وزن کے اعتبار سے 40فیصد بچے اپنی عمر کے لحاظ سے کم وزن ہیں اور 52فیصد بچے ایسے ہیں جو اپنی عمر کے لحاظ سے قد کی لمبائی میں چھوٹے ہیں اس طرح سے وٹامن اے کی کمی کا 61فیصد خواتین اور 74فیصد بچے وٹامن اے کی کمی کا شکار ہیں 49فیصد خواتین خون میں آئرن کی کمی کا شکار ہیں اوراسی طرح سے 57فیصد بچے خون میں آئرن کی کمی کاشکار ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت بلوچستان اور یونیسف کے درمیان بچوں کی غذائی نشوونما کے حوالے سے خاص طور پر تیار شدہ غذائیت سے بھر پور اشیاء خریدنے کا معاہدہ طے پایا ہے کیونکہ ان غذائیت سے بھر پور خوراک کی پاکستان میں نہ ہی پیداوار ہوتی ہے اور نہ ہی مارکیٹ میں اسکی فراہمی ہے اس لئے یونیسف کا ادارہ ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے انہیں صوبائی ڈائریکٹریٹ محکمہ صحت بلوچستان کو مہیا کریگاجس میں ہلکی غذائیت سے بھر پور دودھ جسے ایف 75،بھرپور غذائیت والا دودھ جسے ایف 100،قدرتی عناصر سے بھرپور حیاتیاتی اور وٹامنز والا پاؤر جو بچوں کی غذامیں شامل کیا جاتا ہے Rutfجوکہ غذائیت سے بھر پور پہلے سے تیار شدہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے پانچ بنیادی اجزاء ہیں جس میں بچوں اور حاملہ ،دودھ پلانے والی خواتین کی عمومی غذائی کمی پر قابو پانا،بچوں اورحاملہ ،دودھ پلانے والی خواتین میں مخصوص غذائی عناصر کی کمی پرقابو پانا ، بذریعہ ذرائع ابلاغ لوگوں کے رویئے میں غذائیت کے حوالے سے تبدیلی لانا ،محکمہ صحت میں صوبائی اور صلعی سطح پر صحت عامہ کے اداروں کو مضبوط بنانا اورغذائی نشوونما میں بہتری لانے کیلئے نگرانی کرنے اور جانچنے کے نظام کو موثربناناشامل ہے۔

ڈاکٹر علی ناصر بگٹی نے بتایا کہ بلوچستان میں ماؤں اور بچوں کی غذائی نشوونما کے پروگرام کا مقصد ماؤں اور بچوں کی افزائش کو بہتر بنانا ہے اور بذریعہ غذا 5سال کی عمر کے لڑکے اور لڑکیوں کی صحت بذریعہ پراثر قوت بخش غذا مہیا کرکے صوبے کے منتخب اضلاع میں محکمہ صحت کے کارکنان کے ذریعے کام کو شروع کرنا ہے یہ پروگرام بلوچستان کے 7اضلاع پنجگور، نوشکی ، ژوب، قلعہ سیف اللہ ،کوہلو ،سبی ، خاران میں شروع کیا گیا ہے جس پر پروانشل پرائم منسٹر ہیلتھ انیشیٹو ،لیڈی ہیلتھ ورکر پروگرام ،نان گورنمنٹ آرگنائزیشن ،کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشن (جن علاقوں میں محکمہ صحت کے ادارے میں ہیں اور وہ سروسز مہیا نہیں کررہے )ان علاقوں میں اس پروگرام پر عملدرآمدکیا جائے گا۔

20/08/2015 - 16:27:21 :وقت اشاعت