فلوودیگرموسمی امراض سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔طبی ماہرین۔۔۔موسم سرما نزلہ‘ زکام‘کھانسی ‘نمونیہ‘ الرجی اور دمہ سمیت کئی امراض کا باعث بن سکتا ہے‘کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان

لاہور(اردوپوائنٹ اخبا ر تازہ ترین 14. دسمبر2007 ) سردی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیراختیارنہ کی جائیں تو موسم سرما نزلہ‘ زکام‘کھانسی ‘کرونک سائینوسائٹس(دائمی زکام )نمونیہ‘سینے کے انفیکشن، الرجی اور دمے سمیت کئی امراض کا باعث بن جاتا ہے ۔ سرد ہوائیں سانس کی بیشتر امراض کا سبب بنتی ہیں۔ سردی سے جو بیماری عام طور پر وقوع پذیر ہوتی ہے وہ زکام یا کامن کولڈ ہے۔

زکام فوری طور پرایک شخص سے دوسرے میں سرایت کرجاتاہے ۔ انفیکشن کے 12سے 72گھنٹوں میں علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ان خیالات کا اطہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد ‘سابق صدر وممبر قومی طبی کونسل حکیم رضوان حفیظ ملک ‘ممبر نیشنل کونسل فار طب حکیم راحت نسیم سوہدروی ‘چیئرمین آلٹرنیٹو میڈیسن حکیم افضل میونے شعور صحت کے حوالے سے کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ ہفتہ وارمجلس مذاکرہ میں کیا ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ زکام شروع ہوتے ہی تمام نظام تنفس خصوصاًناک کی اندرونی تہوں میں ورم ہوجاتا ہے جس سے ایک یا دونوں نتھنے بند ہوجاتے ہیں ۔ سانس میں دشواری کے علاوہ نتھنوں سے مسلسل پانی جیسا مواد بہنے لگتاہے ۔اسکے بعد چھینکوں کی یلغار اور آنکھوں سے آنسو شروع ہوجاتے ہیں۔گلے میں درد کے علاوہ پورے جسم میں درد اور مریض بے چینی محسوس کرنے لگتاہے ۔

اوربڑوں سمیت بچوں میں اکثر بخاربھی ہوجاتاہے ۔یہ علامات انفلوانزا یاکسی اور انفیکشن کی بھی ہو سکتی ہیں لہذا خود علاجی کی بجائے ماہرمعالج سے مشاورت ضروری ہے ۔طب جدید کے مطابق زکام کا باعث کئی وائرس بنتے ہیں۔ ان میں رائینووائرس ‘کوکس ساکی وائرس اورکرونا وائرس خاص طور پرقابل ذکر ہیں یہ وائرس یا کوئی اور وائرس جس سے زکام شروع ہوکسی بھی دوائی سے مرتے نہیں یعنی عام زکام کیلئے آج تک کوئی بھی(ایلوپیتھک) دوائی ایجاد نہیں ہوئی اسلئے ان وائرسوں کے خاتمے کیلئے انٹی بایوٹیک ادویات کا استعمال بے معنی ہے۔

البتہ جڑی بوٹیوں پر مشتمل جوشاندہ صدیوں سے اس مرض کیلئے مستعمل ہے اور اچھے نتائج دیتا ہے۔اس کے علاوہ کالی مرچ پاوٴڈرایک چٹکی‘دارچینی پاوٴڈرتین چٹکی اور شہد ایک بڑاچمچ ملا کر ہربل ٹی بنائیں ۔یہ ٹی نزلہ و زکام ‘گلے کی خراش ‘ملیریا‘ فلواور سردی میں بہت فائدہ مند ہے۔زکام کے مریض کی غذا میں کاربوہائیڈریٹ ‘ پروٹین‘ حیاتین اور لازمی نمکیات کا شامل ہونا بے حد ضروری ہے ۔

نیم گرم مشروبات (یخنی‘سوپ‘شوربہ‘چائے ‘کوفی ‘پانی وغیرہ)کی وافرمقدار مریض کے لئے لازمی ہے ۔ بند ناک کے عذاب سے نجات پانے کیلئے امرت دھارا‘ سوڈا بائی کارب ‘نیم کے پتے یا نمک( میں سے کوئی ایک) ملے ہوئے نیم گرم پانی کو نتھنوں میں ڈالا جاسکتاہے ۔مریض گرم جگہ آرام کرے ۔بستر میں جانے سے قبل سٹیم لینے سے نظام تنفس کے بالائی حصوں کا ورم کم ہوجاتاہے بندناک کھل جاتی ہے ۔سردی میں کانوں ‘گردن ‘سر‘سینہ اور پاوٴں کوگرم کپڑے سے ڈھانپ کر رکھنا ضروری ہے ۔زکام کے مریض صابن سے دھوئے بغیر کسی سے ہاتھ ملانے اور بچوں کو اٹھانے سے گریز کریں۔

Your Thoughts and Comments